عہد خلافت راشدہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ
(قسط نمبر 32)
تحریر و پیشکش محمد نوید
#انتظامی_خصوصیات
پیشکش : محمحدنوید
==============

ایک عجیب بات یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بے انتہا کام درپیش رہتے تھے۔ دارالخلافہ سے سینکڑوں ہزاروں میل تک فوجیں پھیلی ہوئی تھیں۔ جن کی ایک ایک حرکت ان کے اشاروں پر موقوف تھی۔ انتظامات حکومت کی مختلف شاخوں کا ذکر ہم اوپر پڑھ آئے ہیں۔ فقہ کی ترتیب اور افتاء جو ایک مستقل اور بہت بڑا کام تھا، پھر اپنے ذاتی اشغال جدا تھے۔ تاہم ہر کام وقت پر انجام پاتا تھا اور کسی کام میں کبھی حرج نہیں ہوتا تھا۔ نہاوند کا سخت معرکہ جس میں تمام ایران امنڈ آیا تھا درپیش تھا کہ عین اسی زمانے میں حضرت سعد بن وقاصؓ گورنر کوفہ کی شکایت گزری۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگرچہ بہت تنگ وقت ہے تاہم سعد کی تحقیقات نہیں رک سکتی۔ چنانچہ کوفہ سے فوجوں کی روانگی کا انتظام بھی ہوتا رہا اور ساتھ ہی بڑی کدو کاوش سے سعدؓ کی تحقیقات بھی ہوئی۔

جزیرہ والوں نے قیصر سے مل کر جب شام پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس سرعت سے تمام اضلاع سے فوجیں بھیجیں کہ جزیرہ کے تمام ناکے روک دیئے اور اہل جزیرہ قیصر تک پہنچ بھی نہ سکے۔ زیاد بن جدیر، دو ملکی تحصیل پر مامور تھے۔ انہوں نے ایک عیسائی کے گھوڑے کی قیمت بیس ہزار قرار دے کر محصول طلب کیا۔ اس نے کہا کہ گھوڑا آپ رکھ لیجیئے اور 19 ہزار مجھ کو حوالہ کیجئے۔ دوبارہ عیسائی ان کی سرحد سے گزرا تو اس سے پھر محصول مانگا۔ وہ مکہ معظمہ پہنچا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شکایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اس قدر کہا کہ تم مطمئن رہو۔ عیسائی زیاد بن جدیر کے پاس واپس آیا اور اور دل میں ارادہ کر چکا تھا کہ ایک ہزار اور دے کر گھوڑے کو واپس لے۔ یہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان پہلے پہنچ چکا تھا کہ سال بھر میں دو دفعہ ایک چیز کا محصول نہیں لیا جا سکتا۔

ایک اور عیسائی کو اسی قسم کا واقعہ پیش آیا۔ وہ عین اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا جب وہ حرم میں خطبہ پڑھ رہے تھے۔ اسی حالت میں اس نے شکایت کی۔ فرمایا دوبارہ محصول نہیں لیا جا سکتا۔ (یہ دونوں روایتیں کتاب الخراج صفحہ 78-79 میں ہیں)۔ عیسائی چند روز مکہ میں مقیم رہا۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا اور کہا کہ ” میں وہی نصرانی ہوں جس نے محصول کے متعلق شکایت کی تھی۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں حنیفی (مسلمان) ہوں جس نے تمہارا کام انجام دیا۔ عیسائی نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے ہی دن زیاد کو حکم بھیج چکے تھے۔

اس بات کا بہت سخت اہتمام کیا کہ ممالک محروسہ میں سے کوئی شخص فقر و فاقہ میں مبتلا نہ ہونے پائے۔ عام حکم تھا اور اس کی ہمیشہ تعمیل ہوتی تھی کہ ملک میں جس قدر اپاہج، از کار رفتہ اور مفلوج وغیرہ ہوں سب کی تنخواہیں بیت المال سے مقرر کر دی جائیں۔ لاکھوں سے متجاوز آدمی فوجی دفتر میں داخل تھے جن کو گھر بیٹھے خوراک ملتی تھی۔ اول یہ انتظام کیا گیا تو حکم دیا کہ ایک جریب (قریباً پچیس سیر کا ہوتا ہے ) آٹا پکایا جائے۔ پک کر تیار ہوا تو 30 آدمیوں کو بلا کر کھلایا گیا۔ شام کو پھر اسی قدر آٹا پکوایا اور اسی قدر آدمیوں کو کھلایا۔ دونوں وقت کے لئے یہ مقدار کافی ٹھہری تو فرمایا کہ ایک مہینے بھر کی خوراک دو جریب آٹا کافی ہے۔ پھر حکم دیا کہ ہر شخص کے لئے اس قدر آٹا مقرر کر دیا جائے۔ اعلان عام کے لئے ممبر پر چڑھے اور پیمانہ ہاتھ میں لے کر کہا کہ میں نے تم لوگوں کے لئے اس قدر خوراک مقرر کر دی ہے۔ جو شخص اس کو گھٹائے گا اس سے خدا پوچھے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ پیمانہ ہاتھ میں لے کر یہ الفاظ فرمائے۔

