خلافت فاروقی کے کارنامے
( قسط نمبر 20)
نئے شہروں کا آباد کرنا تحریر و پیشکش محمد نوید
================
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جو جو شہر آباد ہوئے وہ جن جن ضرورتوں سے آباد ہوئے اور جو جو خصوصیتیں ان میں پیدا کی گئیں ان کے لحاظ سے ہر شہر تاریخ اسلام کا ایک صفحہ کہا جا سکتا ہے۔ ان میں بصرہ و کوفہ ایک مدت تک اسلامی آثار کے منظر رہے۔ عربی نحو کی بنیاد یہیں پڑی۔ نحو کے اصلی دارالعلوم یہی دو شہر تھے۔ حنفی فقہ جو آج تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اس کا سنگ بنیاد کوفہ میں ہی رکھا گیا۔ ان اسباب سے ان شہروں کی بنیاد اور آبادی کا حال تفصیل سے لکھنا ناموزوں نہ ہو گا۔
قارئین کو معلوم ہو گا کہ تاریخ کے پہلے حصے میں ہم لکھ آئے ہیں کہ فارس اور ہند کے بحری حملوں سے مطمئن رہنے کے لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 14 ہجری میں عتبہ بن غزوان کو متعین کیا کہ بندرگاہ ایلہ کے قریب جہاں بحر فارس خلیج کے ذریعے سے ہندوستان و فارس کے جہاز لنگر کرتے تھے ، ایک شہر بسائیں، زمین کا موقع اور منظر خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا تھا، عتبہ آٹھ سو آدمیوں کے ساتھ روانہ ہوئے اور خربیہ میں آئے۔
*بصرہ:*
جہاں بصرہ آباد ہے یہاں کف دست میدان پڑا ہوا تھا اور چونکہ زمین کنکریلی تھی اور آس پاس پانی اور چارہ کا سامان نہ تھا۔ عرب کے مذاق کے بالکل موافق تھی۔ غرض عتبہ نے بنیاد کی داغ بیل ڈالی اور مختلف قبائل کے لیے الگ الگ احاطہ کھینچ کر گھاس اور پھونس کے مختصر مکانات بنوائے۔ عاصم بن ولف کو مقرر کیا کہ جہاں جہاں جس قبیلے کو اتارنا مناسب ہو اتاریں۔ خاص سرکاری عمارتیں جو تعمیر ہوئیں ان میں سے مسجد جامع اور ایوان حکومت جس کے ساتھ دفتر اور قید خانے کی عمارت بھی شامل تھی، زیادہ ممتاز تھا۔ 17 ہجری میں آگ لگی اور بہت سے مکانات جل گئے۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو اس وقت کوفہ کے گورنر تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سفارت بھیجی اور اجازت طلب کی کہ پختہ عمارتیں بنائی جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منظور کیا۔ لیکن تاکید کی کہ کوئی شخص ایک مکان تین کمروں سے زیادہ نہ بنائے۔ (بصرہ کی وجہ تسمیہ عموماً اہل لغت یہ لکھتے ہیں کہ بصرہ عربی میں نرم پتھریلی زمین کو کہتے ہیں اور یہاں کی زمین اسی قسم کی تھی لیکن معجم البلدان میں ایک مجوسی فاضل کا جو قول نقل کیا ہے وہ زیادہ قرین قیاس ہے۔ اس کے نزدیک اصل میں یہ لفظ بس رہا تھا جس کے معنی فارس میں بہت سے راستوں کے ہیں۔ چونکہ یہاں سے بہت سی راہیں ہر طرف کو جاتی تھیں۔ اس لیے اہل عجم اس کو اس نام سے موسوم کرتے تھے۔ اس کی تصدیق زیادہ تر اس سے ہوتی ہے کہ آس پاس شاہان عرب نے جو عمارتیں تیار کرائی تھیں۔ اس کے نام بھی دراصل فارسی رکھے۔ مثلاً خورنق جو دراصل خود نگاہ ہے اور سدیر جو دراصل سہ در ہے۔ )۔ بصرہ کی آبادی نہایت جلد ترقی کر گئی۔ یہاں تک کہ زیاد بن ابی سفیان کے زمان حکومت میں صرف ان لوگوں کی تعداد جن کے نام فوجی رجسٹر میں درج تھے۔ 80 ہزار اور ان کی آل اولاد ایک لاکھ 20 ہزار تھی۔
