عہد خلافت راشد امیر المومینین سیدنا حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ

(قسط نمبر 33)
رعایا کی خبرگیری
پیشکش : محمدنوید
=============

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں مختلف اضلاع سے جو سفارتیں آئیں اور جس طرح انہوں نے اپنی مقامی ضرورتیں پیش کیں۔ اس کا حال عقد الفرید وغیرہ میں بتفصیل ملتا ہے۔
ان تمام باتوں پر بھی ان کو تسلی نہ ہوئی تھی۔ فرماتے کہ عمال رعایا کی پرواہ نہیں کرتے اور ہر شخص مجھ تک پہنچ نہیں سکتا۔ اس بناء پر ارادہ کیا تھا کہ شام، جزیرہ، کوفہ اور بصرہ کا دورہ کریں اور ہر جگہ دو دو مہینے ٹھہریں۔ لیکن موت نے فرصت نہ دی۔ تاہم اخیر دفعہ جب شام کا سفر کیا تو ایک ایک ضلع میں ٹھہر کر لوگوں کی شکایتیں سنیں اور داد رسی کی۔

اس سفر میں ایک پر عبرت واقعہ پیش آیا۔ دارالخلافہ کو واپس آ رہے تھے کہ راہ میں ایک خیمہ دیکھا۔ سواری سے اتر کر خیمہ کے قریب گئے۔ ایک بڑھیا عورت نظر آئی۔ اس سے پوچھا عمر کا کچھ حال معلوم ہوا؟ اس نے کہا ہاں شام سے روانہ ہو چکا لیکن خدا اس کو غارت کرے۔ آج تک مجھ کو اس کے ہاں سے ایک حبہ بھی نہیں ملا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اتنی دور کا حال عمر کو کیونکر معلوم ہو سکتا ہے۔. بولی کہ ” اس کو رعایا کا حال معلوم نہیں تو خلافت کیوں کرتا ہے ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت رقت ہوئی اور بے اختیار رو پڑے۔

ہم اس موقع پر متعدد حکایتیں نقل کرتے ہیں جس سے اندازہ ہو گا کہ رعایا کے آرام و آسائش اور خبر گیری میں ان کو کس قدر سرگرمی اور ہمدردی تھی۔

ایک دفعہ ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا اور شہر کے باہر اترا۔ اس کی خبر گیری اور حفاظت کے لئے خود تشریف لے گئے۔ پہرہ دیتے پھرتے تھے کہ ایک طرف سے رونے کی آواز آئی۔ ادھر متوجہ ہوئے ، دیکھا تو ایک شیر خوار بچہ ماں کی گود میں رو رہا تھا۔ ماں کو تاکید کی کہ بچے کو بہلائے۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر ادھر سے گزر ہوا تو بچے کو روتا پایا۔ غیظ میں آ کر فرمایا کہ تو بڑی بے رحم ماں ہے۔ اس نے کہا کہ تم کو اصل حقیقت معلوم نہیں، خواہ مخواہ مجھ کو دق کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا ہے کہ بچے جب تک ماں کا دودھ نہ چھوڑیں، بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے۔ میں اس غرض سے اس کا دودھ چھڑاتی ہوں اور یہ اس وجہ سے روتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رقت ہوئی اور کہا کہ ہائے عمر! تو نے کتنے بچوں کا خون کیا ہو گا۔ اسی دن سے منادی کرا دی کہ بچے جس دن سے پیدا ہوں اسی تاریخ سے ان کے روزینے مقرر کر دیئے جائیں گے۔

اسلم (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام) کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو گشت کے لئے نکلے۔ مدینہ سے تین میل پر صرار نامی ایک مقام ہے۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور دو تین بچے رو رہے ہیں۔ پاس جا کر حقیقت حال دریافت کی۔ اس نے کہا کہ کئی وقتوں سے بچوں کو کھانا نہیں ملا۔ ان کے بہلانے کے لئے خالی ہانڈی میں پانی ڈال کر چڑھا دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی وقت اٹھے۔ مدینہ میں آ کر بیت المال سے آٹا، گوشت، گھی اور کھجوریں لیں اور اسلم سے کہا کہ میرے پیٹھ پر رکھ دو۔ اسلم نے کہا کہ میں لئے چلتا ہوں۔ فرمایا ہاں! لیکن قیامت کے روز میرا بار تم نہیں اٹھاؤ گے۔ غرض سب چیزیں خود اٹھا کر لائے اور عورت کے آگے رکھ دیں۔ خود نے آٹا گوندھا، ہانڈی چڑھائی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود چولہا پھونکتے جاتے تھے۔ کھانا تیار ہوا تو بچوں نے خوب سیر ہو کر کھایا اور اچھلنے کود نے لگے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچوں کو دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ عورت نے کہا، خدا تم کو جزائے خیر دے۔ سچ یہ ہے کہ امیر المومنین ہونے کے قابل تم ہو نہ کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

