21رمضان المبارک۔ یوم شھادت خلیفہ چہارم داماد رسول شیر خدا حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ

تحریر معروف کالم نگار حاجی غلام شبیر منہاس

مکہ کا یہ ایک گرم دن تھا جب میرے اور آپکے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان قریش کو جمع کیا اور خود فاران کی چوٹی پہ کھڑے ھوکر قوم سے مخاطب ہوئے کہ تم نے میرا بچپن اور جوانی دیکھی ھے۔ کبھی کسی نے مجھے کسی غلط کام میں شریک پایا ھو۔ پوری قوم نے گوائی دی کہ آپ سے بڑا دیانت دار اور شریف النفس انسان مکہ کی دھرتی پہ کوئی نہیں ھے۔ آپ صادق بھی ہیں اور امین بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ اے میری قوم ، آپ لوگوں نے میرے شب و روز دیکھے ہیں۔ اگر میں تمہیں کہوں کہ فاران کی جس چوٹی پہ کھڑا میں آپ سے مخاطب ہوں اس پہاڑ کے عقب میں دشمن کی ایک ایسی تیار سپاہ کھڑی ھے جو تم پر حملہ آور ھوجائے گی تو کیا تم یقین کرلو گے۔ پوری قوم اور قوم کے سردار بیک زباں گویا ہوئے کہ گو ہمیں پہاڑ کے اس طرف کچھ دکھائی نہیں دے رہا مگر ھمیں آپ کی زباں پہ پورا یقین ھے کہ آپ کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر آپ سب کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں تم کامیاب ھوجاو گے۔ اس پر وہ قوم جو کچھ لمحے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و دیانت کی گواہی دے ری تھی یکایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہوگئی اور سب سے پہلے جس بدبخت آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کی طرف پتھر اچھالا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سگا چچا ابولہب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی قوم واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئی مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہار نہ مانی۔
کچھ ہی دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اپنی قوم کو کھانے کی دعوت پہ بلایا۔ اور خاندان قریش کیلئے دسترخوان سجا دیا۔ قوم کے بڑوں نے سوچا کہ عبداللہ کے بیٹے کو شاید غلطی کا احساس ہو گیا ھے۔ لھذا آج وہ ہمیں کھانا کھلا کے اس کی تلافی کرنا چاہتا ھے۔ وہ سب لوگ یہ سوچ کر کھانے پہ آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کا پرتپاک استقبال کیا ۔ کھانا کھلانے کے بعد دوبارہ سے قوم کو فاران والا پیغام سنایا۔ اس پہ قوم دوبارہ بپھر گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برابھلا کہتی دسترخوان سے اٹھ کر اپنے گھروں کو چل دی۔
اس نازک کٹھن اور دل شکن موقعہ پہ ایک کم عمر جوان کھڑا ھوا اور کہنے لگا۔ اے میرے بھائی، میں اگرچہ ابھی بچہ ہوں، میرے بازو ناتواں ہیں اور قوم کے ان بڑوں میں میری کوئی حیثیت نہیں ھے۔ مگر آپ پریشان نہ ہوں آج کے بعد اس مبارک کام میں۔۔میں آپ کے ساتھ ہوں۔ یہ خوش بخت بچہ ابوطالب کا بیٹا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا زاد بھائی حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ تھا۔جن کو نہ صرف بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ھوا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں سب سے زیادہ وقت گذارنے کا موقعہ بھی ملا۔
رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں کئی ایک اہم واقعات پیش آئے۔ اس ماہ مبارک کے پہلے عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پیاری اور لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ھوا۔ جبکہ اسی ماہ کے دوسرے عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی رفیقہ حیات و غمگسار اور مومنوں کی ماں اماں خدیجتہ الکبری رضی اللہ عنہا اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ یہ وہ عظیم عورت تھیں جس نے نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے عہدے پہ فائز ھونے کے بعد سب سے پہلے دیکھا بلکہ یہ اس مشکل وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ کھڑی ہویئں جب مکہ کے درودیوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تھے۔ اسی ماہ مقدس کے دوسرے عشرہ میں کفر و اسلام کا پہلا معرکہ غزوہ بدر پیش آیا جس میں کفار کے 1000 کے لشکر کے مقابلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی تعداد محض 313 تھی مگر اللہ نے مسلمانوں کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا۔ اسی ماہ کے اسی دوسرے عشرہ میں مومنوں کی ایک اور عظیم المرتبت ماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نےبھی اس دارفانی سے دار بقاء کیطرف سفر فرمایا۔ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وہ عظیم عورت ہیں جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کو امت کے سامنے رکھا۔ مومنوں کی یہ ماں 2210 احادیث کی راوی ہیں اور انکو یہ شرف حاصل ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری وقت انہی کے حجرہ میں قیام فرمایا اور آج بھی وہیں آرام فرما ہیں۔ اسی طرح فتح مکہ کا عظیم اور تاریخی دن بھی رمضان المبارک کے ماہ میں نصیب ھوا۔ طائف ، حبشہ، شعب ابی طالب، ہجرت مدینہ، اور پھر بدر و احد اور خندق کی گھاٹیوں سے ہوتا یہ عزیمت کا سفر جب واپس اسی مکہ میں آکے اختتام پذیر ہوا تو وہ دن بھی کیا عجیب اور عظیم دن تھا۔اور پھر اسی ماہ مبارک کی 21 تاریخ کو مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا یوم شہادت ھے۔ اور یہی آج کا نقطہ تحریر بھی ھے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے والد کا نام ابو طالب اور والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا تھا۔ آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب تھی۔ لقب حیدر اور مرتضی تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوہری رشتہ داری تھی۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی بھی تھے اور داماد بھی۔ جناب علی المرتضی رضی اللہ عنہ، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سسر تھے۔ آپ کی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیساتھ ھوا تھا۔ جبکہ شیر خدا رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ھم زلف تھے۔
فاتح خیبر کی خلافت کا آغاز 25 زالحجہ کو اس وقت ہوا جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں شہید کردیا گیا۔ آپ نے اپنا دارلخلافہ کوفہ کو بنایا۔ آپ کی مدت خلافت 4 سال اور 9 ماہ رہی۔ آپ کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں۔ مگر ایک حدیث جسکو حضرت ام سلمہ رض نے نقل کیا ھے بہت اہم ھے۔ آم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے درحقیقت اللہ سے بغض رکھا۔
ہجرت مدینہ کے وقت اھل مکہ کی امانتوں کیساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پہ لیٹنے والا یہ خوش بخت انسان، فاتح خیبر، داماد نبی اسی رمضان کے ماہ مقدس میں روزہ کی حالت میں نماز فجر ادا کرنے کوفہ کی جامع مسجد کیطرف نکلے تھے کہ ابن سباء کی نسل بد، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے قاتل ابولولوفیروز مجوسی کی روحانی اولاد، شہادت عثمان زوالنورین رضی اللہ عنہ میں ملوث مکروہ لوگوں کی بدنصیب نسل میں سے ابن ملجم نامی شخص نے آپ رضی اللہ عنہ پہ حملہ کیا اور آپ جام شھادت کے عظیم رتبہ پہ فائز ھوگئے۔ آپ کا جنازہ آپکے فرزند ارجمند حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ہڑھائی ۔ اسد اللہ اور خدا کے اس شیر کو کوفہ کی مرکزی جامع مسجد کے قریب ہی دفن کیا گیا۔ رضی اللہ عنہ