خلافت و سیرت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
(قسط نمبر 35
آخری_قسط)
تحریر و پیشکش محمد نوید
تعلیم و تربیت کا نظام
===============
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تعلیم کو نہایت ترقی دی تھی۔ تمام ممالک مفتوحہ میں ابتدائی مکاتب قائم کئے تھے جن میں قرآن مجید، اخلاقی اشعار اور امثال عرب کی تعلیم ہوتی تھی۔ بڑے بڑے علمائے صحابہ اضلاع میں حدیث و فقہ کی تعلیم کے لئے مامور کئے تھے۔ مدرسین اور معلمین کی تنخواہیں بھی مقرر کی تھیں۔
خلیفہ کی حیثیت سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو اصلی کام تھا وہ مذہب کی تعلیم و تلقین تھی اور در حقیقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کارناموں کا طغرا یہی ہے۔ لیکن مذہب کی روحانی تعلیم، یعنی توجہ الی اللہ، استغراق فی العبادۃ صفائے قلب، قطع علائق خضوع و خشوع یہ چیزیں کسی محسوس اور مادی رشتہ انتظام کے تحت نہیں آ سکتیں۔ اس لئے نظام حکومت کی تفصیل میں ہم اس کا ذکر نہیں کر سکتے۔ اس کا ذکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذاتی حالات میں آئے گا۔ البتہ اشاعت اسلام، تعلیم قرآن و حدیث، احکام مذہبی کا اجراء اس قسم کے کام انتظام کے تحت آ سکتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے متعلق جو کچھ کیا اس کی تفصیل ہم اس موقع پر لکھتے ہیں۔
*اشاعت اسلام کا طریقہ:*
اس صیغے کا سب سے بڑا کام اشاعت اسلام تھا۔ اشاعت اسلام کے یہ معنی نہیں کہ لوگوں کو تلوار کے زور سے مسلمان بنایا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طریقے کے بالکل خلاف تھے اور جو شخص قرآن مجید کی اس آیت پر لا اکراہ فی الدین بلا تاویل عمل کرنا چاہتا ہے وہ ضرور اس کے خلاف ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک موقع پر یعنی جب ان کا غلام باوجود ہدایت و ترغیب کے اسلام نہ لایا تو فرمایا کہ لا اکراہ فی الدین۔ ( طبقات ابن سعد ،و کنز العمال جلد پنجم صفحہ 49 مطبوعہ حیدر آباد دکن)
اشاعت اسلام کے یہ معنی ہیں کہ تمام دنیا کو اسلام کی دعوت دی جائے اور لوگوں کو اسلام کے اصول اور مسائل سمجھا کر اسلام کی طرف راغب کیا جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس ملک پر فوجیں بھیجتے تھے تاکید کرتے تھے کہ پہلے ان لوگوں کو اسلام کی ترغیب دلائی جائے اور اسلام کے اصول و عقائد سمجھائے جائیں۔ چنانچہ فاتح ایران سعد بن وقاص کو جوخط لکھا اس میں یہ الفاظ تھے۔
وقد کنت امرتک ان تدعوا من لقیتہ الی الاسلام قبل القتال۔
قاضی ابو یوسف صاحب نے لکھا ہے کہ “حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معمول تھا کہ جب ان کے پاس کوئی فوج مہیا ہوتی تو ان پر ایسا افسر مقرر کرتے تھے جو صاحب علم اور صاحب فقہ ہوتا۔ ” یہ ظاہر ہے کہ فوجی افسروں کے لئے علم و فقہ کی ضرورت اسی تبلیغ اسلام کی ضرورت سے تھی۔ شام و عراق کی فتوحات میں بھی ہم نے دیکھا کہ ایرانیوں اور عیسائیوں کے پاس جو اسلامی سفارتیں گئیں انہوں نے کس خوبی اور صفائی سے اسلام کے اصول و عقائد ان کے سامنے بیان کئے۔