یہاں کی خاک کو علم و فضل سے جو مناسب تھی۔ اس کا اندازہ اس سے کرنا چاہیے کہ علوم عربیت کی بنیاد یہیں پڑی۔ دنیا میں سب سے پہلی کتاب جو عربی علم لغت میں لکھی گئی یہیں لکھی گئی جس کا نام کتاب العین ہے اور جو خلیل بصری کی تصنیف ہے۔ عربی علم عروض کی بھی یہیں سے ابتداء ہوئی۔ علم نحو کا سب سے پہلا مصنف سیبویہ یہیں کا تعلیم یافتہ تھا۔ائمہ مجتہدین میں سے حسن بصری یہیں کی خاک سے پیدا ہوئے۔
*کوفہ:*
دوسرا شہر جو بصرہ سے زیادہ مشہور ہوا کوفہ تھا۔ مدائن وغیرہ جب فتح ہو چکے تو سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ یہاں رہ کر اہل عرب کا رنگ روپ بالکل بدل گیا۔ ایسی جگہ تلاش کرنا چاہیے جو بری و بحری دونوں حیثیت رکھتی ہو۔ چنانچہ سلمان و حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے جو خالص اسی قسم کے کاموں پر مامور تھے۔ کوفہ کی زمین انتخاب کی۔ یہاں کی زمین ریتلی اور کنکریلی تھی اور اسی وجہ سے اس کا نام کوفہ رکھا گیا۔ اسلام سے پہلے نعمان بن منذر کا خاندان جو عراق عرب کا فرمانروا تھا۔ ان کا پائے تخت یہی مقام تھا اور ان کی مشہور عمارتیں خورنق اور سدیر وغیرہ اسی کے آس پاس واقع تھیں۔ منظر نہایت خوشنما اور دریائے فرات سے صرف ڈیڑھ دو میل کا فاصلہ تھا۔ اہل عرب اس مقام کو حد العذار یعنی عارض محبوب کہتے تھے کیونکہ وہ مختلف عمدہ قسم کے عربی پھولوں مثلاً اقحوان، شقایق، فیصوم، خزامی کا چمن زار تھا۔
غرض 17 ہجری میں اس کی بنیاد شروع ہوئی اور جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تصریح کے ساتھ لکھا تھا۔ 40 ہزار آدمیوں کی آبادی کے قابل مکانات بنائے گئے۔ ہیاج بن بالک کے اہتمام سے عرب کے جدا جدا قبیلے محلوں میں آباد ہوئے شہر کی وضع اور ساخت کے متعلق خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تحریری حکم ایا تھا کہ شارع ہائے عام 40، 40 ہاتھ اور اس سے گھٹ کر 30۔ 30 ہاتھ اور 20۔ 20 ہاتھ چوڑی رکھی جائیں اور گلیاں 7۔ 7 ہاتھ چوڑی ہوں۔ جامع مسجد کی عمارت جو ایک مربع بلند چبوترہ دے کر بنائی گئی اس قدر وسیع تھی، اس میں 40 ہزار آدمی آ سکتے تھے۔ اس کے ہر چہار طرف دور دور تک زمین کھلی چھوڑ دی گئی تھی۔
عمارتیں اول گھاس پھونس کی بنیں لیکن جب آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت دی اور اینٹ گارے کی عمارتیں تیار ہوئیں اور جامع مسجد کے آگے ایک وسیع سائبان بنا دیا گیا جو دو سو ہاتھ لمبا تھا۔ اور سنگ رخام کے ستونوں پر قائم کیا گیا تھا۔ جو نوشیروانی عمارت سے نکال کر لائے گئے تھے۔ اس موقع پر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ باوجود اس کے کہ دراصل نوشیروانی عمارت کا کوئی وارث نہ تھا۔ اور اصول سلطنت کے لحاظ سے اگر کوئی وارث ہو سکتا تھا تو خلیفہ وقت ہوتا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عدل و انصاف تھا کہ مجوسی رعایا کو ان ستونوں کی قیمت ادا کی تھی۔ یعنی ان کی تخمینی جو قیمت ٹھہری وہ ان کے جزیہ میں مجرا کی گئی۔ مسجد سے دو سو ہاتھ کے فاصلے پر ایوان حکومت تعمیر ہوا۔ جس میں بیت المال یعنی خزانے کا مکان شامل تھا۔ ایک مہمان خانہ بھی تعمیر کیا گیا۔ جس میں باہر کے آئے ہوئے مسافر قیام کرتے تھے اور ان کو بیت المال سے کھانا ملتا تھا۔
