اولاد عمر بن یثربی اور بنو ضبحہ’جان نثارران سیدنا علی المرتضی عصمت امی عائشہ پر دشنام طرازیوں کو لگام ڈالیں گے۔۔۔۔۔مخدوم عدیل عزیر کے روح پرور جذبات۔۔سٹار نیوز پر
صدیقہ کائنات (رض) سلام تم پر.
یَا اُمنا یَا عیشُ لَنُ تَرَاعِیُ
کُل بَنِیُک بَطُل شُجَاعُ
یَا اُمّنَا یَا زَوُ جَتہَ النبَِّیُ
یَا زَوُجَتہَ الُمُبَارَکِ الُمَھُدِی
ایسے حال میں زندہ رہنے پر ندامت ہوتی ہے
ایسی زندگی حقیر معلوم ہوتی ہے
نفرت ہوتی ہے ایسے جینے پر.
مصلحت مصلحت کرتے تمام اکابر بونے لگتے ہیں
جب مملکت خداداد پاکستان میں سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کی شان اقدس میں گستاخی ہوتے دیکھتا ہوں
.
صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ (رض) کی شان اقدس میں گستاخی کون بدبخت کرتے ہیں یہ اہل علم جانتے ہیں
مگر پھر بھی “اکابر” کے احترام میں
پیغام پاکستان کی چھتری تلے میں یہی گمان رکھتا ہوں
کہ یہ یہود و ہنود زہریلی سازش ہے..
میں یہ بھی مانتا ہوں کہ محرم الحرام و دیگر اہم مواقع سے پہلے دشمن اس طرح حالات خراب کرنے کی ناپاک کوشش کیا کرتا ہے
مجھے یہ بھی تسلیم ہے کہ پاکستان ازل سے نازک دور سے گزر رہا ہے.
میں اس پر بھی یقین کرنے کو تیار ہوں کہ اس طرح کی تفریق را, موساد, اور سی آئی اے ہی پیدا کرتی ہے..
میں محرم الحرام میں علماء کرام کی جانب سے پڑھی جانے والی اس آیت پر بھی صدق دل سے ایمان رکھتا ہوں کہ “اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑھو.”
اس کے علاوہ بھی کوئی دلیل و منطق ہو احباب کے پاس تو وہ بھی تسلیم کرنے کو تیار ہوں
مگر یاد رکھئے
ان گستاخیو کے پیچھے چاہے کوئی بھی ہو..
یہ خناس ذہنیت نئی نہیں یے..
اس سے پہلے بھی.
کبھی تلواروں کے ذریعے
کبھی تحریر کے ذریعے.
کبھی تقریر کے ذریعے.
کبھی اشعار کے ذریعے.
کبھی جلوس کے ذریعے.
یہی کچھ ہوتا رہا ہے
اور اب
سوشل میڈیا کے ذریعے
یہی کچھ ہو رہا ہے.
جب ماں کی عزت و حرمت پر بات آجائے..
تو سیاسی , فکری اور نظریاتی اختلاف پس پشت رہ جاتے ہیں.
جب ماں کے تقدس پر آنچ آنے لگے
تو معاشی اور معاشرتی فرق بھی مٹ جاتے ہیں.
جب ماں کی عظمت پر حرف آئے
تو فقہی, مسلکی اور مذہبی جماعتوں کے تضادات ختم ہوجاتے ہیں..
جس ماں نے ہمیں جنم دیا ہو ہم تو اس کے لئے بھی سب قربان کردیتے ہیں..
جس دھرتی کی مٹی سے ہم عدم سے وجود میں آئے ہوں ہم تو اس دھرتی کو بھی ماں کے درجہ دے کر اس کے تحفظ کے لئے جان تک نچھاور کردیتے ہیں.
تو پھر اس عظیم ماں کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لئے ہم کیا کچھ نہ کریں گے.
جسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی ماں کہا.
قرآن کریم کے مقابلے میں ہر اس مجوسی روایت و راوی کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں جو بہتان تراشی کرے.
پس
جو بھی امہات المومنین (رض) کے خلاف ناپاک سازشوں میں مصروف ہے.
وہ سن لے.
ہم بنو ضبہ والے ہیں……!
کون بنو ضبہ؟؟
واللہ تم خوب واقف ہو ہم سے…….!
یاد کرو ہم تو موت کو سامنے دیکھ کر یہ رجز پڑھا کرتے ہیں.
نحن بنو ضبۃ اصحاب الجمل
الموت احلی عندنا من العسل
“ہم ضبہ کی اولاد ہیں اور اونٹ والے ہیں.”
“ہمارے نزدیک موت شہد سے بھی زیادہ میٹھی چیز ہے”
ہم تو اپنی ماں سیدہ عائشہ (رض) کے عسکر نامی اونٹ کی مہار تھام کر ڈٹ جاتے ہیں. اپنے لاشے بھی گراتے ہیں اور دشمنان امہات المومنین (رض) کے لاشے بھی تڑپاتے ہیں..
ہم عمر بن یثربی کی اولاد ہیں جو سینہ تان کر مہار ہاتھ میں لئے یہ رجز پڑھتا جاتا تھا.
نحن بنو ضبہ لا نفر. حتی نری جمًا جمًا تخر
یحخر منھا العلق المحمر
“ہم بنو ضبہ ہیں, بھاگنے والے نہیں
تاوقتکیہ کھوپڑیاں گرتی نہ دیکھ لیں.
