3 مئی یوم آزادی صحافت

تحریر : حافظ عمیرحنفی ترجمان پاسبان بزم قلم پاکستان

ہم اپنے معاشرہ پر ایک طاٸرانہ نگاہ دوڑاٸیں تو ہمیں بیشمار ناقابل حل مساٸل دیکھنے کو ملیں گے، ملکی سطح پر دیکھا جاۓ تو غربت ، ظلم وجبر ، ستم و تشدد ، اخلاقی فقدان ، بد تہذیبی ، بد عنوانی ، لوٹ مار ، کرپشن ، جاگیر داری اور ذی فلوس کا سکّہ چلتا نظر آۓ گا ، غریب اور مظلوم طبقہ کو معاشرہ سے ایک الگ فرد سمجھا جاتا ہے۔ علاقاٸ طور پر تصور باندھیں تو ایسی بیشتر سماجی معاشی معاشرتی براٸیاں دیکھنے کو ملیں گی کہ جو ناقابل قرطاس ہیں۔

ہم مجموعی طور پر موسمی قوم ہیں اور جزوی طور پر بے حس ساتھ میں ضمیر فروش اور تہذیب و شعور سے عاری بھی ہیں،
موسمی قوم اس لیے کہا ابھی “مزدور ڈے” پر ایسے مل کر نعرہ لگا رہے تھے جیسا کہ غریب کے تمام حقوق دلوا دیے ہو“ لیکن شاید ابھی تک ہماری جوٶں کو بھی یہ خواب نہ آیا ہوگا !! کہیں گستاخی ہو تو دو تین دن کے لیے ایسا جوش دکھاتے ہیں جیسے پوری دنیا سے گستاخوں کا صفایا ہم ہی کردینگے لیکن چند دن بعد پتہ ہی نہیں ہوتا کوٸ مسٸلہ بھی تھا مزے کی بات یہ کہ 14 اگست پر ہم پکے پاکستانی بھی ہوتے ہیں اور آگے پیچھے اس کے قوانین کو بھی بالاۓ طاق ڈال دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر جو بھی ہے

صحافی و رائٹر معاشرے کی ہر براٸ کو کھل کر بیان کرتا ہے نہ کہ جو اس کے من کو بھاۓ صحافی و راٸٹر ہر ظلم وستم کے خلاف مظبوط دیوار ہوتا ہے، صحافی و راٸٹر ہر معاشرتی پہلو کو اجاگر کرتا ہے، صحافی راٸٹر ہر اخلاقی برائی سے پردہ چاک کرتا ہے،صحافی و راٸٹر ہر مسٸلہ کو ہر فورم پر اجاگر کرتا ہے صحافی و راٸٹر فرقہ واریت اور لسانی تعصب سے کوسوں دور ہوتا ہے،صحافی و راٸٹر کی ذات وشخصیت بلند پایہ اخلاق رکھتی ہے، صحافی و راٸٹر کی صفت یہ ہے کہ وہ خندہ پیشانی سے ملتا ہے صحافی و راٸٹر وہ ہی ہوتا ہے جس کے دل میں علاقہ کی ترقی کے خواب ملک کی خوشحالی کے پلان ہوتے ہیں صحافی و راٸٹر وہ ہوتا ہے جو بغیر مطالبوں کے غریب اور مظلوم کی آواز بنتا ہے تو بتاٸیے کیا آپ صحافی یا راٸٹر ہیں ؟؟ جی میں بھی *پاسبان بزم قلم پاکستان* کا ایک راٸٹر ہوں میں اور آپ آج یوم آزادی صحافت کے موقع پر ایک عہد کرتے ہیں

دنیا کے ہر فورم پر غریب و مظلوم کی آواز بنیں گے ان شاء اللہ