ایک دفعہ رات کو گشت کر رہے تھے کہ ایک بدو اپنے خیمہ سے باہر زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ پاس جا کر بیٹھے اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کیں۔ دفعتہً خیمہ سے رونے کی آواز آئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ کون روتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میری بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر پر آئے اور ام کلثوم (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ تھیں) کو ساتھ لیا۔ بدو سے اجازت لے کر ام کلثوم کو خیمہ میں بھیجا۔ تھوڑی دیر بعد بچہ پیدا ہوا۔ ام کلثوم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پکارا کہ امیر المومنین اپنے دوست کو مبارکباد دیجیئے۔ امیر المومنین کا لفظ سن کر بدو چونک پڑا اور مؤدب ہو کر بیٹھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نہیں کچھ خیال نہ کرو۔ کل میرے پاس آنا میں اس بچہ کی تنخواہ مقرر کر دوں گا۔

حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رات کو میرے مکان پر آئے۔ میں نے کہا آپ نے کیوں تکلیف کی۔ مجھ کو بلا لیا ہوتا۔ فرمایا کہ ابھی مجھے معلوم ہوا ہے کہ شہر سے باہر ایک قافلہ اترا ہے۔ لوگ تھکے ماندے ہوں گے۔ آؤ ہم تم چل کر پہرہ دیں۔ چنانچہ دونوں اصحاب گئے اور رات بھر پہرہ دیتے رہے۔

جس سال عرب میں قحط پڑا، ان کی عجیب حالت ہوئی۔ جب تک قحط رہا، گوشت، گھی، مچھلی، غرض کوئی لذیذ چیز نہ کھائی۔ نہایت خضوع سے دعائیں مانگتے تھے کہ ” اے خدا! محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کو میری شامت اعمال سے تباہ نہ کرنا۔ ” اسلم، ان کے غلام، کا بیان ہے کہ قحط کے زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو فکر و تردد رہتا تھا اور اس سے قیاس کیا جاتا تھا کہ اگر قحط رفع نہ ہوا تو وہ اسی غم میں تباہ ہو جائیں گے (یہ تمام روایتیں کنز العمال جلد 6 صفحہ 343 میں مستند حوالوں سے منقول ہیں)۔ قحط کا جو انتظام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا تھا اس کو ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔
ایک دفعہ ایک بدو ان کے پاس آیا، اور یہ اشعار پڑھے :

یا عمر الخیر خیر الجنۃ اکس
بناتی و امھنہ اقسم باللہ لتفعلنہ

“اے عمر! لطف اگر ہے تو جنت کا ہے۔ میری لڑکیوں کو کپڑے پہنا۔ خدا کی قسم تجھ کو یہ کرنا ہو گا۔ ”
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اور میں تمہارا کہنا نہ کروں تو کیا ہو گا۔ بدو نے کہا:

تکون عن حالی لتسئلنہ والواقف المسئول یبھتنہ اما الی نار و اما جنۃ

“تجھ سے قیامت کے روز میری نسبت سوال ہو گا اور تو ہکا بکا رہ جائے گا۔ پھر یا دوزخ کی طرف یا بہشت کی طرف جانا ہو گا۔ ”

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قدر روئے کہ داڑھی تر ہو گئی۔ غلام سے کہا کہ میرا یہ کرتا اس کو دے۔ اس وقت اس کے سوا اور کوئی چیز میرے پاس نہیں۔ (سیرۃ العمرین و ازالۃ اخفاء)۔

ایک دفعہ رات کو گشت کر رہے تھے کہ ایک عورت اپنے بالا خانے پر بیٹھی یہ اشعار گا رہی تھی۔

تطاول ھذا الیل وازور جانبہ
و لیس الی جنبی خلیل الاعبہ

“رات کالی ہے اور لمبی ہوتی جا رہی ہے اور میرے پہلو میں میرا دوست نہیں، جس سے خوش فعلی کروں۔ ”

