خلافت فاروقی ؓ کے کارنامے
) قسط نمبر19)
فوجداری اور پولیس: تحریر و پیشکش محمد نوید
===============
جہاں تک ہم تحقیق کر سکے مقدمات فوج داری کے لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی جدا محکمہ قائم نہیں کیا۔ بعض قسم کے مقدمات مثلاً زنا اور سرقہ، قضاۃ کے ہاں فیصل ہوتے تھے اور ابتدائی قسم کی تمام کاروائیاں پولیس سے متعلق تھیں۔ پولیس کا صیغہ مستقل طور پر قائم ہو گیا تھا اور اس وقت اس کا نام احداث تھا۔ چنانچہ افسران پولیس کو صاحب الاحداث کہتے تھے۔ بحرین پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کیا۔
قدامہ کو تحصیل مال گزاری کی خدمت دی۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تصریح کے ساتھ پولیس کے اختیارات دیئے۔ احتساب کے متعلق جو کام ہیں۔ مثلاً دوکاندار ترازو میں دھوکہ نہ دینے پائیں۔ کوئی شخص سڑک پر مکان نہ بنائے۔ جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے۔ شراب اعلانیہ بکنے نہ پائے وغیرہ ان تمام امور کا کافی انتظام تھا۔ اور اس کے لیے ہر جگہ اہل کار افسر مقرر تھے۔ لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ احتساب کا مستقل صیغہ قائم ہو گیا تھا۔ یا یہ خدمتیں بھی صاحب الاحداث سے متعلق تھیں۔ کنزالعمال میں جہاں ابن سعد کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بازار کی نگرانی کے لیے عبد اللہ بن عتبہ کو مقرر کیا تھا۔ وہاں لکھا ہے کہ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جیل خانہ کی ایجاد کا فعل عہدہ احتساب کا ماخذ ہے۔ ”
*جیل خانہ کی ایجاد:*
اس صیغے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جیل خانے بنوائے ورنہ ان سے پہلے عرب میں جیل خانے کا نام و نشان نہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ سزائیں سخت دی جاتی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اول مکہ معظمہ میں صفوان بن امیہ کا مکان چار ہزار درہم پر خریدا اور اس کو جیل خانہ بنایا (مقریزی جلد دوم صفحہ 187) اور اضلاع میں بھی جیل خانے بنوائے۔ علامہ بلاذری کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ کا جیل خانہ نرسل سے (فتوح البدان صفحہ 463) بنا تھا۔ اس وقت تک صرف مجرم قید خانے میں رکھے جاتے تھے۔ اور جیل خانے میں بھجواتے تھے۔
جیل خانہ تعمیر ہونے کے بعد بعض سزاؤں میں تبدیلی ہوئی۔ مثلاً ابو محجن ثقفی بار بار شراب پینے کے جرم میں ماخوذ ہوئے تو اخیر دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو حد کی بجائے قید کی سزا دی۔
*جلا وطنی کی سزا:*
جلا وطنی کی سزا بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایجاد ہے۔ چنانچہ ابو محجن کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سزا بھی دی تھی۔ اور ایک جزیرہ میں بھیج دیا تھا (اسد الغابہ ذکر ابو محجن ثقفی)۔
*محکمہ بیت المال یا خزانہ:*
==================
*بیت المال پہلے نہ تھا:*