چند روز کے بعد بیت المال میں چوری ہو گئی۔ اور چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہر ہر جزئی واقعہ کی خبر پہنچتی تھی، انہوں نے سعد کو لکھا کہ ایوان حکومت مسجد سے ملا دیا جائے چنانچہ روزبہ نامی ایک پارسی معمار نے جو مشہور استاد تھا، اور تعمیرات کے کام پر مامور تھا، نہایت خوبی اور موزونی سے ایوان حکومت کی عمارت کو بڑھا کر مسجد سے ملا دیا۔ سعد نے روزبہ کو معہ اور کاریگروں کے اس صلے میں دربار خلافت روانہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بڑی قدردانی کی اور ہمیشہ کے لیے روزینہ مقرر کر دیا۔ جامع مسجد کے سوا ہر ہر قبیلے کے لیے جدا جدا مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ جو قبیلے آباد کئے گئے ان میں یمن کے بارہ ہزار اور نزار کے آٹھ ہزار آدمی تھے۔ اور قبائل جو آباد کئے گئے ، ان کے نام حسبِ ذیل ہیں۔ سلیم، ثقیف، ہمدان بجیلہ، نیم اللات، تغلب، بنو اسد، نحع و کندۃ، ازومزینہ، تمیم و محارب، اسد و عامر، بجالہ، جدیلہ و اخلاط جہینہ، مذحج، ہوازن وغیرہ وغیرہ۔
یہ شہر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس عظمت و شان کو پہنچا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو راس الاسلام کے نام سے موسوم فرماتے تھے۔ اور درحقیقت وہ عرب کی طاقت کا اصلی مرکز بن گیا۔ زمانہ ما بعد میں اس کی آبادی برابر ترقی کرتی گئی۔ لیکن یہ خصوصیت قائم رہی کہ آباد ہونے والے عموماً عرب کی نسل سے ہوتے تھے۔ 64 ہجری میں مردم شماری ہوئی تو 50 ہزار گھر خاص قبیلہ بیعہ، مضر کے اور 24 ہزار قبائل کے تھے اور اہل یمن کے 6 ہزار گھر ان کے علاوہ تھے۔
زمانہ ما بعد کی تغیرات اور ترقیوں نے اگرچہ قدیم آثار کو قائم نہیں رکھا تھا۔ تاہم یہ کچھ کم تعجب کی بات نہیں کہ بعض بعض عمارات کے نشانات زمانہ دراز تک قائم رہے۔ ابن بطوطہ جس نے آٹھویں صدی میں اس مقدس مقام کو دیکھا تھا اپنے سفر نامہ میں لکھتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو ایوان حکومت بنایا تھا اس کی بنیاد اب تک قائم ہے۔
اس شہر کی علمی حیثیت یہ ہے کہ فن نحو کی ابتدا یہیں ہوئیں۔ یعنی ابو الا سود وائلی نے اول اول نحو کے قواعد یہیں بیٹھ کر منضبط کئے۔ فقہ حنفی کی بنیاد یہیں پڑی۔ امام ابو حنیفہ صاحب رحمۃ اللہ نے قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ وغیرہ کی شرکت سے فقہ کی جو مجلس قائم کی وہ یہیں قائم کی۔ حدیث اور علوم عربیت کے بڑے بڑے ائمہ فن جو یہاں پیدا ہوئے ان میں ابراہیم نخعی، حماد، امام ابو حنیفہ، شعبی یادگار زمانہ تھے۔ (کوفہ و بصرہ کے حالات طبری، بلاذری اور معجم البلدان سے لئے گئے )۔
*نئے شہروں کا آباد کرنا 2:*
=================
