لُٹیرے
تحریر محمد عتیق سلیمانی
0306923664
وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تا کہ مسلمان اپنے اسلام کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر سکیں۔اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے پاکستان میں اسلام کے مطابق گنے چنے ہی کام یا فیصلے ہوتے ہیں۔ وطن عزیز میں لُٹیروں کا راج ہے۔غیر مسلم اور دیگر ممالک میں جب بھی کوئی آفت،وباء یا مذہبی تہوار آتے ہیں تو وہ لوگ کمائی کو بھول جاتے ہیں۔اپنے لوگوں کو وباء سے بچانے اور خوشی کے موقع پر انکی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتے ہیں۔مہنگی سے مہنگی اشیاء ڈسکاؤنٹ پر فروخت کی جاتی ہیں یا مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔اب آتے ہیں اسلام کے قلعے وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پکے،ٹھکے،سچے،ہمدرد،دیانتدار،حاجی نمازیوں کی طرف کہ ہم پاکستانی ایسے حالات اور مواقع پر کتنے مخلص ہوتے ہیں؟ کوئی آفت،وباء یا تہوار ہو ہم پاکستانیوں کے خوب کمائی کا موقع ہوتا ہے۔ہمیں کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔ مجھ سمیت آپ سب پاکستانیوں کی اس مخلصی سے بخوبی واقف ہیں۔ اسلیے ذیادہ پیچھے نہیں جاتا کورونا اور رمضان کے متعلق آگے بڑھتے ہیں۔ کورونا وائرس آیا دنیا متاثر ہوئی غیر مسلم ممالک نے بڑھ چڑھ کر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اشیاء اور ادویات مفت تقسیم کیں۔پاکستانیوں نے کیا کیا؟ دس روپے والا ماسک پچاس روپے میں فروخت کرنا شروع کر دیا۔جعلی سیناٹائزر بنا کر فروخت کرنا شروع کر دیے۔مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا کہ کمائی کا موقع ہے۔جن کو ایک وقت کی روٹی ملتی تھی ان سے یہ بھی چھین لو کیوں کہ کمائی کا موقع ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے کرائے تین گنا بڑگا دیے ارے کمائی کا موقع ہے۔آٹا ذخیرہ کردیا ماسک بھی جمع کر لیے۔جو فلاحی اداروں کی طرف سے راشن دیا گیا وہ بھی بھی ایسے لوگوں میں تقسیم ہو کہ جبکو ضرورت ہی نہیں کیونکہ و اپنے تھے۔احساس پروگرام آیا لاکھوں کروڑوں کے مالک مستفید ہوئے مستحق منہ دیکھتے رہ گئے اور پیسے تقسیم کرنے والوں نے بھی اپنا حصہ نکالا کمائیکا موقع ہے۔رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ آیا جو قربانی اور احساس کا مہینہ ہے مگر اس میں ہم پاکستانی وہی کر رہے ہیں جو ہربار کرتے ہیں۔ایک سو روپے میں ملنے والی چیز پانچ سو روہے تک فروخت کر رہے ہیں۔ رمضان میں جو اشیاء بھی فروخت ہوتی ہیں سب کے نرخ من مانے وصول کیے جاتے ہیں کیونکہ ہمارے لیے رمضان دنیاوی کمائی کا ذریعہ ہے نا کہ دینوی کمائی کا۔ ہمیں تو نوٹ کمانے ہیں جیسے بھی ہوں۔اگر کسی نے کسی غریب کی مدد کر بھی دی اسے تشہیر کر کے عزت کمانے کے چکر میں ہوتا ہے۔اسے ثواب سے کیا لینا دینا دنیا کو دیکھانا ہے کہ سو روپے فلاں غریب کو دیے ہیں۔آفات،وباء اور مذہبی تہواروں کے موقع پر ہم اسلام کے احکامات کو مکمل نظر انداز کرتے ہیں اور ہمارے ظاہری حلیے ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ہم سے بڑا کوئی نمازی،حاجی اور معزز نہیں۔ارے یہ سب کام نہیں آنے والا اللہ سے ڈریں سب کچھ یہاں ہی رہے گا۔ہم ڈاکو ان کو کہتے ہیں جو کسی گھر،بینک یا دوکان کو لوٹ لیتے ہیں۔جو سرے عام غریبوں کو چمڑی ادیڑے،جو سو کی چیز پانچ سو کی بیچے اور کروڑوں کما لیے اسے ہم چور نہیں سمجھتے کیونکہ وہ سرے عام لوٹتا ہے۔سچ تو یہ ہے پاکستان لٹیروں سے بھرا ہے۔کوئی پیسے کا لٹیرا ہے تو کوئی عزت کا۔کوئی بھی موقع ہو ہم سے بڑا لٹیرا کوئی نہیں ہے۔ہم لُٹیرے ہیں ہمیں نوٹ کمانے ہیں چاہے کچھ سے کچھ ہو جائے۔
والسلام دعاوں کا طلبگار محمد عتیق سلیمانی