یہ صیغہ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات سے وجود میں آیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں سب سے اخیر جو رقم وصول ہوئی وہ بحرین کا خراج تھا۔ جس کی تعداد آٹھ لاکھ درہم تھی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے کل رقم ایک ہی جلسہ میں تقسیم کر دی۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اپنی خلافت میں کوئی خزانہ نہیں قائم کیا بلکہ جو کچھ غنیمت کا مال آیا، اسی وقت لوگوں میں بانٹ دیا۔ چنانچہ پہلے سال دس دس درہم اور دوسرے سال بیس بیس درہم ایک ایک شخص کے حصے میں آئے۔ یہ کتاب الاوائل اور ابن سعد کی روایت ہے۔ ابن سعد کی ایک دوسری روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مکان بیت المال کے لیے خاص کر لیا تھا۔ وہ ہمیشہ بند پڑا رہتا تھا۔ کیونکہ جو کچھ آتا تھا اسی وقت تقسیم کر دیا جاتا تھا اور اس کی نوبت ہی نہیں پہنچتی تھی کہ خزانے میں کچھ داخل کیا جائے۔ وفات کے وقت بیت المال کا جائزہ لیا گیا تو صرف ایک درہم نکلا۔
*بیت المال کس سنہ میں قائم ہوا؟*
تقریباً 15 ہجری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بحرین کا عامل مقرر کیا۔ وہ سال تمام ہونے پر پانچ لاکھ کی رقم اپنے ساتھ لائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجلس شوریٰ کا اجلاس عام کر کے کہا کہ ایک رقم کثیر بحرین سے آئی ہے۔ آپ لوگوں کی کیا مرضی ہے ؟
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رائے دی کہ جو رقم آئے وہ سال کے سال تقسیم کر دی جائے اور خزانے میں جمع نہ رکھی جائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے خلاف رائے دی۔ ولید بن ہشام نے کہا میں نے سلاطین شام کے ہاں دیکھا ہے کہ خزانہ اور دفتر کا جدا جدا محکمہ قائم ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس رائے کو پسند کیا۔ اور بیت المال کی بنیاد ڈالی۔ سب سے پہلے دارالخلافہ یعنی مدینہ منورہ میں بہت بڑا خزانہ قائم کیا۔ اور چونکہ اسی کی نگرانی اور حساب کتاب کے لیے نہایت قابل اور دیانتدار آدمی کی ضرورت تھی۔
*بیت المال کے افسر:*
حضرت عبد اللہ ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی تھے اور لکھنے پڑھنے میں کمال رکھتے تھے ، خزانہ کا افسر مقرر کیا گیا۔ ان کے ساتھ اور لائق لوگ ان کے ماتحت مقرر کئے جن میں عبد الرحمنٰ بن عبید القاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معیقب بھی تھے۔ (کتب رجال میں معیقب دیکھو)۔ معیقب کو یہ شرف حاصل تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے انگشتری بردار تھے اور اس وجہ سے ان کی دیانت داری اور امانت ہر طرح پر قطعی اور مسلم الثبوت تھی۔
دارالخلافہ کے علاوہ تمام صوبجات اور صدر مقامات میں بیت المال قائم کئے۔ اور اگرچہ وہاں کے اعلیٰ حکام کو ان کے متعلق ہر قسم کے اختیارات حاصل تھے۔ لیکن بیت المال کا محکمہ بالکل الگ ہوتا تھا اور اس کے افسر جداگانہ ہوتے تھے۔ مثلاً اصفہان میں خالد بن حرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کوفہ میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاص خزانے کے افسر تھے۔
