17رمضان المبارک،یوم وفات،ام المومنین،سیدہ کاٸنات،ملکہ کاٸنات،استاذ صحابہؓ،ملکہ تطہیر،طیبہ،طاہرہ،حمیرا،محدثہ،حافظہ،مفسرہ،
عالمہ،رفیقہ رسول اللہﷺ،صدیقہ بنت صدیقؓ،سیدہ امی عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ عنہہ

تحریر:-حسیب خان
خاکپاۓ در اصحاب رسولﷺ

17رمضان المبارک،یوم وفات،ام المومنین،سیدہ کاٸنات،ملکہ کاٸنات،استاذ صحابہؓ،ملکہ تطہیر،طیبہ،طاہرہ،حمیرا،محدثہ،حافظہ،مفسرہ،
عالمہ،رفیقہ رسول اللہﷺ،صدیقہ بنت صدیقؓ،سیدہ امی عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ عنہہ

سیدہ عاٸشہؓ،سیدنا صدیق اکبرؓ کی بیٹی اور رسالت مآبﷺ کی رفیقہ حیات تھیں۔امہات المومنین میں سے آپؓ ہی کنواری بیوی تھیں جن سے رسالت مآبﷺ نے نکاح فرمایا۔دنیا میں دو نکاح اللہ نے آسمانوں پہ طے کیٸے جن میں ایک سیدہ عاٸشہؓ اور دوسری ام المومنین سیدہ زینب بنت جحشؓ تھیں۔

اور کوٸی نکاح آسمانوں پر نہیں کیا گیا۔ہاں باقی نکاح اور ہر کام رسول اللہﷺ نے اللہ کے حکم سے ہی کٸے۔سیدہ عاٸشہؓ دین کی بہت بڑی عالمہ تھیں۔رسول اللہﷺ کی وفات اقدس کے بعد صحابہ کرامؓ کو جب بھی کوٸی مسٸلہ درپیش ہوتا وہ سیدہؓ کے پاس جاتے۔آپؓ کا فتوی خلفاۓ راشدینؓ بھی تسلیم کیا کرتے۔

سیدہؓ پر منافقین نے تہمت لگاٸی تو تمام صحابہؓ نے مشورہ دیا کہ آپﷺ کے لٸے عورتوں کی کوٸی کمی نہیں ہے۔مگر قربان جاٶں سیدنا عمرؓ پہ جنہوں نے کہا آقاﷺ آپ ﷺنے نکاح کس کے حکم سے کیا۔تو آپﷺ نے جواب دیا اللہ کے حکم سے۔تو فاروق اعظمؓ نے فرمایا جو اللہ آپﷺ کےجسم پہ گندی مکھی برداشت نہیں کر سکتا وہ آپﷺ کے بستر پر گندی عورت بھی برداشت نہیں کر سکتا۔سیدہؓ فرماتی ہیں کہ رسالت مآبﷺ مجھ سے بات کرنا بھی بند کر دیا۔میں کہا اگر آپﷺ اجازت دیں تو میں اپنے ماٸکے چلی جاٶں۔توآپﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا جاٶ۔سیدہؓ اپنے ماٸیکے آ گٸی۔آگے سے سیدنا صدیق اکبرؓ بھی ناراض تھے۔سیدنا ابو بکرؓ نے کہا عاٸشہؓ اگر غلطی ہوٸی ہے تو اللہ اور رسولﷺ سے معافی مانگ لو۔سیدہ ؓ فرماتی ہیں کہ باپ کی یہ بات مجھے پہاڑ گرنے سے بھی زیادہ سخت لگی۔سیدہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی ماں سے کہا میرا بچپن تو آپؓ کے پاس گزرا ہے۔آپؓ تو میری گواہی دیں۔سیدہ ؓ کہتی ہیں ماں بھی باتیں کرنے لگ گٸی۔سیدہؓ نے کہا اب میرا اللہ ہی میرا فیصلہ کریں گے۔فرماتی ہیں کہ میں مصلےٰ پہ بیٹھ گٸی اور رونے لگ گٸی اور دعاٸیں کی۔تھوڑی دیر بعد رسول اللہﷺ آۓ اور مجھے سجدے سے اٹھایا اور فرمایا عاٸشہؓ اللہ نے آسمانوں سے تیری برات کا اعلان کیا ہے۔سیدہ عاٸشہؓ فرماتی ہیں مجھے ابا جان نے کہا عاٸشہؓ رسول اللہﷺ کا شکریہ ادا کرو۔مگر سیدہؓ نے فرمایا میں صرف اپنے خدا کا شکر اداکروں گی۔سیدہؓ فرماتی ہیں کہ جب تہمت لگی تو میرے گھر کی بلی بھی رویاکرتی تھی۔ہاۓ میری ماں عاٸشہؓ قربان جاٶں تیری عظمت پہ کسی کی پاکیزگی کی گواہی ایک بچے نے دی،کسی کی گواہی بڑے نے دی مگر جب تیری باری آٸی تو عرش پہ اللہ نے گواہی دی۔

