عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم مراد رسول حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ
(قسط نمبر 34 سیکنڈ_لاسٹ )
تحریر و پیشکش محمد نوید

زادئ_اظہار_رائے_اور_حق_گوئی_قائم_رکھنا
پیشکش : محمدنوید
=============================

اخلاق کی پختگی اور استواری کا اصلی سر چشمہ آزادی اور خود داری ہے۔ اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر بہت توجہ کی اور یہ وہ خصوصیت ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سوا اور خلفاء کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حضرت عثمان و حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے البتہ آزادی سے تعرض نہیں کیا۔ لیکن اس کے خطرات کی روک تھام نہ کر سکے جس کی بدولت حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت تک نوبت پہنچی اور جناب امیر کو جمل و صفین کے معرکے پیش آئے۔ برخلاف اس کے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت اعلیٰ درجہ کی آزادی قائم رکھنے کے باوجود حکومت کے جبروت میں ذرا کمی نہ آنے دی۔

مختلف موقعوں پر تحریر و تقریر سے جتا دیا کہ ہر شخص ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوا ہے اور ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی کسی کے آگے ذلیل ہو کر نہیں رہ سکتا۔ حضرت عمرو بن العاص کے معزز فرزند نے جب ایک قبطی کو بے وجہ مارا تو خود اسی کے ہاتھ سے مجمع عام میں سزا دلوائی اور عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے کی طرف مخاطب ہو کر یہ الفاظ کہے۔

*منذکم تعبد تم الناس و قد ولدتھم امھاتھم احرارا۔*

*”یعنی تم لوگوں نے آدمیوں کو غلام کب سے بنا لیا۔ ان کی ماؤں نے تو ان کو آزاد جنا تھا۔ “*

عرب میں جو لوگ ان کو معزز ہوتے تھے وہ اپنے قبیلہ کے سید یعنی آقا کہلاتے تھے اور ان سے کم رتبہ کے لوگ ان الفاظ سے مخاطب کرتے تھے۔

” جعلنی اللہ فدائک بابی و امی۔ ”
یعنی اللہ مجھے آپ پر قربان کر دے۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔

چونکہ ان الفاظ سے غلامی اور محکومی کی بو آتی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف موقعوں پر ان کی نسبت ناراضگی ظاہر کی۔ ایک شخص نے خود ان کی شان میں کہا تھا کہ
” جعلنی فداءک ” تو فرمایا کہ ” ان یھینک اللہ ” یعنی اگر تو ایسا کرے گا تو اللہ تجھ کو ذلیل کرے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس طریق عمل نے لوگوں کو جس قدر آزادی اور صاف گوئی پر دلیر کر دیا تھا اس کا صحیح اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو گا۔

ایک دفعہ انہوں نے منبر پر چڑھ کر کہا۔ صاحبو! اگر میں دنیا کی طرف جھک جاؤں تو تم لوگ کیا کرو گے۔ ایک شخص کھڑا ہو گیا اور تلوار میان سے کھینچ کر بولا کہ ” تمہارا سر اڑا دیں گے ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آزمانے کو ڈانٹ کر کہا “کیا میری شان میں تو یہ الفاظ کہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں تمہاری شان میں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ” الحمد للہ قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ میں کج ہوں گا تو سیدھا کر دیں گے۔ ”

عراق کی فتح کے بعد اکثر بزرگوں نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کر لی تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حذیفہ بن الیمان کو لکھا کہ میں اس کو ناپسند کرتا ہوں۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ حکم آپ کی ذاتی رائے ہے یا شرعی حکم ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھا کہ میری ذاتی رائے ہے۔ حضرت حذیفہ نے لکھ بھیجا کہ آپ کی ذاتی رائے کی پابندی ہم لوگوں پر ضروری نہیں۔ چنانچہ باوجود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ممانعت کے کثرت سے لوگوں نے شادیاں کیں۔ مؤرخ یعقوبی نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام عمالوں کا مال و اسباب نیلام کر کے آدھا مال بیت المال میں داخل کر دیا تو ایک عامل نے جس کا نام ابو بکرہ تھا صاف کہا کہ اگر یہ مال خدا کا تھا تو کل بیت المال میں داخل کرنا چاہیے تھا اور ہمارا تھا تو اس سے تم کو لینے کا کیا حق تھا؟

