جھنگ ( علی رحمان انصاری ) پریس کلب جھنگ کے صدر ملک لیاقت علی انجم نے کہا ہے کہ آزادی صحافت کا عالمی دن ہمیں صحافت کے پیشہ کی مشکلات میں جرات اور ذمہ داری کا پیغام دیتا ہے
یہ دن ملک کی سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ نڈر صحافیوں پر مظالم جیسے تکلیف دے واقعات کا تدارک کیسے کیا جائے.
یونین آف جرنلسٹ جھنگ اور پریس کلب جھنگ کیمرے کی آنکھ اور قلم کی حرمت کو سربلند کرنے والےعظیم صحافیوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم صحافت کے موقع پر صحافیوں کی لازوال قربانیوں اور مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے والے جراتمند صحافیوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا.
انہوں نے کہا کہ 3 مئی پیشہ پیغمبری ” صحافت ” کا عالمی دن ہے.  اس دن کو ہر ملک میں صحافت کے شعبہ سے وابستہ لوگ اپنی اپنی حکومتوں اور اپوزیشن کو باور کرواتے ہیں کہ وہ آزادی صحافت کی اہمیت کو پیش نظر رکھیں اور ساتھ ہی صحافت کے شعبہ سے وابستہ صحافیوں کی فلاح و بہبود اور معاشی مشکلات کے حل کیلئے عملی اقدامات کو یقینی بنائے. پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافیوں کو  بے شمار مسائل کا سامنا ہے، بدقسمتی سے آج بھی شعبہ صحافت کے ورکرز مختلف اداروں سے بغیر کسی نوٹس کے فارغ کئے جارہے ہیں جن کا مالی استحصال ہورہا ہے.
پریس کلب جھنگ کے سیکرٹری شیخ خرم سعید نے کہا کہ پریس کلب پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سنسرشپ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بنایا جائے.
پریس کلب جھنگ میڈیا ہاؤسز اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ماہ رمضان شریف کی عظمتوں کا لحاظ اور کورونا وبا کے پیش نظر مالی مشکلات کا شکار صحافیوں کو اداروں سے فارغ نہ کیا جائے اور  ان کا معاشی استحصال ہونے سے روکا جائے.
پریس کلب کے فنانس سیکرٹری رانا غلام عارف اور ایگزیکٹو ممبر جھنگ یونین آف جرنلسٹ محمد آصف چوہان نے بھی مطالبہ کیا کہ مقامی اخبارات کے لیے یے سرکاری، وفاقی و صوبائی استہارات کی بندش کا خاتمہ کرکے ان کو بحال کیا جائے اور جھنگ میں صحافی برادری کے لیے صحافی کالونی بنانے کا حکومتی وعدہ وفاقی و صوبائی حکومت پنجاب اپنے وعدہ کے مطابق فوری پورا کرے.