انی قد فرضت لکل نفس مسلمۃ فی شھر مدی حنطتہ و قسطی خل

یعنی ” میں نے ہر مسلمان کے لئے فی ماہ دو مد گیہوں اور دو قسط سرکہ مقرر کیا ہے۔ ”

اس پر ایک شخص نے کہا کہ کیا غلام کے لئے بھی، فرمایا ” ہاں غلام کے لئے بھی” (یہ پوری تفصیل فتوح البلدان صفحہ 460 میں ہے اور تمام تاریخوں میں بھی ذرا ذرا اسے اختلاف کے ساتھ یہ روزیت مذکور ہے )۔ غرباء اور مساکین کے لئے بلا تخصیص مذہب حکم تھا کہ بیت المال سے ان کے روزینے مقرر کر دیئے جائیں۔ چنانچہ جیسا ہم اوپر ذمیوں کے حقوق میں لکھ آئے ہیں۔ بیت المال کے عامل کو لکھ بھیجا کہ خدا کے اس قول سے کہ ” انما الصدقات للفقرآء والمساکین ” فقراء سے مسلمان اور مساکین سے اہل کتاب مراد ہیں۔

*رفاہ عام کے متعلق حضرت عمرؓ کی نکتہ سنجی:*
===============================

ایشائی سلاطین و امراء کی فیاضیوں کا ذکر عموماً بڑے ذوق و شوق سے کیا جاتا ہے۔ لیکن لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے کہ اس سے جہاں ایک بادشاہ کی مدح نکلتی ہے دوسری طرف قوم کا درویزہ گر ہونا اور انعام و بخشش پر لو لگائے بیٹھے رہنا بھی ثابت ہوتا ہے۔ یہی ایشائی فیاضیاں تھیں جس نے آج ہماری قوم میں لاکھوں آدمی ایسے پیدا کر دیئے ہیں جو خود ہاتھ پاؤں ہلانا نہیں چاہتے اور نذر و نیاز وغیرہ پر اوقات بسر کرتے ہیں۔

لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے بے خبر نہ تھے۔ وہ اس بات کی سخت کوشش کرتے تھے کہ لوگوں میں کاہلی اور مفت خوری کا مادہ نہ پیدا ہونے پائے۔ جن لوگوں کی تنخواہیں اور خوراک مقرر کی تھیں، وہ صرف وہ لوگ تھے جن سے کبھی نہ کبھی فوجی خدمت کی توقع ہو سکتی تھی۔ یا جنہوں نے پہلے کوئی نمایاں خدمت کی ہوئی تھی اور وہ ضعیف اور بیماری کی وجہ سے خود کسب معاش نہیں کر سکتے تھے۔ اس اقسام کے علاوہ وہ کبھی اور قسم کی فیاضی کو روا نہیں رکھ سکتے تھے۔

محدث ابن جوزی نے سیرۃ العمرین میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک سائل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا تو اس کی جھولی آٹے سے بھری ہوئی تھی۔ چھین کر اونٹوں کے آگے ڈال دی اور فرمایا کہ اب جو مانگنا ہے مانگ۔ علامہ ماروردی نے احکام السلطانیہ میں لکھا ہے کہ محتسب کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کو جو کھانے کمانے کے قابل ہوں اور باوجود اس کے صدقہ اور خیرات لیتے ہوں تنبیہہ و تادیب کرے۔ اس کے بعد علامہ موصوف نے اس کی سند میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فعل سے استدلال کیا ہے اور لکھا ہے کہ:
” وقد فعل عمر مثل ذلک بقوم من اھل الصدقۃ ” (الاحکام السلطانیہ مطبوعہ مصر صفحہ 235)۔