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید اور ان کی تعلیم و تربیت کا یہ اثر ہوا کہ اسلامی جماعت کا ہر ممبر پاکیزہ نفسی، نیک خوئی، حلم و تواضع، جرأت مندی و آزادی، حق پرستی و بے نیازی کی تصویر بن گیا۔ تاریخ کے مرقع میں اس وقت کی مجالس اور محافل کا نقشہ دیکھو تو ہر شخص کے حلیہ میں یہ خد و خال صاف نظر آتے ہیں۔

*منصب حدیث وفقہ:*
=============

حدیث و فقہ کا فن درحقیقت تمام تر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساختہ و پرداختہ ہے۔ صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں اور لوگ بھی محدث اور فقیہ تھے۔ چنانچہ ان کی تعداد 20 سے متجاوز بیان کی گئی ہے۔ لیکن فن کی ابتداء حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی اور فن کے اصول و قواعد اول انہوں نے ہی قائم کئے۔

حدیث کے متعلق پہلا کام جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا وہ یہ تھا کہ روایتوں کی تفحص و تلاش پر توجہ کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں احادیث کے استقصاء کا خیال نہیں کیا گیا تھا۔ جس کو کوئی مسئلہ پیش آتا تھا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کر لیتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ کسی صحابی کو فقہ کے تمام ابواب کے متعلق حدیثیں محفوظ نہ تھیں۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں زیادہ ضرورتیں پیش آئیں۔ اس لئے مختلف صحابہ سے استفسار کرنے کی ضرورت پیش آئی اور احادیث کے استقراء کا راستہ نکلا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں زیادہ کثرت سے واقعات پیش آئے کیونکہ فتوحات کی وسعت اور نو مسلموں کی کثرت نے سینکڑوں نئے مسائل پیدا کر دیئے تھے۔ اس لحاظ سے انہوں نے احادیث کی زیادہ تفتیش کی تا کہ مسائل آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اقوال کے موافق طے کئے جائیں۔ اکثر ایسا ہوتا کہ جب کوئی نئی صورت پیش آتی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجمع عام میں جس میں اکثر صحابہ موجود ہوتے تھے پکار کر کہتے کہ اس مسئلے کے متعلق کسی کو کوئی حدیث معلوم ہے ؟ تکبیرِ جنازہ، غسلِ جنابت، جزیۂ مجوس اور اس قسم کے بہت سے مسائل ہیں جن کی نسبت کتب احادیث میں نہایت تفصیل مذکور ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجمع صحابہ سے استفسار کر کے احادیث نبوی کا پتہ لگایا۔

*حدیث کی اشاعت:*

چونکہ حدیث جس قدر زیادہ شائع و مشتہر کی جائے اسی قدر اس کو قوت حاصل ہوتی ہے اور پچھلوں کے لئے قابل استناد قرار پاتی ہے۔ اس لئے اس کی نشر و اشاعت کی بہت سی تدبیریں اختیار کیں۔

① – احادیث نبوی کو بالفاظہا نقل کر کے اضلاع کے حکام کے پاس بھیجتے تھے جس سے ان کی عام اشاعت ہو جاتی تھی۔ یہ حدیثیں اکثر مسائل اور احکام کے متعلق ہوتی تھیں۔

② – صحابہ میں جو لوگ فن حدیث کے ارکان تھے۔ ان کو مختلف ممالک میں حدیث کی تعلیم کے لئے بھیجا۔ شاہ ولی اللہ صاحب لکھتے ہیں: ” چنانچہ فاروق اعظم عبد اللہ بن مسعود رلبا جمعے بکوفہ فرستاد، معقل بن یسار و عبد اللہ بن معقل و عمران بن حصین رابہ بصرہ، عبادہ بن صامت و ابو دردا را شام معاویہ بن ابی سفیان کہ امیر شام بود قدغن بلیغ نوشت کہ از حدیث ایشان تجاوز نکند”
(ازالۃ اخفاء صفحہ 6 حصہ دوم)۔

