سلسلہ تعارف اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
یوم وفات 11 رمضان المبارک فقیہ الامت جلیل القدر صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
تحریر حافظ محمد اقبال سحرؔ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ عظیم صحابی رسول ہیں۔ آپؓ قدیم الاسلام ہیں۔ یعنی شروع ہی میں اسلام لائے۔ آپؓ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے: عبداللہ رضی اللہ عنہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صابلہ بن کاہل بن حارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر۔ آپؓ کی کنیت عبدالرحمن تھی۔ آپؓ کی والدہ کا نام ام عبد بنت عبدود بن سواء تھا۔
جس وقت حضرت سعید بن زیدؓ اور ان کی بیوی فاطمہؓ بنت خطاب نے اسلام قبول کیا، اسی وقت حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے بھی اسلام قبول کیا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں اسلام میں چھٹا شخص تھا۔ اس وقت روئے زمین پر ہم چھ آدمیوں کے سوا کوئی مسلمان نہ تھا۔(اسدالغابہ، حصہ ششم، صفحہ 362)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:”میں سن تمیز کو پہنچ گیا تھا۔ عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرارہا تھا کہ نبی ﷺ تشریف لائے۔ ابوبکرؓ بھی آپؐ کے ہمراہ تھے۔ حضرت نے مجھ سے فرمایا کہ اے لڑکے! تیرے پاس کچھ دودھ ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں، مگر میں امین ہوں (یعنی دے نہیں سکتا)۔ حضرت نے فرمایا اچھا،(بغیر دودھ کے) کوئی بکری لے آؤ جو گابھن نہ ہو۔ چنانچہ میں ایک جوان بکری آپؐ کے پاس لے گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے پیر باندھ دیے اور اس کے تھن پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور دعا فرمائی۔ یہاں تک کہ اس کے دودھ اُتر آیا۔ پس ابوبکرؓ ایک برتن لے آئے۔ حضرت نے اس برتن میں اس کا دودھ دھویا اور ابوبکرؓ سے فرمایا کہ پیو۔چنانچہ ابوبکرؓ نے پیا۔ بعد اس کے رسول اللہ ﷺ نے پیا۔ پھر آپؐ نے تھنوں سے فرمایا سکڑجاؤ۔ وہ سکڑ گئے اور وہ ویسے ہی ہوگئے جیسے کہ تھے۔ پس میں نے کہا کہ یارسول اللہ ﷺ! مجھے بھی یہ کلام سکھادیجیے۔ آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا تم سیکھے سکھائے ہو۔ پس میں نے آپﷺ سے بلا واسطہ ستّر سورتیں قرآن کی یاد کیں۔ اس فضیلت میں میرا کوئی شریک نہیں۔“ (اسدالغابہ، حصہ ششم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اسلام لائے، تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں اپنے پاس رکھ لیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ شرف حاصل تھا کہ جب آپ ﷺ کہیں جاتے تو وہ پہلے آپ ﷺکو جوتیاں پہناتے، پھر آگے آگے عصا لے کر چلتے، آپ ﷺ مجلس میں بیٹھنا چاہتے تو آپ ﷺ کے پاؤں سے جوتیاں نکالتے، پھر آپ ﷺ کو عصا دیتے۔ آپ ﷺ اُٹھتے تو پھر اسی طرح جوتیاں پہناتے، آگے آگے عصا لے کر چلتے اور حجرہئ مبارک تک پہنچاآتے۔ آپ ﷺ نہاتے تو پردہ کرتے، آپ ﷺ سوتے تو بیدار کرتے، آپ ﷺ سفر میں جاتے تو آپ ﷺ کا بچھونا، مسواک، جوتا اور وضو کا پانی ان کے ساتھ ہوتا، اس لیے وہ صاحب سواد رسول اللہ ﷺ یعنی آپ ﷺ کے میرِ سامان کہے جاتے تھے۔ (طبقات ابن سعد تذکرہ حضرت عبداللہ بن مسعود )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دونوں ہجرتیں کی تھیں۔ یعنی حبش کی طرف بھی اور مدینہ منورہ کی طرف بھی۔ آپؓ کو دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہے۔ غزوہ بدر، اُحد، خندق، بیعت رضوان اور تمام مشاہد میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ رہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار مجھ سے فرمایا کہ سورۃ النساء مجھے پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا کہ میں بھلا کیا آپ کو پڑھ کر سناؤں گا، آپ ﷺ ہی پر تو نازل ہوئی ہے۔ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ کوئی دوسرا شخص پڑھے اور میں سنوں۔چنانچہ میں نے پڑھنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچا: فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّ جِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا (سورۃ النساء، آیت نمبر41) یعنی۔”اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر اُمت سے ایک گواہ نکالیں گے اور اے محمد (ﷺ) تم کو ان لوگوں پر گواہ بنائیں گے۔“ تو حضرت ﷺ کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”بے شک قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادب سکھانے والا ہے۔ پس تم جو اس سے کچھ سیکھ سکو تو سیکھ لو۔ کیونکہ خیر سے خالی وہ ہے جس میں کتاب اللہ کا کچھ حصہ بھی نہ ہو اور جس گھر میں کتابُ اللہ کا کچھ حصہ بھی نہ ہو، تو وہ اس ویران گھر کی طرح ہے جسے کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔ شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے جس میں سورۃ البقرۃ کی آواز سن لے۔“ (۳۱۳ روشن ستارے صفحہ ۹۶۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے بعد بڑے بڑے معرکوں میں شریک ہوئے۔ آپؓ ملک شام میں غزوہئ یرموک میں شریک ہوئے اور اس دن مالِ غنیمت آپؓ کے سپرد تھا۔حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا اور اہلِ کوفہ کو لکھا تھا کہ میں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو حاکم اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلم اور وزیر بناکر بھیجتا ہوں۔ یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے اصحابؓ میں منتخب ہیں۔ اہلِ بدر سے ہیں۔ تم لوگ ان کی پیروی کرو اور ان کے احکام کی اطاعت کرو۔ ان کی باتیں سنو۔ تمھارے لیے میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اپنے سے زیادہ بہتر سمجھا ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔”نبی ﷺ نے ایک مرتبہ کسی کام کے لیے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ایک درخت پر چڑھنے کا حکم دیا۔ آپؐ کے اصحابؓ نے عبداللہ بن مسعودؓ کی پنڈلیوں کو کمزور اور پتلا دیکھ کر تبسم فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیوں ہنستے ہو؟ عبداللہؓ کا پیر ترازوئے اعمال میں قیامت کے دن کوہِ اُحد سے بھی زیادہ وزنی ہوگا۔“
زید بن وہب کہتے ہیں: ”میں ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے۔ چونکہ وہ پست قامت تھے۔ اس سبب سے اور لوگ جو بیٹھے ہوئے تھے ان میں چھپنے کے قریب ہوگئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو اِن کو دیکھا تو مسکرائے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے اور وہ کھڑے رہے۔ بعد اس کے جب وہ چلے گئے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص علم سے بھرا ہوا ایک ظرف ہے۔“
وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن کی روایتیں پانچ سو یا پانچ سو سے زائد ہیں۔ اس طبقہ میں صرف چار صحابہ کرامؓ ہیں اور ان میں نمایاں نام حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپؓ کی روایات کی تعداد 848ہے۔
جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنے پاس بلایا، وہ کوفہ میں تھے۔ لوگ ان کے پاس جمع ہوئے اور کہا کہ آپؓ یہیں رہیے۔ ہم آپؓ کی حفاظت کریں گے۔ کوئی شخص آپؓ کو ایذا نہ پہنچاسکے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں، ان کی اطاعت میرے اوپر ضروری ہے۔ چنانچہ آپؓ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس چلے آئے اور مدینہ منورہ ہی میں 32ہجری میں وفات پائی۔آپؓ کی نمازِ جنازہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بعض روایات کے مطابق حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
٭٭……٭٭