جب سیدنا عمرؓ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو عمرؓ نے اپنے بیٹے کو سیدہؓ کے پاس بھیجا کہا اجازت لے آٶ کہ عمرؓ اپنی آخری آرام گاہ راضہ رسولﷺ چاہتے ہیں۔سیدہ عاٸشہؓ نے فرمایا کہ جگہ تو میں نے اپنے لٸے رکھی تھی مگر جب سب خاموش تھے تو عمرؓ ہی تو بولا تھا۔

بہرحال سیدہ عاٸشہؓ کی گواہی میں سورت نور کی ٢٠ آیات نازل فرماٸی۔سیدہ عاٸشہؓ کی کنیز فرماتی ہیں کہ جب سیدہؓ پہ تہمت لگی تو آپؓ کے گھر میں موجود بلی بھی رویا کرتی تھی۔

سیدہ عاٸشہؓ کا اصحاب محمدﷺ بے حد احترام کیا کرتے تھے۔مگر بد بخت تھے سباٸی اور نسل سباٸیت جنہوں نے سیدہ عاٸشہؓ پہ تہمت لگاٸی اور گستاخیاں کی۔سیدہ عاٸشہؓ دین اسلام میں چمکتے سورج کی مانند ہیں۔جن کا علم و عمل اسلام میں بڑی اہمیت کا حامل ہیں۔خدارا اس عظیم ماں،عظیم شخصیت کی حامل پیغمبر اسلامﷺ کی لاڈلی بیوی کا احترام کریں۔

رسالت مآبﷺ کو اپنی اس بیوی سے اس قدر محبت تھی کہ آپﷺ سیدہ عاٸشہؓ کو حمیرا،طیبہ،طاہرہ کے نام سے پکارا کرتے۔جس گلاس میں سیدہ عاٸشہؓ پانی پیا کرتی آپﷺ گلاس کی اسی جگہ سے پانی پیا کرتے۔کیونکہ سب کو مان کر مگر صرف اس اسلام کی عظیم ماں کا انکار کر کے ہمارا ایمان باقی نہیں رہ سکتا۔

یہ ماں عاٸشہؓ روز محشر کیسے ہمیں منہ لگاۓ گی وہ کیا سوچیں گی کہ آج جنت کا مطالبہ کرنے والے دنیا میں مجھے تکلیف دیتے رہے اور آج کس منہ سے جنت کا مطالبہ کرتے ہیں۔اس وقت سارے سر شرم سے جھک جاٸیں گے۔امی عاٸشہؓ کا ہاتھ ہو گا اور ہمارے گریبان ہوں گے۔کیا جواب دیں گے ہم؟کیا جواب ہو گا اس وقت ہمارے پاس؟

سیدہ عاٸشہؓ نے 60ہجری میں سیدنا امیر معاویہؓ کے دور حکومت میں وفات پاٸی۔

اللہ کریم سے دعا ہے مولا ہمیں سیدہ عاٸشہؓ کا احترام کرنے کی توفیق دے۔اور روز محشر ہمیں سیدہؓ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچاۓ۔آمین