اس عورت کا شوہر جہاد پر گیا ہوا تھا اور وہ اس کے فراق میں یہ درد انگیز اشعار پڑھ رہی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت قلق ہوا اور کہا کہ میں زنان عرب پر بڑا ظلم کیا ہے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور پوچھا کہ عورت کتنے دن مرد کے بغیر بسر کر سکتی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ چار مہینے۔ صبح ہوتے ہی ہر جگہ حکم بھیج دیا کہ کوئی سپاہی چار مہینے سے زیادہ باہر نہ رہنے پائے۔

سعید بن یربوع ایک صحابی تھے جن کی آنکھیں جاتی رہی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا کہ آپ جمعہ میں کیوں نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس آدمی نہیں کہ مجھ کو راستہ بتائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی مقرر کیا جو ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔ (اسد الغلبہ تذکرہ سعد بن یربوع)۔

ایک دفعہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے۔ ایک شخص کو دیکھا بائیں ہاتھ سے کھا رہا ہے۔ پاس جا کر کہا کہ داہنے ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے کہا جنگ موتہ میں میرا دایاں ہاتھ جاتا رہا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رقت ہوئی۔ اس کے برابر بیٹھ گئے اور رو رو کر کہنے لگے کہ افسوس تم کو وضو کون کراتا ہو گا۔ سر کون دھوتا ہو گا؟ کپڑے کون پہناتا ہو گا؟ پھر ایک نوکر مقرر کر دیا اور اس کے لئے تمام ضروری چیزیں خود مہیا کر دیں۔

*مذہبی امامت کا منصب:*
================

امامت کا منصب، در حقیقت نبوت کا ایک شعبہ ہے اور امام کی فطرت قریب قریب پیغمبر کی فطرت کی طرح ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں ” واز میان امت جمعے ہستند کہ جوہر نفس ایشاں قریب جوہر انبیاء مخلوق شدہ و ایں جماعہ داراصل فطرت خلفائے انبیاء اند درامت۔ (ازالۃ الخفاء جلد اول صفحہ 90)۔

مذہبی عقائد اور احکام اگرچہ بظاہر سادہ اور صاف ہیں کیونکہ صانع عالم کا اعتقاد اس کی صفات کمال کا اعتراف، سزا و جزا کا یقین، زہد و عبادت، محاسن اخلاق یہی چیزیں تمام مذاہب کے اصل الاصول اور احکام ہیں اور یہ سب بظاہر سادہ اور صاف باتیں ہیں۔ لیکن ان کے مسائل میں اشتباہ اور ابہام اس قدر ہے کہ اگر نکتہ سنجی اور دقیقہ رسی سے کام نہ کیا جائے تو ان کی حقیقت بالکل بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ مسائل قریباً تمام مذاہب میں مشترک تھے۔ تاہم کم و بیش سب میں غلطیاں واقع ہوئیں۔ اسلام انہی غلطیوں کو مٹانے کے لئے آیا اور تاکید کے ساتھ ان پر توجہ دلائی۔ لیکن چونکہ عام طبائع نکتہ سنج نہیں ہوتیں۔ اس لئے ہر زمانے میں اکثر لوگ اصل حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں اور اسی لئے ائمہ اور مجددین کی ضرورت باقی رہی کہ ان اسرار پر پردہ نہ پڑ جائے۔ مثلاً اسلام نے شرک کو کس قدر زور و شور سے مٹایا۔ لیکن غور سے دیکھو تو قبروں اور مزاروں کے ساتھ عوام تو ایک طرف بعض خواص کو جو طرز عمل ہے اس میں اب بھی کس قدر شرک کا مخفی اثر موجود ہے۔ گو استفادہ عن القبور اور حصول برکت کے خوشنما الفاظ نے ان پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان نازک اور مشتبہ مسائل میں جس طرح اصل حقیقت کو سمجھا اور جس جرات و دلیری سے اس کو لوگوں کے سامنے ظاہر کیا۔ اس کی نظیر صحابہ کے زمانے میں بہت کم ملتی ہے۔

الٰہیات کا ایک بڑا نازک مسئلہ قضا و قدر کا مسئلہ ہے۔ جس میں عموماً بڑے بڑے ائمہ مذہب کو غلطیاں واقع ہوئیں۔ یہاں تک کہ اکابر صحابہ میں سے بھی بعض کو اشتباہ ہوا۔ طاعون عمواس کے زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شام کا سفر کیا تو مقام سرغ میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہاں وبا کی نہایت شدت ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واپسی کا ارادہ کیا۔ حضرت ابو عبیدہ نے اس خیال سے کہ جو ہوتا ہے قضائے الٰہی سے ہوتا ہے نہایت طیش میں آ کر کہا کہ:
” افرارا من قدر اللہ ” یعنی قضا الٰہی سے بھاگتے ہو؟