*بیت المال کی عمارتیں:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگرچہ تعمیر کے باب میں نہایت کفایت شعاری کرتے تھے لیکن بیت المال کی عمارتیں مستحکم اور شاندار بنوائیں۔ کوفہ میں بیت المال کے لیے اول ایک محل تعمیر ہوا جس کو روزابہ نامی ایک مشہور مجوسی معمار نے بنایا تھا اور جس کا مصالحہ خسروان فارس کی عمارت سے آیا تھا۔ لیکن جب اس میں نقب کے ذریعے چوری ہوئی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا کہ مسجد کی عمارت بیت المال سے ملا دی جائے۔ کیونکہ مسجد نمازیوں کے وجہ سے ہمیشہ آباد رہتی ہے اور ہر وقت لوگوں کا مجمع رہے گا۔ چنانچہ سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے روزابہ نے بیت المال کی عمارت کو اس قدر وسیع کیا کہ مسجد سے مل گئی اور اس طرح چوری وغیرہ کی طرف سے اطمینان ہو گیا۔ (یہ تمام تفصیل تاریخ طبری ذکر آبادی کوفہ میں ہے )۔
معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ مابعد میں زیادہ احتیاط کے لحاظ سے خزانے پر سپاہیوں کا پہرہ بھی رہنے لگا تھا۔ بلاذری نے لکھا ہے کہ جب طلحہ و زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باغی ہو کر بصرہ آئے اور خزانہ پر قبضہ کرنا چاہا تو سیاحہ کے 40 سپاہی خزانہ کے پہرے پر متعین تھے۔ اور انہوں نے طلحہ و زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ارادے کی مزاحمت کی۔ سیاحہ کی نسبت اسی مؤرخ نے تصریح کی ہے کہ وہ سندھ سے گرفتار ہو کر آئے تھے اور ایرانیوں کے فوج میں داخل تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جب ایران فتح ہوا تو یہ قوم مسلمان ہو گئی اور ابو موسیٰ نے ان کو بصرہ میں آباد کرایا۔ (فتوح البلدان از صفحہ 373 تا 376)۔
صوبجات اور اضلاع میں جو خزانے تھے ان کا یہ انتظام تھا کہ جس قدر رقم وہاں کے ہر قسم کے مصارف کے لیے ضروری ہوتی تھی رکھ لی جاتی تھی۔ باقی سال کے ختم ہونے کے بعد صدر خزانہ یعنی مدینہ منورہ کے بیت المال میں بھیج دی جاتی تھی۔ اس کے متعلق عمال کے نام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تاکیدی احکام آتے رہتے تھے۔ (عمرو بن العاص گورنر مصر کو جو فرمان لکھا گیا تھا اس میں یہ الفاظ تھے
” فاذا حصل الیک و جمعۃ اخرجت عطاء المسلمین وما یحتاج الیہ مما لا بدمنہ ثم انظر فیما فضل بعد ذلک فاحملہ الی۔ ” کنز العمال بحوالہ ابن سعد جلد 3 صفحہ 63)۔
یہ دریافت کرنا مشکل ہے کہ ہر جگہ کے خزانے میں کس قدر رقم محفوظ رہتی تھی۔
*جو رقم دارالخلافہ کے خزانہ میں رہتی تھی:*
مؤرخ یعقوبی کی تصریح سے اس قدر معلوم ہے کہ دارالخلافہ کے خزانے سے خاص دارالخلافہ کے باشندوں کو جو تنخواہیں اور وظائف مقرر تھے ، اس کی تعداد تین کروڑ سالانہ تھی۔
بیت المال کی حفاظت اور نگرانی میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو اہتمام تھا، اس کے متعلق تاریخوں میں بہت سے دلچسپ واقعات ہیں جن کی تفصیل ہم نظر انداز کرتے ہیں۔
*حضرت عمرؓ نے جو نہریں تیار کرائیں:*
==========================
*نہر ابی موسیٰ:*
