مُہرِنبوت

تحریر عبدالرؤف چوھدری چیچہ وطنی

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان ”مہرِ نبوت“ تھی۔ (شمائل ترمذی)

یہ مہر نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان ولادت کے وقت سے ہی موجود تھی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور علامات نبوت میں سے تھی۔

حضرت امی عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک روایت مروی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا اور بعض صحابہؓ کو اس میں شک تھا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اسی مہر نبوت سے وصال پر استدلال کیا تھا کیونکہ تب وہ موجود نہیں تھی۔

اس مہر پر کیا لکھا ہوا تھا اس میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں اس پر ”محمد رسول اللہ“ لکھا ہوا تھا اور بعض کا کہنا ہے کہ اس پر ”سر فانت المنصور“ لکھا ہوا تھا۔ جس کا ترجمہ ہے: ”آپ جہاں بھی جائیں آپ کی مدد کی جائے گی“

مہر نبوت کی مقدار کتنی تھی اور اس کا رنگ کیا تھا؟ اس میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین سے مختلف روایات منقول ہیں۔ علامہ قرطبی ان تمام روایات میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ کم زیادہ ہوتی رہتی تھی اور اسی طرح اس کی رنگت میں بھی تبدیلی آتی رہتی تھی۔ جبکہ شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حقیقت میں یہ سب تشبیہات ہیں۔ یعنی جس صحابی نے بھی اس مہر کو دیکھا اور پھر اس کے ذہن میں اس کا جیسا نقشہ آیا اس نے اسی طرح تشبیہ دے کر اسے بیان کر دیا۔ یہ قریبی حالت ہوتی ہے۔ اور تقریب کے اختلاف میں کوئی اشکال نہیں ہوتا۔