معمول تھا کہ جب کسی شخص کو ظاہر میں خوشحال دیکھتے تو دریافت فرماتے کہ یہ کوئی پیشہ بھی کرتا ہے؟ اور جب لوگ کہتے کہ نہیں، تو فرماتے کہ یہ شخص میری آنکھ سے گر گیا۔ ان کا مقولہ تھا کہ:

” مکسبہ فیھا دنائۃ خیر من مسالۃ الناس ”
*یعنی ذلیل پیشہ بھی لوگوں سے سوال کرنے کے بہ نسبت اچھا ہے۔*

مفت خوری کا موقع تو زیادہ تر علماء و صوفیا کو ملتا ہے۔ ان کے زمانے تک صوفیہ تو پیدا نہیں ہوئے تھے لیکن علماء کو انہوں نے اعلانیہ مخاطب کر کے کہا ”لا تکونو عبیالاً علی المسلمین ”
یعنی مسلمانوں پر اپنا بار نہ ڈالو۔ (سیرۃ العمرین لا بن الجوزی)۔

اکثر شہروں میں مہمان خانے تعمیر کرائے۔ جہاں مسافروں کو بیت المال کی طرف سے کھانا ملتا تھا۔ چنانچہ کوفہ کے مہمان خانے کا ذکر ہم کوفہ کی آبادی کے ذکر میں لکھ آئے ہیں۔ مدینہ منورہ میں جو لنگر خانہ تھا اکثر وہاں خود جا کر اپنے اہتمام سے کھانا کھلواتے تھے۔

اولاد لقطہ یعنی گمنام بچے جن کو مائیں شاہراہ وغیرہ پر ڈال جاتی تھیں، ان کے لئے سن 18 ہجری میں یہ انتظام کیا کہ جہاں اس قسم کا کوئی بچہ ملے اس کے دودھ پلانے اور دیگر مصارف کا انتظام بیت المال سے کیا جائے۔ (بلاذری صفحہ 452 و یعقوبی جلد 7 صفحہ 71)۔ چنانچہ ان مصارف کے لئے اول سو درہم سالانہ مقرر ہوتے تھے پھر سال بہ سال ترقی ہو جاتی تھی۔

یتیموں کی پرورش اگر ان کی جائیداد ہوتی تھی تو اس کی حفاظت کا نہایت اہتمام کرتے تھے اور اکثر تجارت کے ذریعے اسے ترقی دیتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ حکم بن ابی العاص سے کہا کہ میرے پاس یتیموں کا جو مال جمع ہے وہ زکوٰۃ نکالنے کی وجہ سے گھٹتا جا رہا ہے۔ تم اس کو تجارت میں لگاؤ اور جو نفع ہو واپس کر دو۔ چنانچہ دس ہزار کی رقم حوالہ کی اور وہ بڑھتے بڑھتے لاکھ تک پہنچ گئی۔

*قحط میں انتظام:*

18 ہجری میں جب عرب میں قحط پڑا تو عجب سرگرمی ظاہر کی۔ اول بیت المال کا تمام نقد و غلہ صرف کیا۔ پھر تمام صوبوں کے افسروں کو لکھا کہ ہر جگہ سے غلہ روانہ کیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ نے چار ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے بھیجے۔ حضرت عمرو بن العاص نے بحر قلزم کی راہ سے بیس جہاز روانہ کئے جن میں ایک ایک میں تین تین ہزار اردب غلہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان جہازوں کے ملاحظہ کے لئے خود بندرگاہ تک گئے۔ جس کا نام جار تھا، اور مدینہ منورہ سے تین منزل ہے۔ بندرگاہ میں دو بڑے بڑے مکان بنوائے اور زید بن ثابت کو حکم دیا کہ قحط زدوں کا نقشہ بنائیں۔ چنانچہ بقید نام اور مقدار غلہ رجسٹر تیار ہوا۔ ہر شخص کو چیک تقسیم کی گئی۔ جس کے مطابق اس کو روزانہ غلہ ملتا تھا۔ چیک پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مہر ثبت ہوتی تھی۔ (یہ تفصیل یعقوبی صفحہ 77 میں ہے۔ اخیر کے فقرے یہ ہیں:
لم امر زید بن ثابت ان یکتب الناس علی منازلھم و امر ان یکتب مکا کامن قواطیس لم یختم اسا فلھا فکان اول من صبک و ختم اسفل الصکاک۔ اردب کم و بیش 2 من کا ہوتا ہے )۔
اس کے علاوہ ہر روز 120/اونٹ خود اپنے اہتمام سے ذبح کراتے تھے اور قحط زدوں کو کھانا پکوا کر کھلاتے تھے۔