نہر ابی موسیٰ، یہ نہر 9 میل لمبی تھی۔ جس کی تیاری کی تاریخ یہ ہے کہ ایک دفعہ بصرہ کے لوگ ڈپوٹیشن کے طور پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معمول کے موافق ایک ایک سے حالات پوچھے۔ ان میں حنیف بن قیس بھی تھے۔ انہوں نے نہایت پر اثر تقریر کی جو کتابوں میں باالفاظھا منقول ہے۔ اس بات کی شکایت کی کہ بصرہ بالکل شورستان ہے اور پانی چھ میل سے لانا پڑتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی وقت ابو موسیٰ کے نام اس مضمون کا تحریری حکم بھیجا کہ بصرہ کے لوگوں کے لیے نہر کھدوائی جائے۔ چنانچہ دجلہ سے 9 میل لمبی نہر کاٹ کر بصرہ میں لائی گئی جس کے ذریعہ سے گھر گھر پانی کی افراط ہو گئی۔
*نہر معقل:*
نہر معقل، یہ ایک مشہور نہر ہے جس کی نسبت عربی میں یہ مثل مشہور ہے: *اذا جاء نھر اللہ بطل نھر معقل،* یہ نہر دجلہ سے کاٹ کر لائی گئی تھی اور چونکہ اس کی تیاری کا اہتمام معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کیا گیا تھا جو ایک مقتدر صحابی تھے ، اس لیے انہی کے نام سے مشہور ہو گئی۔
*نہر سعد:*
نہر سعد، اس نہر کے لیے انبار والوں نے پہلے شہنشاہ فارس سے درخواست کی تھی۔ اسلام کا زمانہ آیا تو ان لوگوں نے سعد بن ابی وقاص (گورنر کوفہ) سے خواہش ظاہر کی۔ سعد نے سعد بن عمر کو مامور کیا۔ انہوں نے بڑے اہتمام سے کام کرایا۔ لیکن کچھ دور پہنچ کر پہاڑ بیچ میں آ گیا اور وہیں چھوڑ دی گئی۔ پھر حجاج نے اپنے زمانے میں پہاڑ کاٹ کر بقیہ کام پورا کیا۔ تاہم نہر سعد ہی کے نام سے مشہور ہوئی۔
*نہر امیر المومنین:*
سب سے بڑی اور فائدہ رساں نہر جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خاص حکم سے بنی وہ نہر تھی جو نہر امیر المومنین کے نام سے مشہور ہے اور جس کے ذریعے سے دریائے نیل کو بحر قلزم سے ملا دیا گیا تھا۔ اس میں مختصر تاریخ یہ ہے کہ 18 ہجری میں جب تمام عرب میں قحط پڑا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام اضلاع کے حکام کو لکھا کہ ہر جگہ سے کثرت کے ساتھ غلہ اور اناج روانہ کیا جائے۔ اگرچہ اس حکم کی فوراً تعمیل ہوئی۔ لیکن شام اور مصر سے خشکی کو جو راستہ تھا بہت دور دراز تھا۔ اس لیے غلہ کے بھیجنے میں پھر بھی دیر لگی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان وقتوں پر خیال کر کے عمرو بن العاص (گورنر مصر) کو لکھا کہ مصر کے باشندوں کی ایک جماعت ساتھ لے کر دارالخلافہ حاضر ہو۔ جب وہ آئے تو فرمایا کہ دریائے نیل کو اگر سمندر سے ملا دیا جائے تو عرب کو قحط گرانی کا کبھی اندیشہ نہیں ہو گا۔ ورنہ خشکی کی راہ غلہ کا آنا وقت سے خالی نہیں۔ عمرو نے واپس جا کر کام شروع کر دیا اور فسطات سے (جو قاہرہ سے دس بارہ میل ہے ) بحر قلزم تک نہر تیار کرائی۔ اس ذریعہ سے جہاز دریائے نیل سے چل کر قلزم میں آتے تھے۔ اور یہاں سے جدہ پہنچ کر لنگر کرتے جو مدینہ منورہ کی بندرگاہ تھی۔ یہ نہر تقریباً 96 میل لمبی تھی اور تعجب یہ ہے کہ چھ مہینے میں تیار ہو گئی۔ چنانچہ پہلے ہی سال 20 بڑے بڑے جہاز جن میں ساٹھ ہزار اردب غلہ بھرا ہوا تھا، اس نہر کے ذریعے سے مدینہ منورہ کی بندرگاہ میں آئے۔ یہ نہر مدتوں تک جاری رہی اور اس کے ذریعے سے مصر کی تجارت کو نہایت ترقی ہوئی۔ 105 ہجری میں منصور عباسی نے ایک ذاتی مصلحت سے اس کو بند کر دیا۔ لیکن بعد میں پھر جاری ہو گئی اور مدتوں جاری رہی۔ (یہ تفصیل حسن المحاضرہ سیوطی صفحہ 93 تا 94 مقریزی جلد اول صفحہ 71 و جلد دوم صفحہ 139 تا 144 میں ہے )۔
