عفیفۂ کائنات، ام المؤمنین، سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
ایمان افروز حالات ِ زندگی
تحریر معروف کالم نگار ۔حافظ محمد اقبال سحرؔ

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔”فضل عائشہؓ علی النسآء کفضل الثرید علٰی سائر الطعام۔“(بخاری و مسلم مناقب عائشہؓ)ترجمہ۔”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو عام عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے، جس طرح ثرید کے کھانے کو عام کھانے پر۔“(ثرید ایک عربی کھانا ہے اور حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں عربوں میں بہت اعلیٰ غذا سمجھی جاتی تھی۔) قارئینِ محترم! سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ایمان افروز حالاتِ زندگی پیشِ خدمت ہیں۔
نام و نسب اور خاندان:
نام عائشہؓ، لقب صدیقہ اور حمیرا، خطاب ام المؤمنین، کنیت ام عبداللہ۔ حضور اکرم ﷺ نے بنت الصدیق سے خطاب فرمایا ہے۔
سیدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے والدماجد کا نام عبداللہؓ، کنیت ابوبکر اور لقب صدیق تھا۔ والدہ کا نام ام رومان تھا۔والد کی طرف سے سلسلہ نسب عائشہؓ بنت ابو بکر صدیقؓ بن ابوقحافہ عثمانؓ بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک…… اور ماں کی طرف سے عائشہؓ بنت ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذینہ بن سبیع بن وہمان بن حارث بن غنم بن مالک بن کنانہ ہے۔ اس لحاظ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا والد کی طرف سے قریشیہ تیمیہ اور والدہ کی طرف سے کنانیہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نسب ساتویں آٹھویں پشت پر جاکر مل جاتا ہے اور ماں کی طرف سے گیارھویں بارھویں پشت میں کنانہ پر جاکر مل جاتا ہے۔
ولادت:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تاریخِ ولادت کے متعلق تاریخ کی عام کتب خاموش ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب پیدا ہوئی تھیں، تو نبوت کے چار سال گزرچکے تھے اور پانچواں سال گزر رہا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر کے متعلق چند باتیں متفقہ طور پر ثابت ہیں کہ ہجرت سے تین برس قبل چھ برس کی عمر میں شادی ہوئی۔ شوال سنہ 1ہجری میں 9برس کی عمر میں رُخصتی ہوئی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں یعنی ربیع الاوّل سنہ 11ہجری میں بیوہ ہوئیں۔ اس لحاظ سے ولادت کی تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ بنتا ہے۔ یعنی شوال سنہ 9ہجری قبل ہجرت مطابق جولائی 614ء۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔”جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا، اُن کو مسلمان پایا۔“ (بخاری شریف)
سیدہ حضرت عائشہؓ کا بچپن:
بچپن ہی سے حضرت عائشہؓ کے ہر انداز سے سعادت و بلندی کے آثار نمایاں تھے۔ محلہ کی لڑکیاں ان کے ساتھ کھیلا کرتیں۔ لیکن اس لڑکپن اور کھیل کود میں بھی رسول اللہ ﷺ کا ادب ہر وقت مدنظر رہتا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کھیلتی ہوتیں، سہیلیوں کا ہجوم ہوتا اور اتفاقاً رسول اللہ ﷺ پہنچ جاتے، وہ جلدی سے گڑیوں کو چھپالیتیں، سہیلیاں آپ ﷺ کو دیکھ کر چھپ جاتیں۔ چونکہ آپ ﷺ بچوں سے خاص محبت رکھتے تھے اور ان کے کھیل کود کو بُرا نہیں سمجھتے تھے۔ اس لیے لڑکیوں کو پھر بلا بلا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کھیلنے کو کہتے تھے۔(ابن ماجہ باب مدارۃ النساء۔ صحیح مسلم فضائل عائشہؓ)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لڑکپن کی ایک ایک بات یاد رکھتی تھیں۔ لڑکپن کے کھیل کود میں اگر کوئی آیت ان کے کانوں میں پڑجاتی، تواس کو بھی یاد رکھتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت: ”بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ“نا زل ہوئی، تو میں کھیل رہی تھی۔ (بخاری تفسیر سورۃ قمر) ہجرت کے وقت ان کی عمر آٹھ برس تھی لیکن اس کم عمری میں بھی قوت حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرتِ نبوی ﷺ کے تمام واقعات بلکہ تمام جزئی باتیں ان کو یاد تھیں۔ (صحیح بخاری باب الہجرۃ)
شادی و رُخصتی:
حضور اکرم ﷺ کی سب سے پہلی بیوی حضرت خدیجہؓ ہیں۔ حضرت خدیجہؓ تنہائی کے لمحات میں،مصائب کے ہجوم میں ہر جگہ اپنے شوہر کے ساتھ رہیں۔ یہ عظیم غمگسار بیوی ہجرت سے تین برس قبل 65برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملیں۔ ان کی وفات سے آنحضرت ﷺ کو بہت صدمہ پہنچا۔ آپ ﷺ کی دوسری شادی سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے ہوئی۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح ہوا تھا، تو اس وقت چھ برس کی تھیں، لیکن رُخصتی ہجرتِ مدینہ کے بعد 9برس کی عمر میں ہوئی۔
نکاح سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر کوئی چیز آپ ﷺ کے سامنے پیش کر رہا ہے، پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپ کی بیوی ہیں، آپ ﷺ نے کھول کر دیکھا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ (صحیح بخاری مناقبِ عائشہؓ)
پیغمبر ﷺ کی حضرت عائشہؓ سے محبت:
رسول اللہ ﷺ کو حضرت عائشہؓ سے کس قدر محبت تھی، اس کا اندازہ خود حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب حضرت عمروؓ بن العاص غزوہئ سلاسل سے واپس آئے، تو دریافت کیا۔”یارسول اللہﷺ! آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں؟“ فرمایا۔”عائشہؓ کو“ عرض کیا۔”یارسول اللہﷺ! مردوں کی نسبت سوال ہے۔“ فرمایا۔”عائشہؓکے باپ (حضرت ابوبکر صدیقؓ)کو۔“ (صحیح بخاری مناقب ابوبکرؓ) نسائی میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہؓ کے علاوہ کسی اور بیوی کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔ (نسائی)
پردے کا اہتمام:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پردے کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ پردے کی آیات نازل ہوئیں، تو یہ تاکیداً فرض ہوگیا تھا۔(صحیح بخاری) ایک دفعہ حج کے موقع پر چند عورتوں نے عرض کی کہ ام المؤمنین! حجر اسود کو بوسہ دے لیں، فرمایا: تم جاسکتی ہو، میں مردوں کے ہجوم میں نہیں جاسکتی۔(اخبار مکہ للازرقی جلد۲،صفحہ۰۱)
حضور اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد ان ہی کے حجرہ کو پیغمبر اسلام ﷺ کا مدفن بننا نصیب ہوا۔ تیرہ برس تک یعنی جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ وہاں مدفون نہیں ہوئے تھے، حضرت عائشہؓ بے حجاب وہاں آتی جاتی تھیں، کیونکہ ایک شوہر تھا، دوسرا باپ، لیکن حضرت عمرفاروقؓ کی تدفین کے بعد اپنے حجرہ میں بے پردہ نہیں جاتی تھیں۔
فیاضی:
حضرت عائشہؓ اور حضرت اسماءؓ دونوں بہنیں نہایت فیاض تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں۔”ان دونوں سے زیادہ سخی اور صاحبِ کرم میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔“ خیرات میں تھوڑے بہت کا لحاظ نہ کرتیں، جو موجود ہوتا، سائل کی نذر کردیتیں۔
حضرت عروہؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے ان کے سامنے پوری ستّر ہزار کی رقم راہِ خدا میں دے دی اور دوپٹے کا گوشہ جھاڑ دیا۔(طبقات ابن سعد) اپنے رہنے کا مکان امیر معاویہؓ کے ہاتھ فروخت کردیا تھا، قیمت جو آئی تو ساری راہِ خدا میں صرف کردی۔(ابن سعد ذکر حجرات امہات المؤمنین)
اعزازاتِ عائشہ صدیقہؓ:
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ فخراً نہیں بلکہ واقعہ کے طور پر کہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نو باتیں ایسی عطا کی ہیں جو دنیا میں میرے سوا کسی اور کو عطا نہیں ہوئیں۔(۱)خواب میں فرشتے نے حضور اکرم ﷺ کے سامنے میری تصویر پیش کی۔ (۲)جب میں سات برس کی تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے نکاح کیا۔ (۳)نو برس کی عمر میں رُخصتی ہوئی۔ (۴)میرے سوا آپ ﷺ کی خدمت میں کوئی اور کنواری بیوی نہ تھی۔ (۵)آپ ﷺ جب میرے بستر پر ہوتے، تب بھی وحی آتی تھی۔ (۶)میں آپ ﷺ کی محبوب ترین بیوی تھی۔ (۷)میری شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں۔ (۸)میں نے جبرائیل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ (۹)آپ ﷺ نے میری ہی گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔ (مستدرک للحاکم والطبقات ابنِ سعد)
حجرہئ عائشہ صدیقہؓ:
حضرت عائشہ صدیقہؓ کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہوسکتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی قبر مبارکہ بھی آپؓ ہی کے حجرہ میں ہے اور اسی کو روضۃ النبیﷺ کہتے ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہؓ نے خواب دیکھا تھا کہ ان کے حجرہ میں تین چاند ٹوٹ کر گرے ہیں، انہوں نے اس کا تذکرہ (اپنے والد) ابوبکرصدیقؓ سے کیا تھا۔ جب حضور اکرم ﷺ اسی حجرہ میں مدفون ہوئے تو صدیق اکبرؓ نے فرمایاکہ ان تین چاندوں میں سے ایک یہ ہے اور یہ ان میں سب سے بہتر ہے۔ (مؤطا امام مالک) اور پھر بعد کے واقعات نے ثابت کردیا کہ بقیہ دو چاند ایک صدیق اکبرؓ تھے اور دوسرے فاروق اعظمؓ۔