اشاعت اسلام کی بڑی تدبیر یہ ہے کہ غیر قوموں کو اسلام کا جو نمونہ دکھلایا جائے وہ ایسا ہو کہ خود بخود لوگوں کے دل اسلام کی طرف کھینچ آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں نہایت کثرت سے اسلام پھیلا اور اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ انہوں نے اپنی تربیت اور ارشاد سے تمام مسلمانوں کو اسلام کا اصلی نمونہ بنا دیا تھا۔ اسلامی فوجیں جس ملک میں جاتی تھیں۔ لوگوں کو خواہ مخواہ ان کے دیکھنے کا شوق پیدا ہوتا تھا۔ کیونکہ چند بادیہ نشینوں کا دنیا کی تسخیر کو اٹھنا حیرت اور استعجاب سے خالی نہ تھا۔ اس طرح جب لوگوں کو ان سے ملنے جلنے کا اتفاق ہوتا تھا تو ایک ایک مسلمان سچائی اور سادگی اور پاکیزگی جوش اور اخلاص کی تصویر نظر آتا تھا۔ یہ چیزیں خود بخود لوگوں کے دل کو کھینچتی تھیں اور اسلام ان کے دل میں گھر کر جاتا تھا۔
شام کے واقعات میں بھی ہماری نظر سے یہ بات گزری کہ رومیوں کا سفیر جارج ابو عبیدہ کی فوج میں جا کر کس اثر سے متاثر ہوا اور کس طرح دفعتہً قوم اور خاندان سے الگ ہو کر مسلمان ہو گیا۔ شطا جو مصر کی حکومت کا بہت بڑا رئیس تھا، مسلمانوں کے حالات ہی سن کر اسلام کا گرویدہ ہو گیا۔ اور آخر دو ہزار آدمیوں کے ساتھ مسلمان ہو گیا۔
(تاریخ مقریزی صفحہ 226 میں ہے۔ فخرج شطا فی الفین من اصحابہ ولحق بالمسلمین و قد کان قبل ذلک یحب الخیر و یمیل الی ما یسمعہ من سیرۃ اھل الاسلام)۔
اسلامی فتوحات کی بوالعجبی نے بھی اس خیال کو قوت دی، یہ واقعہ کہ چند صحرا نشینوں کے آگے بڑی بڑی قدیم اور پر زور قوموں کا قدم اکھڑتا جاتا ہے۔ خوش اعتقاد قوموں کے دل میں خود بخود خیال پیدا کرتا تھا کہ اس گروہ کے ساتھ تائید آسمانی شامل ہے۔ یزدگرد شہنشاہ فارس نے جب خاقان چین کے پاس استمداد کی غرض سے سفارت بھیجی تو خاقان نے اسلامی فوج کے حالات دریافت کئے اور حالات سن کر یہ کہا کہ ” ایسی قوم سے مقابلہ کرنا بے فائدہ ہے۔
*تحقیق مسائل میں حضرت عمرؓ کی ذاتی دلچسپی:*
=================================
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان مسائل فقہیہ میں جس قدر فکر اور خوض کیا تھا۔ صحابہ میں سے کسی نے نہیں کیا تھا۔ انہوں نے آغاز اسلام ہی سے فقہ کو مطمح نظر بنا لیا تھا۔ قرآن مجید میں جو مسائل فقہ مذکور ہیں ان میں جب ابہام ہوتا تھا تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کر لیتے تھے اور جب تک پوری تسلی نہیں ہوتی تھی بس نہیں کرتے تھے۔ یہ بات اور اصحاب کو حاصل نہ تھی کیونکہ ان کے برابر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں کہنے سننے کی جرات نہیں رکھتا تھا۔
کلالہ کے مسئلہ کو جو ایک دقیق اور نہایت مختلف فیہ مسئلہ ہے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر بار بار دریافت کیا کہ آپ دق آ گئے اور فرمایا کہ سورہ نساء کی آخری آیت تیرے لئے کافی ہو سکتی ہے۔ (مسند امام احمد بن حنبل)۔
جو مسائل زیادہ مشکل ہوتے ان کو یاد داشت کے طور پر لکھ لیتے اور ہمیشہ ان پر غور کیا کرتے۔ وقتاً فوقتاً ان کے متعلق جو رائے قائم ہوتی اس کو قلمبند اور زیادہ غور و فکر سے اس میں محو و اثبات کیا کرتے۔ پھوپھی کی میراث کی نسبت جو یاد داشت لکھی تھی اور آخر میں اس کو محو کر دیا اس کا حال امام محمد نے مؤطا میں لکھا ہے (مؤطا امام محمد صفحہ 314)۔ قسطلانی نے شرح بخاری میں معتمد حوالہ سے نقل کیا ہے کہ دادا کی میراث کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سو مختلف رائے قائم کیں۔