ایک اور عجیب و غریب بات یہ کہ عمرو بن العاص نے بحر روم و بحر قلزم کو براہ راست ملا دینے کا ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ اس کے لیے موقع اور جگہ کی تجویز بھی کر لی تھی۔ اور چاہا تھا کہ فرما کے پاس سے جہاں سے بحر روم اور بحر قلزم میں صرف 70 میل کا فاصلہ رہ جاتا ہے ، نہر نکال کر دونوں دریاؤں کو ملا دیا جائے۔ لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے ارادے سے اطلاع ہوئی تو ناراضگی ظاہر کی۔ اور لکھ بھیجا کہ اگر ایسا ہوا تو یونانی جہازوں میں آ کر حاجیوں کو اڑا لے جائیں گے۔ (تقویم البلدان ابو الفدار صفحہ 106)۔ اگر عمرو بن العاص کو اجازت ملی ہوتی تو نہر سویز کی ایجاد کا فخر درحقیقت عرب کے حصے میں آتا، لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دوراندیشی اور فراست نے مسلمانوں کے لئے آنے والے اندیشے کو قبل از وقت بھانپ کر اس بات سے منع فرما دیا۔
*پبلک ورک یا نظارت نافعہ:*
یہ صیغہ مستقل حیثیت سے زمانہ حال کی ایجاد ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ عربی زبان میں اس کے لیے کوئی اصطلاحی لفظ نہیں۔ مصر و شام میں اس کا ترجمہ نظارات نافعہ کیا گیا ہے۔ اس صیغے میں مفصلہ ذیل چیزیں داخل ہیں۔ سرکاری عمارتیں، نہریں، سڑکیں، پل، شفا خانے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس کے لیے کوئی مستقل صیغہ نہیں قائم ہوا تھا۔ لیکن شفا خانوں کے سوا اس صیغے کے متعلق اور جتنی چیزیں ہیں سب موجود تھیں اور نہایت منظم اور وسیع طور پر تھیں۔
زراعت کی ترقی کے لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس قدر نہریں تیار کرائیں ان کا مختصر حال ہم صیغہ محاصل کے بیان میں لکھ آئے ہیں۔ یہاں ان نہروں کا ذکر کرتے ہیں جو زراعت کے صیغہ سے مخصوص نہ تھیں۔
*حضرت عمر ؓ نے جو عمارتیں تیار کرائیں:*
============================
عمارات جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیار کرائیں، تین قسم کی تھیں :
*1 – مذہبی :*
جیسے مساجد وغیرہ، ان کا بیان تفصیل کے ساتھ مذہبی صیغے میں آئے گا۔ یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ بقول صاحب روضۃ الاحباب چار ہزار مسجدیں تعمیر ہوئیں۔
*2 – فوجی :*
جیسے قلعے ، چھاؤنیاں، بارکیں، ان کا بیان فوجی انتظامات میں آئے گا۔
*3 – ملکی :*
مثلاً دارالامارۃ وغیرہ، اس قسم کی عمارتوں کے تفصیلی حالات معلوم نہیں۔ لیکن ان کی اقسام کی تفصیل حسبِ ذیل ہے :
*1– دارالامارۃ :*
یعنی صوبجات اور اضلاع کے حکام جہاں قیام رکھتے تھے اور جہاں ان کا دفتر رہتا تھا۔ کوفہ و بصرہ کے دارالامارۃ کا حال طبری و بلاذری نے کسی قدر تفصیل سے لکھا ہے۔
*2– دفتر :*
دیوان یعنی جہاں دفتر کے کاغذات رہتے تھے۔ فوج کا دفتر بھی اسی مکان میں رہتا تھا۔
*3– خزانہ :*
بیت المال – یعنی خزانے کا مکان – یہ عمارت مضبوط اور مستحکم ہوتی تھی۔ کوفہ کے بیت المال کا ذکر بیت المال کے حال میں گزر چکا ہے۔
*4 – قید خانے :*
مدینہ منورہ کے قید خانے کا حال صیغہ پولیس کے بیان میں گزر چکا ہے۔ بصرہ میں جو قید خانہ تھا وہ دارالامارۃ کی عمارت میں شامل تھا۔ (فتوح البلدان صفحہ 347)۔