وفات:
سیدنا امیر معاویہؓ کے دورِ خلافت کے اختتام سے دو سال قبل حضرت عائشہ صدیقہؓ سنہ 58ہجری میں رمضان المبارک کے مہینہ میں بیمار ہوئیں۔ اس وقت ان کی عمر سرسٹھ سال کی تھی۔ چند روز تک بیمار رہیں، کوئی خیریت پوچھتا تو فرماتیں ٹھیک ہوں۔(ابن سعد جز نساء صفحہ ۱۵) حضرت ابن عباسؓ نے اجازت چاہی تو حضرت عائشہؓ کو تامل ہوا کہ وہ آکر تعریف نہ کرنے لگیں۔ بھانجوں نے سفارش کی تو اجازت دی۔ حضرت ابن عباسؓ نے کہا۔”آپؓ کا نام ازل سے ام المؤمنین تھا، آپ آنحضرت ﷺ کی سب سے محبوب بیوی تھیں۔ رفقاء سے ملنے میں اب آپ کو اتنا ہی وقفہ باقی ہے کہ روح بدن سے پرواز کرجائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ہی کے ذریعہ تیمم کی اجازت فرمائی۔آپ کی شان میں قرآن کی آیتیں نازل ہوئیں،جو اَب محراب و مسجد میں شب و روز پڑھی جاتی ہیں۔“ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔”اے ابن عباسؓ! مجھے اپنی اس تعریف سے معاف رکھو۔“(مستدرک حاکم)
17رمضان المبارک 58ہجری مطابق 13جون 678ء کو رات کے وقت وفات پائی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جنازہ میں اتنا ہجوم تھا کہ رات کے وقت اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا گیا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ عورتوں کا ہجوم دیکھ کر روزِ عید کے ہجوم کا دھوکہ ہوتا تھا۔(ابن سعد جزء نساء) حضرت ابوہریرہؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ قاسم بن محمد ابی بکرؓ، عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابوبکرؓ، عبداللہ بن عتیقؓ، عروہ بن زبیرؓ اور عبداللہ بن زبیرؓ بھتیجوں اور بھانجوں نے قبرمیں اُتارا۔(مستدرک حاکم) اور حسبِ وصیت جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے منقول احادیث:
وہ صحابہ کرامؓ جن کی روایتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچی ہے، وہ سات اشخاص ہیں۔ ان میں سے چھٹا نمبر حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی کل روایات کی تعداد 2210ہے۔ (فتح المغیث ا ز سخاوی طبع لکھنؤ صفحہ371) حضرت عائشہ ؓ جب تک واقعہ کو اچھی طرح سمجھ نہیں لیتی تھیں، اس کی روایت نہیں کرتی تھیں۔ اگر آپ ﷺ کی کوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تو آپ ﷺ سے اس کو بار بار پوچھ کر تسلی کرلیتی تھیں۔ (صحیح بخاری کتاب العلم)
حضرت عائشہ صدیقہؓ کے متعلق صحابہؓ و تابعین کے اقوال:
ایک دن حضرت امیر معاویہؓ نے ایک درباری سے پوچھا۔”لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟“ اس نے کہا۔”امیرالمؤمنین! آپ ہیں۔“ امیر معاویہؓ نے فرمایا۔”نہیں، میں قسم دیتا ہوں سچ سچ بتاؤ۔“ اس نے کہا۔”اگر یہ ہے تو عائشہؓ۔“ (مستدرک حاکم) حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ ہم اصحابِؓ محمد ﷺکو کوئی ایسی مشکل بات کبھی پیش نہیں آئی کہ جس کو ہم نے عائشہؓ سے پوچھا ہو اور ان کے پاس اس کے متعلق کچھ معلومات ہم کو نہ ملی ہوں۔ (جامع ترمذی مناقب عائشہؓ) امام زہری رحمۃ اللہ علیہ تابعین کے پیشوا ہیں کہ جنہیں بڑے بڑے صحابہؓ سے تربیت لینے کا موقع ملا، فرماتے ہیں۔”حضرت عائشہؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں، بڑے بڑے صحابہؓ ان سے پوچھا کرتے تھے۔“ (طبقات ابن سعد) حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے صاحبزادے ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کا جاننے والا اور رائے میں اگر اس کی ضرورت پڑے، ان سے زیادہ فقیہ اور آیتوں کے شانِ نزول اور فرائض کے مسئلہ کا واقف کار حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔“ (سیرت عائشہؓ) عطاء بن ابی الرباح کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ سب سے زیادہ فقیہ، سب سے زیادہ صاحبِ علم اور عوام میں سب سے زیادہ اچھی رائے والی تھیں۔ (مستدرک حاکم) کسی شخص نے مسروق تابعی سے جو کہ حضرت عائشہؓ کے تربیت یافتہ تھے، پوچھا کہ کیا ام المؤمنین فرائض کا فن جانتی ہیں؟ جواب دیا۔”خدا کی قسم! میں نے بڑے بڑے صحابہؓ کو ان سے فرائض کے مسئلے دریافت کرتے دیکھا ہے۔“ (مستدرک حاکم۔ ابن سعد جز ثانی) ٭٭…………٭٭