*فسطاط:*
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اسکندریہ فتح کر لیا تو یونانی جو کثرت سے وہاں آباد تھے عموماً شہر چھوڑ کر نکل گئے۔ ان مکانات کو خالی دیکھ کر عمرو بن العاص نے ارادہ کیا کہ اس کو مستقر حکومت بنائیں۔ چنانچہ دربار خلافت سے اجازت طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دریا کے حائل ہونے سے بہت ڈرتے تھے۔ بصرہ کوفہ کی آبادی کے وقت افسروں کو لکھا کہ شہر جہاں بسایا جائے وہاں سے مدینہ تک دریا راہ میں نہ آئے۔ چونکہ اسکندریہ کی راہ میں دریائے نیل پڑتا تھا اس لیے اس کو مستقر ریاست بنانا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پسند نہ کیا۔
حضرت عمرو بن العاص اسکندریہ سے چل کر قصر الشمع میں آئے۔ یہاں ان کا وہ خیمہ اب تک اسی حالت میں کھڑا تھا جس کو وہ اسکندریہ کے حملے کے وقت خالی چھوڑ گئے تھے۔ چنانچہ اسی خیمے میں اترے اور وہیں نئی آبادی کی بنیاد ڈالی۔ ہر ہر قبیلے کے لیے الگ الگ احاطے کھینچے اور معاویہ بن خدیج، شریک بن شہمی، عمرو بن مخرم، حویل بن ناشرہ کو متعین کیا کہ جس قبیلے کو جہاں مناسب سمجھیں آباد کریں۔ جس قدر محلے اس وقت تھے اور جو قبائل ان میں آباد ہوئے ان کے نام علامہ مقریزی نے تفصیل سے لکھے ہیں۔ جامع مسجد خاص اہتمام سے بنی۔ عام روایت ہے کہ 80 صحابہ نے جمع ہو کر قبلہ کی سمت متعین کی۔ ان صحابہ میں زبیر، مقداد، عبادہ، ابو دردا رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور بڑے بڑے اکابر صحابہ شریک تھے۔ یہ مسجد 50 گز لمبی اور 30 گز چوڑی تھی۔ تین طرف دروازے تھے جن میں ایک دارالحکومت کے مقابل تھا۔ اور عمارتوں میں سات گز کا فاصلہ تھا۔
حضرت عمرو بن العاص نے ایک مکان خاص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے تعمیر کرایا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ بھیجا یہ میرے کس کام کا ہے تو وہاں بازار آباد کرایا گیا۔ چونکہ اس شہر کی آبادی خیمہ گاہ سے شروع ہوئی تھی اس لیے اس کا نام فسطاط پڑا جس کے معنی عربی میں خیمہ کے ہیں۔ آبادی کا سن 21 ہجری ہے۔
*فسطاط کی وسعت آبادی:*
فسطاط نے نہایت جلد ترقی کی۔ اور اسکندریہ کی بجائے مصر کا صدر مقام بن گیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں 40 ہزار عرب کے نام دفتر میں قلمبند تھے۔ مؤرخ قضائی کا بیان ہے کہ ایک زمانہ میں یہاں 360 مسجدیں، 8 ہزار سڑکیں، 170 حمام تھے۔ اس کی وسعت اور ہر قسم کے سر و سامان کی کثرت کو مقریزی نے کئی صفحہ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ مدت تک یہ شہر سلاطین مصر کا پائے تخت اور تمدن و ترقی کا مرکز رہا۔ علامہ بشاری جس نے چوتھی صدی میں دنیا کا سفر کیا اس شہر کی نسبت اپنے جغرافیہ میں لکھا ہے۔
”فاسخ بغداد مفخر الاسلام خزانۃ المغرب لیس فی الاسلام اکبر مجالس من جامعہ ولا احسن تجملا من اھلہ ولا اکثر مراکب من ساحلہ”
یعنی ” یہ شہر بغداد کا ناسخ مغرب کا خزانہ اور اسلام کا فخر ہے۔ تمام عالم اسلام میں یہاں سے زیادہ کسی جامع مسجد میں علمی مجلسیں نہیں ہوتیں نہ یہاں سے زیادہ کسی شہر کے ساحل پر جہازات لنگر ڈالتے ہیں۔ ”