*5 – مہمان خانے :*
مہمان خانے ، یہ مکانات اس لیے تعمیر کئے گئے تھے کہ باہر والے جو دو چار روز کے لیے شہر میں آ جاتے تھے وہ ان مکانات میں ٹھہرائے جاتے تھے۔ کوفہ میں جو مہمان خانہ بنا اس کی نسبت علامہ بلاذری نے لکھا ہے” امر ان یتخذلمن یرد من الافاق دارا فکانوا ینزلونھا (فتوح البلدان صفحہ 278)۔”
مدینہ منورہ کا مہمان خانہ 17 ہجری میں تعمیر ہوا۔ چنانچہ ابن حیان نے کتاب الثقاۃ میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔
اس موقع پر یہ بتانا ضروری ہے کہ عمارتوں کی نسبت یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ بڑی شان و شوکت کی ہوتی تھیں۔ اسلام فضول تکلفات کی اجازت نہیں دیتا۔ زمانہ بعد میں جو کچھ ہوا ہوا لیکن اس وقت تک اسلام بالکل اپنی سادہ اور اصلی صورت میں تھا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہایت اہتمام تھا کہ یہ سادگی جانے نہ پائے۔ اس کے علاوہ اس وقت تک بیت المال پر حاکم وقت کو آزادانہ اختیارات حاصل نہ تھے۔ بیت المال تمام قوم کا سرمایہ سمجھا جاتا تھا۔ اور لوگ اس کا اصلی مصرف یہ سمجھتے تھے کہ چونا پتھر کی بجائے زیادہ تر آدمیوں کے کام آئے۔ یہ خیال مدتوں تک رہا۔ اور اسی کا اثر تھا کہ جب ولید بن عبد الملک نے دمشق کی جامع مسجد پر ایک رقم کثیر صرف کر دی تو عام ناراضگی پھیل گئی۔ اور لوگوں نے علانیہ کہا کہ بیت المال کے روپیہ کا یہ مصرف نہیں ہے۔ بہرحال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جو عمارتیں بنیں وہ عموماً اینٹ اور گارے کی تھیں۔ بصرہ کا ایوان حکومت بھی اسی حیثیت کا تھا۔ (فتح البلدان صفحہ 347)۔ البتہ فوجی عمارتیں نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتی تھیں۔
*سڑکوں اور پلوں کا انتظام:*
سڑکوں اور پلوں کا انتظام اگرچہ نہایت عمدہ تھا لیکن براہ راست حکومت کے اہتمام میں نہیں تھا۔ مفتوحہ قوموں سے جو معاہدہ ہوتا تھا اس میں یہ شرط بھی ہوتی تھی کہ وہ سڑک اور پل وغیرہ اپنے اہتمام اور اپنے صرف سے بنوائے گی۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام فتح کیا تو شرائط میں یہ امر بھی داخل تھا۔ (کتاب الخراج صفحہ 80 میں ہے۔ و علی ان علیھم ارشاد الضال و بناء القناطر علی الانھار من اموالھم۔ تاریخ طبری واقعات 16 ہجری صفحہ 240 میں سڑک اور پل دونوں کا ذکر ہے )۔
*مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک چوکیاں اور سرائیں:*
مکہ معظمہ اگرچہ مدتوں سے قبلہ گاہ خلائق تھا لیکن اس کے راستے بالکل ویران اور بے آب تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ 17 ہجری میں جب مکہ معظمہ گئے تو ان کی اجازت سے مدینہ سے لے کر مکہ معظمہ تک ہر منزل پر چوکیاں، سرائیں اور چشمے تیار ہوئے۔ شاہ ولی اللہ صاحب ازالۃ اخفاء میں لکھتے ہیں کہ
” ازاں جملہ آنکہ سالے بقصد عمرہ بہ مکہ مكرمہ توجہ فرمود نزدیک مراجعت امر فومود تادر منازلے کہ مابین حرمین واقع اند سا یہ ہاد پناہ ہا ساز ندوہر چاہے کہ اپنا شتہ شدہ باشد آں راپاک کنند و صاف نمایندو در منازل کم آب چاہ ہا راکندہ تابر حجاج باستراحت تمام قطع مراحل میسر شود۔ ”
==================> جاری ہے ۔۔۔












