عہد خلافت راشد حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ
( قسط نمبر 31)
تحریر و پیشکش محمد نوید

#بیت_المال_کا_خیال
پیشکش : محمدنوید
============

بیت المال یعنی خزانہ کا بہت خیال رکھتے اور کسی قسم کی رقم کو اس کے احاطے سے باہر نہیں سمجھتے۔ خانہ کعبہ میں مدت کا مال جمع تھا۔ اس کی نسبت فرمایا کہ:

لقد ھممت ان الادع فیھا صفراء ولا بیضاء الاقسمتہ (صحیح بخاری باب کسوۃ الکعبہ)
یعنی ” میں نے ارادہ کیا ہے کہ جو کچھ اس میں سونا چاندی ہے سب لوگوں کو تقسیم کر دوں۔ ”

ایک دفعہ غنیمت کا مال آیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ مطہرہ) کو خبر ہوئی۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئیں اور کہا امیر المومنین! اس میں سے میرا حق مجھ کو عنایت کیجئے۔ کیونکہ میں ذوالقربیٰ میں سے ہوں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ” جان پدر! تیرا حق میرے خاص مال میں سے ہے لیکن یہ غنیمت کا مال ہے۔ تو نے اپنے باپ کو دھوکہ دینا چاہا۔ وہ بیچاری خفیف ہو کر اٹھ گئیں۔ (مسند امام احمد حنبل)۔

شام کی فتح کے بعد قیصر روم سے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے اور خط و کتابت رہتی تھی۔ ایک دفعہ ام کلثوم (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ) نے قیصر کی حرم کے پاس تحفہ کے طور پر عطر کی چند شیشیاں بھیجیں۔ اس نے اس کے جواب میں شیشیوں کو جواہرات سے بھر کر بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حال معلوم ہوا تو فرمایا کہ گو عطر تمہارا تھا لیکن قاصد جو لے گیا تھا وہ سرکاری تھا اور اس کے مصارف عام آمدنی میں سے ادا کئے گئے۔ غرض وہ جواہرات لے کر بیت المال میں داخل کر دیئے گئے اور ان کو کچھ معاوضہ دے دیا گیا۔

ایک دفعہ بیمار پڑ گئے۔ لوگوں نے علاج میں شہد تجویز کیا۔ بیت المال میں شہد موجود تھا لیکن بلا اجازت نہیں لے سکتے تھے۔ مسجد نبوی میں جا کر لوگوں سے کہا کہ اگر اجازت دیں تو بیت المال سے تھوڑا سے شہد لے لوں (کنز العمال جلد 6، صفحہ 354)۔ اس کارروائی کا مطلب اجازت کے سوا یہ ظاہر کرنا تھا کہ خزانہ عامہ پر خلیفہ وقت کو اتنا اختیار بھی نہیں۔

خلافت سے پہلے وہ تجارت کے ذریعے سے گزر بسر کرتے تھے۔ خلافت کے مہمات میں یہ شغل قائم نہیں رہ سکتا تھا۔ صحابہ کو جمع کر کے اپنی ضروریات بیان کیں اور کہا کہ بیت المال سے میں کس قدر اپنے مصارف کے لئے لے سکتا ہوں۔ لوگوں نے مختلف رائے دیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چپ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ ” صرف معمولی درجہ کی خوراک اور لباس” چنانچہ ان کے اور ان کی بیوی بچوں کے لئے بیت المال سے کھانا اور کپڑا مقرر ہو گیا (تاریخ طبری واقعات 15ھ)۔

فوجی روزینہ داروں میں جب بدریین (وہ صحابہ جو جنگ بدر میں شریک تھے ) کے لئے تنخواہیں مقرر ہوئیں۔ تو اور لوگوں کے ساتھ پانچ ہزار درہم سالانہ ان کے بھی مقرر ہو گئے۔ کروڑوں روپے کی آمدنی میں فاروق اعظم کو سال بھر میں جو ملتا تھا اس کی یہ تعداد تھی۔

ان کی معاشرت کے حالات میں آگے چل کر آپ پڑھیں گے کہ وہ اکثر پھٹے پرانے کپڑے پہنتے تھے۔ زمین پر سو رہتے تھے۔ مہینوں گیہوں کا آٹا گھر میں نہیں پکتا تھا۔ اس کی وجہ کچھ رہبانیت اور جوگی پن نہ تھا۔ بلکہ درحقیقت اس سے زیادہ ان کو ملک کی آمدنی میں سے نصیب نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کبھی اتفاقیہ کوئی بڑی رقم آ جاتی تھی تو وہ بے دریغ خرچ بھی کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت اُم کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب نکاح کیا تو ان کے شرف اور خاندان نبوت کے تعلق کی وجہ سے 40 ہزار درہم مہر باندھا اور اسی وقت ادا بھی کر دیا۔