*موصل:*
موصل یہ مقام اسلام سے پہلے بھی موجود تھا۔ لیکن اس وقت اس کی حالت یہ تھی کہ ایک قلعہ اور اس کے پاس عیسائیوں کے چند معبد تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں شہر کی حیثیت سے آباد ہوا۔ ہرثمہ بن عرفجہ نے اس کی بنیاد رکھی اور قبائل عرب کے متعدد محلے آباد کئے۔ اک خاص جامع مسجد بھی تعمیر کرائی۔ (فتوح البلدان صفحہ 331 تا 332)۔
ملکی حیثیت سے یہ شہر ایک خاص حیثیت رکھتا ہے یعنی اس کے ذریعے مشرق اور مغرب کا ڈانڈا ملتا ہے اور شاید اسی مناسبت سے اس کا نام موصل رکھا گیا۔ یاقوت حموی نے لکھا ہے کہ یہ مشہور ہے کہ دنیا کے بڑے شہر تین ہیں۔ نیشاپور جو مشرق کا دروازہ ہے اور دمشق جو مغرب کا دروازہ ہے اور موصل جو مشرق و مغرب کی گزرگاہ ہے یعنی آدمی کسی طرف جانا چاہے تو اس کو یہاں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس شہر نے بھی رفتہ رفتہ نہایت ترقی کی۔ چنانچہ اس کی وسعت اور عظمت کے حالات معجم البلدان اور جغرافیہ بشاری وغیرہ میں تفصیل سے ملتے ہیں۔
*جیزہ:*
یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے جو دریائے نیل کے غربی جانب فسطاط کے مقابل واقع ہے۔ حضرت عمرو بن العاص اسکندریہ کی فتح کے بعد فسطاط آئے۔ تو اس غرض کے لیے رومی دریا کی طرف نہ چڑھ آئیں، تھوڑی سی فوج اس مقام پر متعین کر دی جس میں حمیر اور ازد و ہمدان کے قبیلے کے لوگ تھے۔ فسطاط کی آبادی کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں کو بلا لینا چاہا لیکن ان کو دریا کا منظر ایسا پسند آیا کہ وہ یہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے تھے اور حجت یہ پیش کی کہ ہم جہاد کے لیے یہاں آئے تھے اور ایسے عمدہ مقصد کو چھوڑ کر اور کہیں نہیں جا سکتے۔ عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے حالات کی اطلاع حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دی۔ وہ اگرچہ دریا کے نام سے گھبراتے تھے لیکن مصلحت دیکھ کر اجازت دی اور ساتھ ہی یہ حکم بھیجا کہ ان کی حفاظت کے لیے ایک قلعہ تعمیر کیا جائے۔ چنانچہ 21 ہجری میں قلعہ کی بنیاد پڑی اور 22 ہجری میں بن کر تیار ہوا۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جب قلعہ بننا شروع ہوا تو قبیلہ ہمدان نے کہا کہ ” ہم نامردوں کی طرح قلعہ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتے۔ ہمارا قلعہ ہماری تلوار ہے۔ ” چنانچہ یہ قبیلہ اور ان کے ساتھ بعض اور قبیلوں نے قلعہ سے باہر کھلے میدان میں ڈیرے ڈال لئے اور ہمیشہ وہیں رہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی برکت سے یہ چھوٹا سا مقام بھی علمی حیثیت سے خالی نہیں رہا۔ چنانچہ بڑے بڑے محدث یہاں پیدا ہوئے۔ ان میں بعض کے نام معجم البلدان میں مذکور ہیں۔ (جیزہ کے متعلق مقریزی نے نہایت تفصیل سے کام لیا ہے۔ )
*فوجی نظام:*
=========
