فتح عظیم (فتح مکہ مکرمہ)
تحریر عبدالرؤف چوہدری

جس وقت مقام حدیبیہ پر رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور قریش کے ما بین صلح ہوئی اور عہد نامہ لکھا گیا تب دیگر قبائل کو اختیار دے دیا گیا کہ جس کے عہد و عقد میں چاہیں شامل ہو جائیں، چنانچہ بنو بکر قریش اور بنو خزاعہ رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کے عہد میں شامل ہو گئے۔ ان دونوں قبیلوں (بنو بکر، بنوخزاعہ) میں زمانہ جاہلیت سے ہی ان بن چلی آرہی تھی، جس کی وجہ یہ تھی کہ مالک بن عباد حضرمی ایک دفعہ مال تجارت لے کر خزاعہ میں آیا اور خزاعہ والوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کا تمام مال لوٹ لیا، بنو بکر نے موقع پاکر خزاعہ کا ایک آدمی مار ڈالا۔ یوں خون کا نہ رکنے والا ایک سیلاب چل پڑا جس کے سامنے بند باندھنا مشکل ہوگیا۔ زمانہ جاہلیت سے بعثت نبوی تک قتل وقتال کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ بعثت نبوی کے بعد اسلام دشمنی کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا۔

حدیبیہ کی میعادی صلح کے بعد فریقین ایک دوسرے سے مامون اور بے خوف ہو گئے، بنو بکر نے اپنی دشمنی نکالنے کا موقع غنیمت سمجھا اور بنو بکر کے نوفل بن معاویہ دیلمی نے مع ہمرائیوں کے رات کے وقت ایک کنویں پر بنو خزاعہ کے لوگوں پر شب خون مارا اور ان کو قتل کر ڈالا۔ اس میں ان کے حلیف قریش نے بھی خفیہ طور پر ان کی مدد کی اور ساتھ دیا۔

عمرو بن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کے ہمراہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے، اس نے اشعار کی صورت میں اپنا مدعا بیان کیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کی درخواست کی، جس کو سیرت کی کتابوں سے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

جب یہ قافلہ واپس ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں اپنا قاصد بھیجا کہ قریش کو یہ بات پہنچا دو کہ تین باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو۔
(1) مقتولین خزاعہ کی دیت دے دی جائے
(2) بنو نفاثہ (یہ بنو بکر کا ہی قبیلہ تھا اسی قبیلہ کے لوگوں نے شب خون مارا تھا) کے عہد اور عقد سے عہدہ برآں ہو جائیں
(3) معاہدہ حدیبیہ کے فسخ کا اعلان کر دیں۔
قاصد نے جب یہ پیغام پہنچایا تو قریش کی طرف سے قرعہ بن عمرو نے پہلی دو شقوں کا انکار کر دیا اور آخری کے بارے کہا فسخ معاہدہ پر ہم راضی ہیں۔

قاصد پیغام لے کر مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوگیا۔ دوسری جانب قریش کو اپنی بات پر ندامت ہوئی اور فوراً حضرت ابو سفیان کو تجدید معاہدہ اور مدت صلح بڑھانے کے لیے مدینہ منورہ روانہ کیا۔ (یہ حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے قبل کا واقعہ ہے) ابو سفیان جب روانہ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کرام کو خبر دی کہ ابو سفیان تجدید معاہدہ کے لیے آرہا ہے۔

ابو سفیان جب مدینہ پہنچے اول اپنی بیٹی ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، باپ کو دیکھتے ہیں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک کو لپیٹ دیا۔ ابو سفیان نے جب یہ ماجرا دیکھا تو بیٹی سے سوال کیا بیٹی تو نے بستر لپیٹ دیا میں اس بستر کے قابل نہیں یا بستر میرے قابل نہیں؟ اللہ اکبر بیٹی نے کیا پاکیزہ جواب دیا۔ فرمایا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ہے اس پر ایک مشرک جو شرک میں مبتلا اور آلود ہو، نہیں بیٹھ سکتا۔ ابو سفیان نے کہا بیٹی تو میرے بعد شر میں مبتلا ہوگئی ہے۔ ام حبیبہ نے جواب دیا شر میں نہیں بلکہ کفر اور شرک کے اندھیروں سے نکل اسلام میں داخل ہو گئی ہوں۔