بنو ہاشم كو جو ملكی عہدے نہیں دیئے اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کو خوف تھا کہ بنو ہاشم چونکہ خمس میں اپنا حصہ ایک شرعی حق سمجھتے ہیں اس لئے دولت مند ہونے کے باوجود خمس میں سے اپنا حصہ لیں گے۔ حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک خمس کے مصارف امام وقت کی رائے پر منحصر ہیں۔ چنانچہ اس کی مفصل بحث آگے آئے گی۔ انہوں نے بنو ہاشم کی نسبت اپنی اس بدگمانی کا اظہار بھی کر دیا تھا۔ خمس کا عامل جب انتقال ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر کرنا چاہا لیکن ان کی طرف سے مطمئن نہ تھے۔ اس لئے بلا کر ان سے کہا کہ ” فی نفسی منک شئی ” میرے دل میں تمہاری طرف سے ذرا کھٹکا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیوں؟ فرمایا: ” انی خشیت علیک ان تاتی علی الفی الذی ھوات ”
(کتاب الخراج ابو یوسف صفحہ 64 تا 65)۔

یعنی ” مجھے ڈر ہے کہ تم محاصل ملکی پر تصرف نہ کرو۔ ”

یہ صرف سوء ظن نہ تھا بلکہ وقوع میں بھی آیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں عبد اللہ کو عامل مقرر کیا تو انہوں نے بیت المال میں سے بہت سی رقم لے لی اور جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باز پرس کی تو لکھ بھیجا کہ ابھی میں نے اپنا پورا حق نہیں لیا۔
یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال کے بارے میں جو کفایت شعاری برتی وہ خلافت فاروقی کی کامیابی کا بہت بڑا سبب تھی۔

*انتظامی خصوصیات:*
==============

ایک عجیب بات یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بے انتہا کام درپیش رہتے تھے۔ دارالخلافہ سے سینکڑوں ہزاروں میل تک فوجیں پھیلی ہوئی تھیں۔ جن کی ایک ایک حرکت ان کے اشاروں پر موقوف تھی۔ انتظامات حکومت کی مختلف شاخوں کا ذکر ہم اوپر پڑھ آئے ہیں۔ فقہ کی ترتیب اور افتاء جو ایک مستقل اور بہت بڑا کام تھا، پھر اپنے ذاتی اشغال جدا تھے۔ تاہم ہر کام وقت پر انجام پاتا تھا اور کسی کام میں کبھی حرج نہیں ہوتا تھا۔ نہاوند کا سخت معرکہ جس میں تمام ایران امنڈ آیا تھا درپیش تھا کہ عین اسی زمانے میں حضرت سعد بن وقاصؓ گورنر کوفہ کی شکایت گزری۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگرچہ بہت تنگ وقت ہے تاہم سعد کی تحقیقات نہیں رک سکتی۔ چنانچہ کوفہ سے فوجوں کی روانگی کا انتظام بھی ہوتا رہا اور ساتھ ہی بڑی کدو کاوش سے سعدؓ کی تحقیقات بھی ہوئی۔

جزیرہ والوں نے قیصر سے مل کر جب شام پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس سرعت سے تمام اضلاع سے فوجیں بھیجیں کہ جزیرہ کے تمام ناکے روک دیئے اور اہل جزیرہ قیصر تک پہنچ بھی نہ سکے۔ زیاد بن جدیر، دو ملکی تحصیل پر مامور تھے۔ انہوں نے ایک عیسائی کے گھوڑے کی قیمت بیس ہزار قرار دے کر محصول طلب کیا۔ اس نے کہا کہ گھوڑا آپ رکھ لیجیئے اور 19 ہزار مجھ کو حوالہ کیجئے۔ دوبارہ عیسائی ان کی سرحد سے گزرا تو اس سے پھر محصول مانگا۔ وہ مکہ معظمہ پہنچا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شکایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اس قدر کہا کہ تم مطمئن رہو۔ عیسائی زیاد بن جدیر کے پاس واپس آیا اور اور دل میں ارادہ کر چکا تھا کہ ایک ہزار اور دے کر گھوڑے کو واپس لے۔ یہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان پہلے پہنچ چکا تھا کہ سال بھر میں دو دفعہ ایک چیز کا محصول نہیں لیا جا سکتا۔