اس موقع پر ایک دقیق نکتہ خیال رکھنے کے قابل ہے۔ وہ یہ ہے کہ عام خیال یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث کی اشاعت میں بہت کچھ اہتمام کیا لیکن خود بہت کم حدیثیں روایت کیں۔ چنانچہ کل وہ مرفوع احادیث۔ ۔ ۔ ۔ جو ان سے بروایت صحیح مروی ہیں ستر سے زیادہ نہیں۔ یہ خیال بظاہر صحیح ہے۔ لیکن واقع میں یہاں ایک غلط فہمی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ اصول مسلم ہے کہ صحابی جب کوئی ایسا مسئلہ بیان کرے جس میں رائے اور اجتہاد کو دخل نہیں تو گو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نہ لے لیکن مطلب یہی ہو گا کہ اس نے رسول اللہ سے سنا ہے اور واقع میں یہ اصول بالکل عقل کے مطابق ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مثلاً تمام ممالک میں لکھ بھیجا کہ زکوٰۃ فلاں فلاں چیزوں پر فرض ہے اور اس حساب سے فرض ہے۔ تو اس احتمال کا محل نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود شارع ہیں اور اپنی طرف سے احکام صادر کرتے ہیں۔ لامحالہ اس کے یہی معنی ہوں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے زکوٰۃ کے متعلق احکام صادر فرمائے تھے ، زیادہ سے زیادہ اس احتمال کا موقع باقی رہتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث کا مطلب صحیح نہیں سمجھا اور اس لئے ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس مقدار کی تعداد کو فرض نہ کیا ہو بلکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو اپنی فہم کے مطابق فرض سمجھا ہے لیکن یہ احتمال خود ان احادیث میں بھی قائم رہتا ہے جن میں صحابی نے اعلانیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا نام لیا ہو۔

اس اصول کی بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبوں میں، تحریری ہدایتوں میں، فرامین میں، نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ کے متعلق جو اصولی مسائل بیان کئے وہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام ہیں۔ گو انہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا نام نہ لیا ہو۔

شاہ ولی اللہ صاحب تحریر فرماتے ہیں:

” ہفتم آنکہ مضمون احادیث در خطب خود ارشاد فرمایند تا اصل احادیث بآں موقوف خلیفہ قوت یا بدینکہ بغور سخن نمیر سند در ہندانکہ در متفق علیہ از حضرت صدیق صحیح شد مگر شش حدیث و از فاروق اعظم بہ صحت نرسید مگر قریب ہفتا و حدیث ایں رانمی فمہند و نمی دانند کہ حضرت فاروق تمام علم حدیث را اجمالاً تقویت داوہ اعلان نمودہ۔”

*حدیث کی روایت میں سخت احتیاط:*
=========================

حدیث کے تخصص و جستجو اور اشاعت و ترویج کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کچھ کیا اگرچہ وہ خود مہتم بالشان کام تھا۔ لیکن اس باب میں ان کی فضیلت کا اصلی کارنامہ ایک اور چیز ہے جو انہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ احادیث کی طرف اس وقت جو میلان عام تھا وہ خود بخود احادیث کی اشاعت کا بڑا سبب تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس میں جو نکتہ سنجیاں کیں اور فرق مراتب پیدا کیا اس پر کسی کی نگاہ نہیں پڑی تھی۔

سب سے بڑا کام جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس فن کے متعلق کیا، وہ حدیثوں کے تحقیق و تنقید اور فن جرح و تعدیل کا ایجاد کرنا تھا۔ محدثین کے نزدیک تمام صحابہ ثقہ ہیں لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے احادیث کی چھان بین میں ان تمام احتمالات کا ملحوظ رکھتے تھے جو محدثین نے بعد کے لوگوں کے لیے رکھے۔ اس کا مقصد صحابہ پر بےاعتباری نہیں تھی بلکہ وہ ہر ممکن تسلی کروانا چاہ رہے تھے۔

ایک دفعہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے ملنے آئے اور تین دفعہ استیذان کے طور پر کہا کہ ” السلام علیکم ابو موسیٰ حاضر ہے۔ “حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت کسی کام میں مصروف تھے اس لئے متوجہ نہ ہو سکے۔ کام سے فارغ ہو چکے تو فرمایا کہ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں ہیں؟ وہ آئےتو پوچھا کہ تم کیوں واپس گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے کہ تین دفعہ اذن مانگو۔ اگر پھر بھی اجازت نہ ملے تو واپس چلے جاؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس روایت کا ثبوت دو۔ ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کے پاس گئے اور حقیقت بیان کی۔ چنانچہ حضرت ابو سعید نے آ کر شہادت دی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ حدیث سنی ہے۔ حضرت ابی ابن کعب نے کہا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کو عذاب دینا چاہتے ہو؟ فرمایا کہ میں نے ایک روایت سنی اور تصدیق کرنی چاہی۔ (یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ متعدد طریق سے صحیح مسلم باب الاستیذان میں مذکور ہے )۔