اس موقع پر یہ بات خاص طور پر جتا دینے کے قابل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اگرچہ ملک کی پرورش اور پرداخت کا اتنا کچھ اہتمام تھا لیکن ان کی فیاضی ایشیائی قسم کی فیاضی نہ تھی جس کا نتیجہ کاہلی اور مفت خوری کا رواج دنیا میں ہوتا ہے۔

*چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی توجہ:*
=======================

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخی زندگی میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ اگرچہ ان کو ہمیشہ بڑے اہم امور سے سابقہ رہتا تھا۔ تاہم نہایت چھوٹے چھوٹے کام بھی وہ خود انجام دے لیتے تھے اور اس کے لئے ان کو وقت اور فرصت کی تنگی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ان میں ایسے کام بھی ہوتے تھے جن کا اختیار کرنا بظاہر شان خلافت کے خلاف تھا۔ لیکن ان کو کسی کام سے عار نہ تھا۔

روزینہ داروں کے جو روزینے مقرر تھے اکثر خود جا کر تقسیم کرتے تھے۔ قدید اور عسفان مدینہ سے کئی منزل کے فاصلے پر دو قصبے ہیں، جہاں قبیلہ خزاعہ کے لوگ آباد تھے۔ ان دونوں مقاموں میں خود تشریف لے جاتے تھے۔ روزینہ داروں کا دفتر ہاتھ میں ہوتا تھا۔ ان کو دیکھ کر چھوٹے بڑے سب کے سب گھروں سے نکل آتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اپنے ہاتھ سے تقسیم کرتے جاتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ دارالصدقہ میں جاتے اور ایک ایک اونٹ کے پاس کھڑے ہو کر ان کے دانت گنتے اور ان کا حلیہ قلمبند کرتے۔

محب طبری نے ابو حذیفہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کا معمول تھا کہ مجاہدین کے گھروں پر جاتے اور عورتوں سے کہتے کہ تم کو کچھ بازار سے منگوانا ہو تو میں لا دوں۔ وہ لونڈیاں ساتھ کر دیتیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود چیزیں خریدتے اور ان کے حوالہ کرتے۔ مقام جنگ سے قاصد آتا اور اہل فوج کے خطوط لاتا تو خود ان کے گھروں پر پہنچا آتے تھے اور کہتے کہ فلاں تاریخ تک قاصد واپس جائے گا۔ جواب لکھوا رکھو کہ اس وقت تک روانہ ہو جائے۔ کاغذ، قلم اور دوات خود مہیا کر دیتے اور جس گھر میں کوئی حرف شناس نہ ہوتا خود چوکھٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور گھر والے جو لکھواتے لکھتے جاتے۔

ان کی سب سے زیادہ توجہ اس بات پر مبذول رہتی تھی کہ رعایا کی کوئی شکایت ان تک پہنچنے سے نہ رہ جائے۔ یہ معمول رکھا کہ ہر نماز کے بعد صحن مسند میں بیٹھ جاتے اور جس کو جو ان سے کہنا سننا ہوتا کہتا۔ کوئی نہ ہوتا تو تھوڑی دیر انتظار کر کے اٹھ جاتے۔ راتوں کو دورہ کیا کرتے۔ سفر میں راہ چلتوں سے حالات پوچھتے۔ بیرونی اضلاع سے جو سرکاری قاصد آتے ان سے ہر قسم کی پرسش خود کرتے۔

ایک عمدہ طریقہ دریافت حالات کا یہ تھا کہ تمام اضلاع سے ہر سال سفارتیں آتیں اور وہ ان مقامات کے متعلق ہر قسم کی ضروری باتیں پیش کرتے۔ اس سفارت کو وفد کہتے تھے اور یہ عرب کا قدیم دستور تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانے میں اس سے وہ کام لیا جو آج کل کی سلطنتوں میں رعایا کے قائم مقام ممبر انجام دیتے ہیں۔

==================> جاری ہے ۔۔۔