اسلام سے پہلے دنیا میں اگرچہ بڑی بڑی عظیم الشان سلطنتیں گزر چکی ہیں۔ جن کی بقیہ یادگاریں خود اسلام کے عہد میں بھی موجود تھیں۔ فوجی سسٹم جہاں جہاں تھا غیر منظم اور اصول سیاست کے خلاف تھا۔ روم کبیر میں جس کی سلطنت کسی زمانے میں تمام دنیا پر چھا گئی تھی، فوج کے انتظام کا یہ طریقہ تھا۔
*فوجی نظام رومن ایمپائر میں:*
ملک میں جو لوگ نام و نمود کے ہوتے تھے اور سپہ گری سپہ سالاری کا جوہر رکھتے تھے۔ ان کو بڑی بڑی جاگیریں دی جاتی تھیں اور یہ عہد لیا جاتا تھا کہ جنگی مہمات کے وقت اس قدر فوج لے کر حاضر ہوں گے۔ یہ لوگ تمام ملک میں پھیلے ہوئے تھے اور خاص خاص تعداد کی فوجیں رکھتے تھے لین ان فوجوں کا تعلق براہ راست سلطنت سے نہیں ہوتا تھا۔ اور اس وجہ سے اگرچہ کبھی علم بغاوت بلند کر دیتے تھے تو ان کی فوج ان کے ساتھ ہو کر خود سلطنت کا مقابلہ کرتی تھی۔ اس طریقہ کا نام فیوڈل سسٹم تھا اور یہ فوجی افسر بیرونی کہلاتے تھے۔ اس طریقے نے یہ وسعت حاصل کی کہ بیرونی لوگ بھی اپنے نیچے اسی قسم کے جاگیردار اور علاقہ دار رکھتے تھے اور سلسہ بسلسلہ بہت سے طبقے قائم ہو گئے تھے۔
*فوجی نظام فارس میں:*
ایران میں بھی قریب قریب یہی دستور تھا۔ فارسی میں جن کو مرزبان اور دہقان کہتے ہیں وہ اسی قسم کے جاگیردار اور زمیندار تھے۔ اس طریقے نے روم کی سلطنت کو دراصل برباد کر دیا تھا۔ آج عام طور پر مسلم کہ یہ نہایت برا طریقہ تھا۔
*فوجی نظام فرانس میں:*
فرانس میں 511 عیسوی تک فوج کی تنخواہ یا روزینہ کچھ نہیں ہوتا تھا۔ فتح کی لوٹ میں جو مل جاتا تھا وہی قرعہ ڈال کر تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ اس زمانے کے بعد کچھ ترقی ہوئی تو وہی روم کا فیوڈل سسٹم قائم ہو گیا۔ چنانچہ اسلام کے بعد 741 عیسوی تک یہی طریقہ جاری رہا۔
عرب میں شاہان یمن وغیرہ کے ہاں فوج کا کوئی منظم بندوبست نہیں تھا۔ اسلام کے آغاز تک اس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں صرف اس قدر ہوا کہ خلافت کے پہلے سال غنیمت سے جس قدر بچا وہ سب لوگوں کو دس دس روپے کے حساب سے تقسیم کر دیا گیا۔ دوسرے سال آمدنی زیادہ ہوئی تو یہ تعداد دس سے بیس تک پہنچ گئی۔ لیکن نہ فوج کی کچھ تنخواہ مقرر ہوئی، نہ اہل فوج کا کوئی رجسٹر بنا، نہ کوئی محکمہ جنگ قائم ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوائل خلافت تک بھی یہی حال رہا۔ لیکن 15 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صیغے کو اس قدر منظم اور باقاعدہ کر دیا کہ اس وقت کے لحاظ سے تعجب ہوتا ہے۔
*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فوجی نظام:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توجہ کرنے کے مختلف اسباب بیان کئے گئے ہیں۔ عام روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بحرین کے حاکم مقرر کئے گئے تھے۔ پانچ لاکھ درہم لے کر مدینہ ائے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی اطلاع دی۔ پانچ لاکھ کی رقم اس وقت اس قدر عجوبہ چیز تھی کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خیر ہے ! کہتے کیا ہو؟ انہوں نے پھر پانچ لاکھ کہا۔ حضرت عرم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تم کو گنتی بھی آتی ہے ؟ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہاں، یہ کہہ کر پانچ دفعہ لاکھ لاکھ کہا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین آیا تو مجلس شوریٰ منعقد کی اور رائے پوچھی کہ اس قدر زر کثیر کیونکر صرف کیا جائے ؟ حضرت علی، حضرت عثمان اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے مختلف تجویزیں پیش کیں۔ ولید بن ہشام نے کہا کہ میں نے شام کے والیان ملک کو دیکھا ہے کہ ان کے ہاں فوج کا دفتر اور رجسٹر مرتب رہتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ رائے پسند آئی اور فوج کی اسم نویسی اور ترتیب دفتر کا خیال پیدا ہوا۔ (مقریزی صفحہ 92 اور فتوح البلدان صفحہ 449)۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رائے دہندہ نے سلاطین عجم کا حوالہ دیا اور یہی روایت قرین قیاس ہے کیونکہ جب دفتر مرتب ہوا تو اس کا نام دیوان رکھا گیا۔ اور یہ فارسی لفظ ہے دبستان، دبیر، دفتر، دیوان سب ایک مادہ کے لفظ ہیں جن کا مشترک مادہ ” دب” ایک پہلوی لفظ ہے جس کے معنی نگاہ رکھنے کے ہیں۔
بہرحال 15 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوج کا ایک مستقل محکمہ قائم کرنا چاہا۔ اس باب میں ان کی سب سے زیادہ قابل لحاظ جو تجویز تھی وہ تمام ملک کا فوج بنانا تھا، انہوں نے اس مسئلے کو کہ ہر مسلمان فوجِ اسلام کا ایک سپاہی ہے۔ باقاعدہ طور سے عمل میں لانا چاہا۔ لیکن چونکہ ابتداء میں ایسی تعلیم نہ تھی۔ اول قریش اور انصار سے شروع کیا۔ مدینہ منورہ میں اس وقت تین شخص بہت بڑے نساب اور حساب کتاب کے فن میں استاد تھے۔ مخرمہ بن نوفل، جبیر بن مطعم، عقیل بن ابی طالب ۔
علم الانساب عرب کا موروثی فن تھا اور خاص کر یہ تینوں بزرگ اس فن کے لحاظ سے تمام عرب میں ممتاز تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو بلا کر یہ خدمت سپرد کی کہ تمام قریش اور انصار کا ایک دفتر تیار کریں جس میں ہر ایک کا نام و نسب مفصلاً درج ہو ان لوگوں نے ایک نقشہ بنا کر پیش کیا۔ جس میں سب سے پہلے بنو ہاشم پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبیلہ تھا۔ یہ ترتیب ان لوگوں نے خلافت و حکومت کے لحاظ سے قرار دی تھی۔ لیکن اگر وہ قائم رہتی تو خلافت خود غرضی کا آلہ کار بن جاتی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ” یوں نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے قرابت داروں سے شروع کرو۔ اور درجہ بدرجہ لوگ جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے دور ہوتے گئے ہیں۔ اسی ترتیب سے ان کا نام آخر میں لکھتے جاؤ۔ یہاں تک کہ جب میرے قبیلے تک نوبت آئے تو میرا نام بھی لکھو۔ ”
اس موقع پر یاد رکھنا چاہیے کہ خلفائے اربعہ میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب سب سے اخیر میں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے ملتا ہے ، غرض اس ہدایت کے موافق رجسٹر تیار ہوا۔
==================> جاری ہے ۔۔۔