سقط کا مسئلہ پیش آیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ کیا۔ مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق ایک حدیث روایت کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر تم سچے ہو تو اور کوئی گواہ لاؤ۔ چنانچہ جب محمد بن مسلمہ نے تصدیق کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے تسلیم کیا۔ اسی طرح حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقدمہ میں جب ایک حدیث پیش کی گئی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تائیدی شہادت طلب کی اور جب بہت سے لوگوں نے شہادت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ گو مجھ کو تمہاری طرف سے بدگمانی نہ تھی۔ لیکن میں نے حدیث کی نسبت اپنا اطمینان کرنا چاہا۔ (یہ دونوں روایتیں تذکرۃ الحفاظ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حال میں مذکور ہیں)۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث کی روایت کے بارے میں سخت احتیاط کروائی، علامہ ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں لکھتے ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ڈر سے کہ صحابہ کرام روایت کرنے میں غلطی نہ کریں صحابہ کو حکم دیتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سے کم روایت کریں تا کہ لوگ حدیث میں مشغول ہو کر قرآن کے یاد کرنے سے غافل نہ ہو جائیں۔ قرظہ بن کعب سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم کو عراق پر روانہ کیا تو خود مشایعت کو نکلے اور کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ میں کیوں تمہارے ساتھ ساتھ آیا ہوں؟ لوگوں نے کہا ہماری عزت بڑھانے کو، فرمایا کہ ہاں لیکن اس کے ساتھ یہ غرض بھی ہے کہ تم لوگ ایسے مقام میں جاتے ہو جہاں کے لوگوں کی آواز شہد کی مکھیوں کی طرح قرآن پڑھنے میں گونجتی رہتی ہے تو ان کو حدیثوں میں نہ پھنسا لینا۔ قرآن میں آمیزش نہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کم روایت کرو اور میں تمہارا شریک ہوں۔ پس جب قرظہ وہاں پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ حدیث بیان کیجیئے۔ انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم کو منع کیا ہے۔

ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابو ہریرہ سے پوچھا کہ آپ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی اسی طرح حدیثیں روایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں ایسا کرتا تو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ کو درے سے مارتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو محبوس کیا اور کہا کہ تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت حدیثیں روایت کرنی شروع کر دی ہیں۔

*حضرت عمر کے اس عمل کی وجہ:*

مسند دارمی میں قرظہ بن کعب کی روایت کو نقل کر کے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ مطلب تھا کہ غزوات کے متعلق کم روایت کی جائے۔ اس سے فرائض اور سنن مقصود نہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب دارمی کے قول کو نقل کر کے لکھتے ہیں، میرے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے شمائل اور عادات کی حدیثیں مراد ہیں۔ کیونکہ ان سے کوئی غرض شرعی متعلق نہیں یا وہ حدیثیں مقصود ہیں جن کے حفظ اور ضبط میں کافی اہتمام نہیں کیا گیا (ازالۃ اخفاء صفحہ 141 حصہ دوم)۔

مؤرخ بلاذری نے جو محدث بھی ہیں، انساب الاشراف میں روایت کی ہے کہ لوگوں نے ان سے کوئی مسئلہ پوچھا تو فرمایا۔ یعنی ” اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ حدیث کی روایت کرنے میں مجھ سے کچھ کمی بیشی ہو جائے گی تو میں حدیث بیان کرتا۔ “مؤرخ مذکور نے اس روایت کو بسند متصل روایت کیا ہے اور رواۃ یہ ہیں۔ محمد بن سعد، عبد الحمید بن عبد الرحمٰن الحمافی، نعمان بن ثابت (ابو حنیفہ)، موسی بن طلحہ، ابو الحوتکیہ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی نسبت جو ڈر تھا وہی اوروں کی نسبت بھی ہونا چاہیے تھا۔ اس خیال کی تصدیق اس سے اور زیادہ ہوتی ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو مقامات علمی میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تربیت یافتہ خاص تھے ان کی نسبت محدثین نے لکھا ہے کہ “وہ روایت میں سختی کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو ڈانٹتے رہتے تھے کہ الفاظ حدیث کے محفوظ رکھنے میں بے پرواہی نہ کریں۔ ” (تذکرہ الحفاظ تذکرہ عبد اللہ بن مسعود)