*دقیق مسائل میں وقتاً فوقتاً خوض کرتے رہنا:*
بعض مسائل کے متعلق ان کو مرتے دم تک کاوش رہی اور کوئی قطعی رائے نہ قائم کر سکے۔ مسند دارمی میں ہے کہ دادا کی میراث کے متعلق انہوں نے ایک تحریر لکھی تھی۔ لیکن شہادت سے قبل اس کو منگوا کر مٹا دیا اور کہا کہ آپ لوگ خود اس کا فیصلہ کیجیئے گا۔ اسی کتاب میں یہ روایت بھی ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زخمی ہوئے تو صحابہ کو بلا کر کہا کہ میں نے دادا کی میراث کے متعلق رائے قائم کی تھی۔ اگر آپ لوگ چاہیں تو اس کو قبول کریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ آپ کی رائے ہم قبول کر لیں تب بھی بہتر ہے لیکن حضرت ابو بکرؓ کی رائے مانیں تو وہ بڑے صائب الرائے تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ کاش! رسول اللہ ﷺ تین مسئلوں کے متعلق کوئی تحریر قلمبند فرما جاتے۔ کلالہ، دادا کی میراث، ربط کی بعض اقسام مسائل فقہیہ کے متعلق ان کو جو کد و کاوش رہتی تھی اس کا اندازہ کرنے کے لئے ذیل کی مثالیں کافی ہوں گی۔
ورثا کے بیان میں خدا نے ایک قسم کے وارث کا کلالہ سے تعبیر کیا ہے لیکن چونکہ قرآن مجید میں اس کی تعریف مفصل مذکور نہیں، اس لئے صحابہ میں اختلاف تھا کلالہ میں کون کون ورثا میں داخل ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے چند بار دریافت کیا، اس پر تسلی نہیں ہوئی تو حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ایک یاد داشت لکھ کر دی کہ رسول اللہ سے دریافت کرنا، پھر اپنی خلافت کے زمانے میں تمام صحابہ کو جمع کر کے اس مسئلہ کو پیش کیا۔ لیکن ان تمام باتوں پر بھی ان کو کافی تسلی نہیں ہوئی اور فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اگر تین چیزوں کی حقیقت بتا جاتے تو مجھ کو دنیا اور مافیہا سے زیادہ عزیز ہوتی۔ خلافت، کلالہ، ربط، چنانچہ ان تمام واقعات کو محدث عماد الدین ابن کثیر نے صحیح حدیثوں کے حوالے سے اپنی تفسیر قرآن میں نقل کیا ہے۔
*فتوحات کی وسعت کی وجہ سے نئے نئے مسئلوں کا پیدا ہونا:*
چونکہ ان کے زمانے میں فتوحات نہایت تیزی سے بڑھتی جاتی تھیں اور تمدن روز بروز ترقی کرتا جاتا تھا۔ اس لئے نہایت کثرت سے معاملات کی نئی نئی شکلیں پیش آتی جاتی تھیں۔ اگرچہ ہر جگہ قاضی اور مفتی مقرر تھے اور یہ لوگ اکثر اکابر صحابہ میں سے تھے تاہم بہت سے مسائل میں وہ لوگ عاجز آتے اور بارگاہ خلافت کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا۔ اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت سے پیچیدہ اور غیر منصوص مسائل پر غور و فکر کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ ان کے فتوے جو نہایت کثرت سے تمام کتابوں میں منقول ہیں زیادہ تر انہی مسائل کے متعلق ہیں جو ممالک مختلفہ سے ان کے پاس جواب کے لئے آئے۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ وغیرہ میں فتووں کے ساتھ فتویٰ پوچھنے والوں کے نام بھی موجود ہیں۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عمار بن یاسرؓ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جراح، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ وغیرہ۔
_______________________
*الحمدللہ! اس طرح تاریخ اسلام۔ عہد خلافت فاروقیؓ اپنے اختتام کو پہنچا، 😍
طالب دعا : محمحدنوید