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس نازک مسئلے کو ان مختصر اور بلیغ الفاظ میں حل فرمایا۔ (یہ واقعہ مفصل طور پر صحیح مسلم باب الطاعون میں مذکور ہے )
” نعم نفر من قدر اللہ الی قدر اللہ ” یعنی ” ہاں ہم خدا کے حکم سے خدا کے حکم کی طرف بھاگتے ہیں۔ ”

اسلام کا اصول شعائر اللہ کی تعظیم ہے۔ اسی بناء پر کعبہ اور حجر اسود وغیرہ کے احترام کا حکم ہے لیکن اس کی ظاہری صورت صنم پرستی سے کچھ ملتی جلتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ تمام مذاہب میں اسی طرح کے اصولوں سے رفتہ رفتہ صنم پرستی قائم ہو گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف موقعوں پر لوگوں کو اس غلط فہمی میں پڑنے سے بار رکھنے کے لیے فرمایا :

*انی اعلم انک حجر و انک لا تضر ولا تنفع*
*”میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ “*

ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک درخت کے نیچے لوگوں سے جہاد پر بیعت لی تھی۔ اس بناء پر یہ درخت متبرک سمجھا جانے لگا اور لوگ اس کی زیارت کو آنے لگے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دیکھ کر اس کو جڑ سے کٹوا دیا۔ (ازالۃ الخفاء حصہ دوم صفحہ 91- علامہ زرقانی نے شرح مواہب لدنیہ میں بیعت رضوان کے واقعہ کے ذکر میں لکھا ہے کہ ابن سعد نے طبقات میں اس واقعہ کو قلمبند صحیح روایت کیا ہے )۔

ایک دفعہ سفر حج سے واپس آ رہے تھے۔ راستے میں ایک مسجد تھی جس میں ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پڑھی تھی۔ اس خیال سے لوگ اس طرف دوڑے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اہل کتاب انہی باتوں کی بدولت تباہ ہوئے کہ انہوں نے پیغمبروں کی یادگاروں کو عبادت گاہ بنا لیا تھا۔ (ازالۃ الخفاء حصہ دوئم صفحہ 91)۔

*اخلاق اسلامی کا محفوظ رکھنا اور اسے ترقی دینا:*
==================================

منصب امامت کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سب سے بڑا کارنامہ جو تھا وہ یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا کو جس قسم کے برگزیدہ اور پاکیزہ اخلاق کی تعلیم دی تھی اور جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کا اصلی مقصد تھا جیسا کہ خود ارشاد فرمایا۔
” لا تمم مکارم الاخلاق ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیض سے قوم میں وہ اخلاق محفوظ رہے اور نئی قومیں جو اسلام میں داخل ہوتی گئیں اسی اثر سے متاثر ہوتی گئیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود اسلامی اخلاق کی مجسم تصویر تھے۔ ان کا خلوص انقطاع الی اللہ، لذائذ دنیا سے اجتناب، حفظ لسان، حق پرستی، راست گوئی یہ اوصاف خود بخود لوگوں کے دلوں میں اثر کر جاتے تھے اور ہر شخص جو ان کی صحبت میں رہتا تھا، کم و بیش اس قالب میں ڈھل جاتا تھا۔

مسور بن مخرمہ کا بیان ہے کہ ہم اس غرض سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہتے تھے کہ پرہیز گاری اور تقویٰ سیکھ جائیں۔ مؤرخ مسعودی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات اس جملے سے شروع کئے ہیں کہ ان میں جو اوصاف تھے وہ ان کے تمام افسروں اور عہدہ داروں میں پھیل گئے تھے۔ پھر نمونے کے طور پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سعید بن عامر وغیرہ کے نام اور ان کے اوصاف لکھے ہیں۔