ابو سفیان وہاں سے اٹھ کر مسجد نبوی میں آئے اور آنے کی غرض بتلائی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس گئے اور سفارش کی درخواست کی مگر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا میں اس کے خلاف کیسے کر سکتا ہوں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی فیصلہ فرما لیا ہو، پھر حضرت عمرؓ کے پاس گئے تو حضرت عمرؓ نے بہت کرارا جواب دیا اور فرمایا عمر ایک مشرک کی سفارش کرے؟؟ سب سے نا امید ہو کر حضرت علیؓ کے پاس آئے اور ان کے پاس حضرت فاطمہؓ بھی تشریف فرما تھیں۔ اپنی اور خاندانی رشتہ داریوں کو بیان کیا اور کہا ایک شدید ضرورت سے آیا ہوں ناکام واپس نہیں لوٹنا چاہتا، لہذا آپ میری سفارش فرمائیے۔ حضرت علیؓ کے انکار کے بعد حضرت فاطمہؓ سے کہا اس بچے (حسن) کو کہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اعلان کر دیں کہ میں نے قریش کو پناہ دی۔ مگر حضرت فاطمہؓ نے بھی انکار کر دیا۔ بالآخر حضرت علیؓ کی تجویز پر ابو سفیان مسجد نبوی میں اعلان کر کے ناکام واپس مکہ لوٹ گئے۔

ابو سفیان جب مکہ پہنچے سارا واقعہ بیان کیا تو قریش نے ملامت کی اور کہا علی نے تجھے بے وقوف بنادیا۔ ادھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خفیہ، صحابہؓ کرام کو تیاری کا حکم فرما دیا۔ اور آس پاس کے قبائل کو بھی تیاری کا پیغام بجھوا دیا گیا۔

اسی اثنا میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا خط والا واقعہ پیش آیا جو انہوں نے قریش کو لکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خط کی اطلاع فرمائی اور اس بڑھیا کا بتایا جس کے ذریعے بھیجا گیا تھا جس کو راستہ میں پکڑ کر خط چھین لیا گیا۔ حضرت حاطب رضی اللہ عنہ سچے مسلمان تھے مکہ میں قرابت داری کی وجہ سے ان سے یہ غلطی ہوئی تھی اسے لیے ان کو کوئی سزا نہیں دی گئی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حاطب بدریین میں سے ہیں اور اللہ نے بدریین کے ہر گناہ کو معاف فرما دیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس رمضان کو دس ہزار قدسیوں کے ہمراہ بعد نماز عصر بغرض فتح مکہ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کی زوج گان میں سے حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما ساتھ تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ذی الحلیفہ یا جحفہ میں پہنچے تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی جو اپنے اہل و عیال کے ہمراہ بقصد ہجرت مدینہ منورہ جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے سامان اور اہل و عیال کو مدینہ بھیج دیا اور خود مکہ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگئے۔

مقام ابواء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد ابو سفیان بن حارث اور پھوپھی زاد عبداللہ بن امیہ ملے جو اسلام قبول کر کے بغرض ہجرت مدینہ منورہ جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداءً ان کی طرف سے ملنے والی تکالیف کی وجہ سے ان سے اعراض فرمایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر حضرت ام سلمہ نے ان کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت داری کو بیان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا اسلام قبول فرمالیا، یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو لیے۔

کدید کے بعد لشکر اسلام نے مر الظہران میں پڑاؤ ڈالا۔ ہر طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔ رات کی تاریکی نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہر شخص اپنے خیمہ کے سامنے آگ روشن کرے کیونکہ عرب کا دستور تھا کہ لشکروں میں آگ روشن کیا کرتے تھے اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ سلگانے کا حکم ارشاد فرمایا تھا۔

کفار مکہ کو ہر وقت یہ تشویش رہتی تھی نہ جانے محمد رسول اللہ علیہ وسلم کس وقت اپنے لشکر کے ہمراہ ہم پر حملے کر دیں، چنانچہ انہوں نے ابو سفیان بن حرب، بدیل بن ورقا اور حکیم کو خبر گیری کے لیے باہر بھیجا جب مر الظہران پہنچے، لشکر دیکھا تو گھبرا گئے۔ آگ دیکھتے ہی ابو سفیان نے کہا یہ آگ کیسی ہے؟ بدیل نے کہا یہ بنو خزاعہ کی آگ ہے، ابو سفیان کہنے لگا خزاعہ والوں کے پاس اتنا بڑا لشکر کہاں سے آگیا؟؟؟ اتنے میں لشکر کے چوکیداروں نے ان کو پکڑ لیا۔ انہوں نے چوکیداروں سے پوچھا آپ میں کون کون ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ہیں اور یہ آپ کے جانثار، وفادار، عشاق ہیں۔