اس کے علاوہ حضرت عمرؓ اس بات کو جانتے تھے کہ صحابہ کرام پیشوا ہیں لوگ ان کی پیروی کریں گے اس لیے آپ صحابہ کو ان معاملات میں بہت ذیادہ ٹوکتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے طلحہ بن عبیداللہ پرحالتِ احرام میں رنگ دار چادر دیکھی، حضرت طلحہ ؓنے کہا: جناب اس رنگ میں خوشبو نہیں عام لوگوں کے لیے اس میں مغالطہ کا اندیشہ تھا، اس پرحضرت عمرؓ نے حضرت طلحہ کومخاطب کرکے کہا: ترجمہ: اے اس گروہ کے لوگو! تم امام ہو لوگ تمہاری پیروی کریں گے۔ (مؤطا امام مالک،كِتَاب الْحَجِّ،بَاب لُبْسِ الثِّيَابِ الْمُصَبَّغَةِ فِي الْإِحْرَامِ، حدیث نمبر:۶۲۶، شاملہ، موقع الإسلام)

اور ایک موقع پر فرمایا: ترجمہ: بیشک تم حضورﷺ کے صحابہ ہو جب تم اختلاف میں پڑوگے تو تمہارے بعد اور اختلاف کرنے لگیں گے، لوگ ابھی ابھی جاہلیت سے نکلے ہیں تم ایک بات پرجمع ہوکر رہو بعد والے بھی اس پرجمع رہیں گے۔ (شرح فتح القدیر لابن ہمام، فصل فی الصلاۃ علی المیت:۲/۱۲۳، دارالفکر، بیروت)

حضرت حذیفۃ الیمان نے مدائن میں ایک یہودی عورت سے نکاح کرلیا توباوجود یکہ اہلِ کتاب سے نکاح حلال تھا حضرت عمرؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ فوراً اسے طلاق دیں، اس کی وجہ آپ نے یہ فرمائی کہ صحابی کی حیثیت چونکہ مقتداء کی ہوتی ہے اس لیے اندیشہ ہے کہ اورمسلمان بھی اس راہ پرنہ چل پڑیں آپ نے انہیں لکھا: ترجمہ: میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ میرا یہ خط رکھنے سے پہلے اس عورت کو فارغ کردو، مجھے ڈر ہے کہ مسلمان تمہاری پیروی کریں اور اہلِ ذمہ کی عورتوں کو ان کے حسن وجمال کی وجہ سے پسند کرنے لگیں۔(کتاب الآثار، بحوالہ: الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ:۹/۱۴۶، الناشر:دار الفكر،سوريَّة،دمشق)

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روایت کے بارے میں جو احتیاط تھی اگرچہ ان سے پہلے بھی اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو تھی۔ علامہ ذہبی نے تذکرہ الحفاظ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حال میں لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے احادیث کے باب میں احتیاط کی وہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ علامہ موصوف نے حاکم سے یہ بھی روایت کیا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 500 حدیثیں قلمبند کی تھیں۔ لیکن پھر ان کو آگ میں جلا دیا اور کہا کہ ممکن ہے کہ میں نے ایک شخص کو ثقہ سمجھ کر اس کے ذریعہ سے روایت کی ہو اور وہ درحقیقت ثقہ نہ ہو۔

لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احتیاط اور دیگر صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی احتیاط میں فرق تھا اور صحابہ صرف راوی کے ثقہ اور عدم ثقہ ہونے کا لحاظ رکھتے تھے کہ راوی نے واقعہ کی پوری حقیقت سمجھی یا نہیں۔ حضرت عائشہ نے اسی بناء پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اکثر مواخذات کئے ورنہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ثقہ ہونے میں ان کو بھی کلام نہ تھا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روک ٹوک اور ضبط و احتیاط سے یہ نتیجہ ہوا کہ جو حدیثیں روایت کی گئیں وہ ہر قسم کے احتمالات سے بے داغ تھیں، اس طرح خیر القرون سے احادیث بالکل اصلی حالت میں آگے روایت ہوئیں، اسی لیے قرآن وحدیث کی حیثیتِ تشریعی میں آثارِ صحابہ واقوال واعمال صحابہ کی توضیح وتشریح کو بھی بے انتہا اہمیت حاصل ہے۔ صحابہ کی اتباع تابعین میں جاری رہی اور ہر ہر روایت پرکوئی نہ کوئی صحابی ضرور عامل رہا اور اس طرح جملہ احادیث تابعین میں پھیلتی گئیں، صحابہ کی مقتدا والی پوزیشن تابعین اور تبع تابعین میں مسلم رہی۔ اسی لیے حافظ ابن عبدالبر فرماتے ہیں: “تمام صحابہ عادل، رضا یافتہ، ثقہ اور ثبت ہیں اور اس پر محدثین کا اجماع ہے۔”(التمہید لابن عبدالبر22/47، بحوالہ علم جرح و تعدیل، ص 96،ڈاکٹر سہیل حسن)

==================> جاری ہے ۔۔