*فخر و غرور کا استیصال:*

عرب میں جو اخلاق ذمیمہ، جاہلیت کی یادگار رہ گئے تھے وہ نسب کا فخر و غرور، عام لوگوں کی تحقیر، ہجو و بد گوئی، عشق و ہوا پرستی، بادہ نوشی اور مے پرستی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تمام بیہودہ اخلاق کا استیصال کر دیا۔ جو چیزیں فخر و غرور کی علامت تھیں، بالکل مٹا دیں۔ لڑائیوں میں قبائل اپنے قبیلوں کی جے پکارتے تھے، اس کو حکماً بند کر دیا۔ آقا اور نوکر کی جو تمیز تھی بالکل اٹھا دی۔ ایک دفعہ صفوان بن امیہ نے جب بہت سے معزز لوگوں کے ساتھ ان کی دعوت کی اور نوکروں کو کھانے پر نہیں بٹھایا تو نہایت برافروختہ ہوئے۔

ایک دفعہ بہت سے لوگ ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو بڑے رتبے کے صحابی تھے ملنے گئے۔ جب وہ مجلس سے اٹھے اور تعظیم کے لئے لوگ ان کے ساتھ ساتھ چلے، اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ادھر آ نکلے۔ یہ حالت دیکھ کر ابی کے ایک کوڑا لگایا۔ ان کو تعجب ہوا اور کہا خیر ہے ! یہ آپ کیا کرتے ہیں؟ فرمایا ” او ماتری فتنۃ للمتبوع مذلۃً للگابع ” (اسد الغابہ ترجمہ زبر قان)
” یعنی تم نہیں جانتے یہ امر متبوع کے لئے فتنہ اور تابع کے لئے ذلت ہے۔”

*ہجو کی ممانعت:*

ہجو و بد گوئی کا ذریعہ شعر و شاعری کا فن تھا۔ شعراء جا بجا لوگوں کی ہجو لکھتے تھے اور چونکہ عرب میں شعر کو رواج عام حاصل تھا، اس لئے یہ ہجویں نہایت جلد مشتہر ہو جاتی تھیں اور ان سے سینکڑوں مفاسد پیدا ہوتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہجو گوئی کو ایک جرم قرار دیا اور اس کے لئے سزا مقرر کی۔ چنانچہ یہ امر بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

حطیہ اس زمانے کا مشہور شاعر تھا اور سودا کی طرح فن ہجو گوئی میں کمال رکھتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو طلب کر کے ایک تہہ خانے میں قید کیا اور اس شرط پر چھوڑا کہ پھر کبھی کسی کی ہجو نہیں لکھے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں قریش نے جب تدبیروں سے عاجز ہو کر مسلمانوں کی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں ہجویں کہنی شروع کیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حسانؓ کو ترکی بترکی جواب دینے کی اجازت دی تھی۔ یہ اشعار قریش کے اسلام لانے کے بعد بھی متداول تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں حکم دیا کہ وہ نہ پڑھے جائیں کیونکہ ان سے پرانی رنجشیں تازہ ہوتی ہیں۔ (آغاز ندہ تذکرہ حسان بن ثابت 12)۔

*ہوس پرستی کی روک تھام:*

عشق و ہوس پرستی کا بھی بڑا ذریعہ یہی شعر و شاعری تھا۔ شعراء زیادہ تر رندانہ اور اوباشانہ اشعار لکھتے تھے اور ان میں اپنے معشوقوں کے نام تصریح کے ساتھ لیتے تھے۔ مذاق عام ہونے کی وجہ سے یہ اشعار بچہ بچہ کی زبان پر چڑھ جاتے تھے اور اس کی وجہ سے رندی و آوارگی ان کے خمیر میں داخل ہو جاتی تھی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قطعی حکم دیا کہ شعراء عورتوں کی نسبت عشقیہ اشعار نہ لکھنے پائیں۔ چنانچہ صاحب اسد الغابہ نے حمید بن ثور کے تذکرے میں اس واقعہ کو ان الفاظ میں لکھا ہے ” تقدم عمر بن الخطاب الی الشعراء ان لا یتشبب احد با مراۃ الا جلدہَ ”

*شراب خوری:*

شراب پینے کی جو سزا پہلے سے مقرر تھی اس کو زیادہ سخت کر دیا۔ یعنی پہلے 40 درے مارے جاتے تھے۔ انہوں نے 40 سے 80 درے کر دیئے۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ اس زمانے میں دولت کی کثرت اور فتوحات کی وسعت کی وجہ سے عیش و عشرت کے لئے بے انتہا سامان مہیا ہو گئے تھے۔ تاہم لوگ عیش و عشرت میں مبتلا نہ ہونے پائے اور جس پاک اور مقدس زندگی کی بنیاد شارع علیہ السلام نے ڈالی تھی وہ اسی استواری کے ساتھ قائم رہی۔

==================> جاری ہے ۔۔۔