اور جب تک خون کی سرخ دھاریں نہ چلنے لگیں”
ہم اس وقت بھی نہیں بھاگتے جب ایک ایک کرے مہار تھامے چالیس جوان قتل ہوگئے اور ہمارے آٹھ سو جوان شہید ہوئے .
ہم اس وقت بھی پیچھے نہ ہٹے جب تیس سال سے کم عمر کا ہمارے قبیلے کا کوئی آدمی زندہ نہ بچا..
ہم اس وقت بھی پیچھے نہ ہٹے جب کوفیوں نے ہماری ماں صدیقہ کائنات (رض) کے اونٹ پر تیروں کی بارش کردی.. اور ہودج کو اتنے تیر لگے گویا وہ تیروں کا تھیلا ہو.
ہمیں ہی یہ امتیاز حاصل ہے کہ سیدہ عائشہ (رض) نے ہمارے بارے میں فرمایا تھا.
“جب تک بنو ضبہ میرے ارد گرد لڑتے رہے اس وقت تک اونٹ کا سر جھکنے نہ دیا.”
یاد رکھو… ہم ازد ہیں یعنی آل غسان ہیں
اور ہمارے ہی بارے میں سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا تھا.
“اے آل غسان تمھاری شجاعت عام سننے میں آتی ہے. آج اپنی شجاعت و بہادری کو قائم رکھتے ہوئے اپنی عزت کی حفاظت کرو”
ہمارے قبیلہ کے ڈیڑھ ہزار جوان و بوڑھے شہید ہوئے مگر دیکھو ہم نے اپنی ماں کی کیسے حفاظت کی..
ہم وہی ازدی ہیں جنہیں شہید کرکے کوفی یہ اشعار پڑھتے تھے.
“میں ازدیوں کے درمیان تلوار چلا رہا تھا اور ان کے بوڑھوں اور جوانوں کو قتل کر کر رہا تھا. اور ہر لمبے بازو والے چیتے کو میدان میں گرا رہا تھا.”
واللہ ہم خود فنا ہوئے مگر ایسی موت کے تو ہم خود طلبگار تھے…ہمارے لئے تو میدان جنگ میں خون مشک کی خوشبو کی مانند تھا.
ہم تو ان میں سے ہیں جن کے قتل کے بعد دشمن بھی ان کے تقویٰ کی گواہی دیا کرتا ہے.
“جس کے بال پراگندہ تھے جو شخص نفلوں میں کھڑے ہوکر اپنے پروردگار کی آیات خوب تلاوت کیا کرتا تھا.
جو کبھی کسی کو تکلیف نہ پہنچاتا تھا. میں نے نیزے سے اس کی قمیض کا گریبان چاک کرڈالا اور وہ اوندھے منہ زمین پر گر گیا.”
(یہ اشعار کوفیوں نے حضرت محمد بن طلحہ (رض) کو شہید کرنے کے بعد پڑھے جب وہ بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے تھے)
تمھیں یاد ہے نا؟
ہم تو حضرت عبدالرحمن بن عتاب (رض) کے غلام ہیں..
جب وہ اپنی ماں سیدہ عائشہ صدیقہ (رض)کے اونٹ کی مہار تھامے ہوئے تھے… ان پر مالک بن اشتر نے حملہ کیا تو انہوں نے ایسا مقابلہ کیا کہ ابن اشتر بھی کہہ اٹھا کہ میں نے اس سے زیادہ بہادر و خوفناک کوئی شخص نہیں دیکھا.
ہاں وہی عبدالرحمن بن عتاب (رض) جنہوں نے اس حالت میں بھی داد شجاعت دکھائی جب آپ کا ایک پاوں کٹ چکا تھا اور جسم مبارک زخموں سے چور تھا اور آپ نے مہار تھامے ہی جام شہادت نوش کیا.
تمھیں معلوم ہے نا؟
ہم تو سیدنا عبداللہ بن زبیر (رض) کے غلام ہیں جنہیں اس روز تلواروں اور نیزوں کے سینتیس سے زائد زخم آئے..جو اپنی ماں سیدہ عائشہ (رض) کی حفاظت کے لئے پہاڑ کی طرح ڈٹے رہے.
تمھیں علم ہے نا؟
ہم تو امیر المومنین سیدنا علی (رض) کے غلام ہیں جب انہہں معلوم ہوا کہ دو اشخاص سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) کے بارے میں نازیبا اشعار کہتے ہیں.. تو انہوں نے قعقاع بن عمرہ (رض) کو بھیج کر انہیں گرفتار کیا اور ان بدبختوں کو برہنہ کرکے سو سو کوڑے لگوائے..
پس ہماری کسی سے کوئی دشمنی و اختلاف نہیں
مگر جو بدبخت ام المومنین صدیقہ کائنات سیدہ عائشہ (رض) کی بے ادبی و گستاخی کرکے انہیں تکلیف دیتے ہیں ان بدبختوں کو فنا کرنے کے لئے ہم کافی ہیں..
یَا اُمنا یَا عیشُ لَنُ تَرَاعِیُ
کُل بَنِیُک بَطُل شُجَاعُ
لَیُسَ بِوَ ھِّام وَّ لَا بِراعِیُ
” اے ہماری ماں! اے عائشہ (رض) !
آپ ہر گز نہ گھبرائیے
آپ کے تمام بیٹے خوفناک مرد میدان ہیں
نہ تو وہم میں مبتلا ہونے والے ہیں
نہ ڈرنے والے ہیں. ”
17 رمضان یوم وصال ام المومنین سیدہ عائشہ (رض)
آپ کا بیٹا
مخدوم عدیل عزیز