ایک اور عیسائی کو اسی قسم کا واقعہ پیش آیا۔ وہ عین اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا جب وہ حرم میں خطبہ پڑھ رہے تھے۔ اسی حالت میں اس نے شکایت کی۔ فرمایا دوبارہ محصول نہیں لیا جا سکتا۔ (یہ دونوں روایتیں کتاب الخراج صفحہ 78-79 میں ہیں)۔ عیسائی چند روز مکہ میں مقیم رہا۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا کہ ” میں وہی نصرانی ہوں جس نے محصول کے متعلق شکایت کی تھی۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں حنیفی (مسلمان) ہوں جس نے تمہارا کام انجام دیا۔ عیسائی نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے ہی دن زیاد کو حکم بھیج چکے تھے۔

اس بات کا بہت سخت اہتمام کیا کہ ممالک محروسہ میں سے کوئی شخص فقر و فاقہ میں مبتلا نہ ہونے پائے۔ عام حکم تھا اور اس کی ہمیشہ تعمیل ہوتی تھی کہ ملک میں جس قدر اپاہج، از کار رفتہ اور مفلوج وغیرہ ہوں سب کی تنخواہیں بیت المال سے مقرر کر دی جائیں۔ لاکھوں سے متجاوز آدمی فوجی دفتر میں داخل تھے جن کو گھر بیٹھے خوراک ملتی تھی۔ اول یہ انتظام کیا گیا تو حکم دیا کہ ایک جریب (قریباً پچیس سیر کا ہوتا ہے ) آٹا پکایا جائے۔ پک کر تیار ہوا تو 30 آدمیوں کو بلا کر کھلایا گیا۔ شام کو پھر اسی قدر آٹا پکوایا اور اسی قدر آدمیوں کو کھلایا۔ دونوں وقت کے لئے یہ مقدار کافی ٹھہری تو فرمایا کہ ایک مہینے بھر کی خوراک دو جریب آٹا کافی ہے۔ پھر حکم دیا کہ ہر شخص کے لئے اس قدر آٹا مقرر کر دیا جائے۔ اعلان عام کے لئے ممبر پر چڑھے اور پیمانہ ہاتھ میں لے کر کہا کہ میں نے تم لوگوں کے لئے اس قدر خوراک مقرر کر دی ہے۔ جو شخص اس کو گھٹائے گا اس سے خدا پوچھے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ پیمانہ ہاتھ میں لے کر یہ الفاظ فرمائے۔

انی قد فرضت لکل نفس مسلمۃ فی شھر مدی حنطتہ و قسطی خل

یعنی ” میں نے ہر مسلمان کے لئے فی ماہ دو مد گیہوں اور دو قسط سرکہ مقرر کیا ہے۔ ”

اس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا غلام کے لئے بھی، فرمایا ” ہاں غلام کے لئے بھی” (یہ پوری تفصیل فتوح البلدان صفحہ 460 میں ہے اور تمام تاریخوں میں بھی ذرا ذرا اسے اختلاف کے ساتھ یہ روزیت مذکور ہے )۔ غرباء اور مساکین کے لئے بلا تخصیص مذہب حکم تھا کہ بیت المال سے ان کے روزینے مقرر کر دیئے جائیں۔ چنانچہ جیسا ہم اوپر ذمیوں کے حقوق میں لکھ آئے ہیں۔ بیت المال کے عامل کو لکھ بھیجا کہ خدا کے اس قول سے کہ ” انما الصدقات للفقرآء والمساکین ” فقراء سے مسلمان اور مساکین سے اہل کتاب مراد ہیں۔
*سیاست وتدبیر:*
===========

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیاست کے اصول سے خوب واقف تھے۔ اور یہ وہ خصوصیت ہے جس میں وہ دیگر تمام صحابہ سے علانیہ ممتاز ہیں۔ جو ممالک دائرہ خلافت میں داخل تھے ان کی تین قسمیں تھیں۔ عرب عراق، ایران، شام و مصر۔ اس لئے ہر ایک کی حالت کے مناسب الگ الگ تدبیریں اختیار کیں۔