دوران گفتگو حضرت عباس رضی اللہ عنہ چکر لگاتے ہوئے ادھر آ نکلے اور ابو سفیان کی آواز کو پہچان لیا اور فرمانے لگے، افسوس اے ابو سفیان! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر خدا کی قسم اگر تجھ پر فتح یاب ہوگئے تو تیری گردن اڑا دیں گے۔ قریش کی اسی میں بہتری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے امن کے خواستگار ہو جائیں اور اطاعت قبول کر لیں۔ ابو سفیان کہتے ہیں میں نے جب عباس کی آواز سنی فوری ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے ابو الفضل میری خلاصی اور رہائی کی کیا صورت ہے؟؟ عباس نے کہا میرے پیچھے خچر پر سوار ہوجا، رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی خدمت میں امن طلب کرتا ہوں۔ حضرت عباس لشکر اسلام دکھاتے ہوئے جا رہے تھے راستے میں حضرت عمرؓ ملے اور کہنے لگے خدا اور رسول کا دشمن بغیر کسی عہد و پیماں کے ہاتھ آگیا ہے اسے قتل کرنا چاہیے کوشش بھی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا بھی کی مگر آپ نے فرمایا عباس نے اس کو امان دی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس سے فرمایا ابوسفیان کو صبح میرے پاس لے کے آنا۔ صبح جب حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصر مکالمے کے بعد مسلمان ہوگئے۔ حضرت عباس نے عرض کی یارسول اللہ ابوسفیان مکہ کا سردار ہے اس کی دل جوئی کے لیے کچھ عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو حضرت ابو سفیان کے گھر داخل ہوگیا اسے امان۔ ابو سفیان نے عرض کی یارسول اللہ میرے گھر میں کتنے لوگ آجائیں گے۔ آپ نے فرمایا جو حرم میں داخل ہوگیا اسے امان ہے۔ حضرت ابو سفیان نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا اسے بھی امان ہے۔ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا اس میں بہت وسعت ہے۔

مرالظہران سے روانگی کے وقت حضرت عباس حکم نبوی کی تعمیل میں حضرت ابو سفیان کو لے کر پہاڑ پر چڑھ گئے۔ حضرت ابو سفیان لشکر اسلام کو دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ جو بھی دستہ گزرتا تھا حضرت ابو سفیان سوال کرتے یہ کون سا قبیلہ ہے۔ آخر میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ مہاجرین وانصار کے ساتھ گزرے۔ مہاجرین کا علم حضرت زبیر اور انصار کا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں تھا۔ سعد بن عبادہ جب ادھر سے گزرے ابو سفیان کو دیکھ کر جوش سے فرمانے لگے ”آج لڑائی کا دن ہے آج حرم میں قتال حلال ہوگا“ ابو سفیان نے گھبرا کر دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آج کا دن رحم کا دن ہے جس میں اللہ قریش کو عزت دے گا“ آپ نے سعد سے علم لے کر ان کے بیٹے کو دے دیا۔

یہاں سے حضرت ابو سفیان روانہ ہوئے اور جلدی سے مکہ آگئے، اور بآواز بلند یہ اعلان کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ آرہے ہیں میری رائے یہ ہے کہ اسلام لے آؤ سلامت رہو گے ورنہ ان سے مقابلے کی طاقت کسی میں نہیں البتہ جو مسجد حرام میں داخل ہوگیا یا میرے گھر میں داخل ہوگیا یا اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا اس کو امان دی جائے گی۔ حضرت ابو سفیان کی بیوی ان سے الجھنے لگی۔ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے کہا بحث کا وقت نہیں جلدی کر۔ لوگ اپنے گھروں کو بھاگ کھڑے ہوئے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کدا کی جانب سے پوری شان شوکت سے مکہ میں داخل ہوئے۔ کعبہ کے احترام میں آپ نے اپنی گردن اور آنکھیں مبارک جھکائی ہوئی تھیں۔ سیدنا خالد بن ولید کو اسفل مکہ سے داخل ہونے کا فرمایا اور زبیر کو اعلی مکہ سے اور حکم فرمایا خود قتال کی ابتدا نہ کرنا جو تعرض کرے اس سے لڑنا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو حضرت ام ہانی (حضرت علی کی بہن) کے گھر ٹہرے اور آٹھ رکعات نماز نوافل ادا فرمائے جسے نماز چاشت اور نماز فتح بھی کہا جاتا ہے۔

سیدنا خالد بن ولید جب داخل ہوئے تو بعض لوگوں نے تعرض کیا اور مقابلہ ہوا جہاں دو مسلمان شہید جب کہ مشرکین بارہ یا تیرہ آدمی مارے گئے۔ اس کے بعد امن قائم ہوگیا اور لوگوں کو امن دے دیا گیا، لوگ مطمئن ہوگئے اور فتح مکمل ہوگئی۔ یہ بیسویں رمضان کا دن تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے، طواف کیا، بتوں کو نکالا، اور بلال نے کعبہ پر چڑھ کر آذان دی اور نماز ظہر ادا فرمائی گئی۔ واللہ اعلم بالصواب