عالم انسانی کا خوبصورت جوڑا،سیدہ رقیہ بنت محمد و سیدنا عثمان۔۔۔۔ذوالہجرتین و ذوالنورین کے حوالہ سے بہترین کالم۔۔۔۔سٹار نیوز پر

انتخاب محمد عمر فاروق گڑھ موڑ جھنگ

لختِ جگرِ رسول سیدہ رقیہ بنت محمد
(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)

ہمشیرگان کو ابولہب کے لڑکوں کے طلاق دینے کے بعد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق یہ نکاح حکم خداوندی پر ہوا۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حق میں فرماتے ہیں کہ نبی برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو ایک صاحبزادی نکاح کر کے دی، پھر اپنی دوسری صاحب زادی ان کے نکاح میں دے دی۔

اللہ تعالیٰ نے سیدہ رقیہ بنت محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حسن وجمال کا وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ سیدہ کا نکاح جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ہوا تو اس دور کی قریش کی عورتیں ان پر رشک کیا کرتی تھیں، اور دونوں کے حسن وجمال کو ان الفاظ سے تعبیر کیا کرتی تھیں۔ ”انسان نے جو حسین ترین جوڑا دیکھا ہے وہ رقیہ اور ان کے خاوند عثمان ہے“۔

یہ اسلام کا ابتدائی دور تھا، مسلمانوں پر ہر طرح سے دباؤ ڈالے جارہے تھے اور ظلم وتشدد کی حد کی جارہی تھی، تو ان دنوں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو آموز مسلمانوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کا مشورہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشورہ سے جن چند صحابہؓ کرام نے حبشہ ہجرت کی ان نفوس قدسیہ کے ساتھ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہمراہ تھے۔ اسی موقع پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: ”عثمان وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے لوط علیہ السلام کے بعد اپنے اہل عیال کے ساتھ ہجرت کی“۔ دوسری مرتبہ اس معزز جوڑے نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اسی لیے ”ذوالہجرتین“ کے لقب سے ملقب ہوئے۔