عراق و ایران میں چونکہ مدت سے مرزبان اور دہقان چلے آتے تھے اور اسلام کی فتح کے بعد بھی ان کا زور اور اقتدار قائم تھا۔ اس لئے ان کی پولٹیکل تنخواہیں مقرر کر دیں جس سے وہ بالکل رام ہو گئے۔ چنانچہ رؤسائے عراق میں ابن التخیر جان بسطام بن رنسی، رفیل، خالد، جمیل کے معقول روزینے مقرر کر دیئے۔

شام اور مصر میں رومیوں نے اصلی باشندوں کو صاحب جائیداد نہیں چھوڑا تھا۔ اس لئے ان کی طرف سے چنداں اندیشہ نہ تھا۔ وہ رومی حکومت کی بجائے ایک عادل اور منصف گورنمنٹ چاہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ مراعاتیں کیں کہ انہوں نے بارہا کہا کہ ہم کو مسلمان رومیوں کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہیں۔ غیر قوموں کے ساتھ اگرچہ ان کا برتاؤ عموماً نہایت فیاضانہ تھا۔ چنانچہ اس کی بحث ذمیوں کے حقوق میں گزر چکی ہے۔ لیکن زیادہ تفحص سے معلوم ہوتا ہے کہ شام و مصر کی رعایا پر خاص توجہ مبذول تھی۔

مصر میں مقوقس مصر کا باشندہ اور رومیوں کی طرف سے نائب حکومت تھا۔ اس کے ساتھ شروع سے ایسے برتاؤ کئے کہ وہ ناخریدہ غلام بن گیا اور اس کی وجہ سے تمام مصر رعایا دل سے حلقہ بگوش اطاعت ہو گئی، ان باتوں پر بھی اکتفا نہیں کیا بلکہ جنگی مقامات پر عرب کے خاندان آباد کرا دیئے اور فوجی چھاؤنیاں قائم کر دیں جن کی وجہ سے سینکڑوں میل تک اثر پہنچا اور کسی بغاوت کی جرات نہیں ہو سکتی تھی۔

کوفہ و بصرہ جو عرب کی طاقت کا مرکز بن گیا تھا، خاص اسی غرض سے آباد کرایا گیا تھا۔ شام اور مصر میں تمام سواحل پر فوجی چھاؤنیاں اسی ضرورت سے قائم کی گئی تھیں۔ خاص عرب میں ان کو مختلف پولٹیکل تدبیروں سے کام لینا پڑا۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے بالکل نکال دیا۔ بڑے بڑے ملکی افسروں کو ہمیشہ بدلتے رہتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمرو بن العاص کے سوا کوئی ایسا گورنر مقرر نہیں ہوا جو مختلف صوبہ جات میں بدلتا نہ رہا ہو۔ ملکی افسروں میں سے جس کی نسبت زیادہ زور پا جانے کا خیال ہوتا تھا، اس کو علیحدہ کر دیتے تھے۔ جو لوگ زیادہ صاحب اثر تھے ان کو اکثر دارالخلافہ سے باہر نہیں جانے دیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ ان لوگوں نے جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی تو فرمایا تو فرمایا: لا تخرجو افسللوا یمیناً و شمالاً (تاریخ یعقوبی صفحہ 181)۔

ایک دفعہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے پوچھا کہ ” آپ ہم لوگوں کو باہر جانے سے کیوں روکتے ہیں” فرمایا کہ اس کا جواب نہ دینا جواب دینے سے بہتر ہے (تاریخ یعقوبی صفحہ 181)۔ اپنے قبیلے کے لوگوں کو کبھی ملکی عہدے نہیں دیئے۔ صرف نعمام بن عدی کو ضلع کا حاکم مقرر کیا تھا پھر ایک معقول وجہ سے موقوف کر دیا۔ بنو ہاشم کو بھی ملکی عہدنے نہیں دیئے اور اس میں زیادہ تر یہی مصلحت ملحوظ تھی۔

اس وقت تمام عرب میں تین شخص موجود تھے جو مشہور مدبر اور صاحب ادعا تھے۔ امیر معاویہ، عمرو بن العاص، مغیرہ بن شعبہ، چونکہ مہمات ملکی کے انجام دینے کے لئے ان لوگوں سے بڑھ کر تمام عرب میں کوئی شخص ہاتھ نہیں آ سکتا تھا۔ اس لئے سب کو بڑے بڑے عہدے دیئے ، لیکن ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے اور ایسی تدبیر کرتے کہ وہ قابو سے باہر نہ ہونے پائیں۔
جاری ہے