آہ !خطیب لبیب داعی ومفسرقرآن مولانامحمداسلم شیخوپوری شہید تحریر:مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی
اللہ پاک اپنے مقرب بندوں کواپنے دین کی خدمت کے لیے قبول فرماتاہے ان کی خدمت پہ پھر دنیانازکرتی ہے وہ دن رات اپنے راب کوراضی کرنے میں لگ جاتے ہیں خدمت اسلام ہی اصل دین کاکام ہے ،کیونکہ رب کے رضااسی میں ہے ،آج کے اس دور میں ہر بندہ اپنے کام میں مصروف ہے اسی دنیامیں بعض لوگوں نے وہ کام کردکھایاجورب نے بتایاتھاانہیں لوگوں میں میری نظر ایک ایسے انسان پہ پڑی جس نے ویل چئیر کاسہارالیتے ہوئے عالم اسلام کوجگاکر رکھ دیاپائوں سے چلنے والے لوگوں میں سے بہت کم لوگوں نے ایساکام کیاجتنااس مرددرویش نے کیاجولاٹھیوں کے سہارے چلتاتھااس نے اپنے کام سے ہم جیسے کمزورلوگوں کوسہارادیا،میری مرادداعئی قرآن ،مولانامحمداسلم شیخوپوری شہید ہیں
جیوتویوںجیوزندگی کوبھی رشک آئے
مروتویوںکہ موت بھی کہے ہائے کون مرگیا
مولانااسلم شیخوپوری شہید کی دینی وملی خدمات کوسلام عقیدت پیش کرناان کاہمارے اوپرایک قرض ہے کیونکہ انہوں نے بے لوث خدمت قرآن کرتے ہوئے ہمیں یہ سبق دے دیاکہ زندگی کامقصدخدمت قرآن بنادو!اسی میں ہی بلندیاں ہیں
مولانا کی خدمات کوشاعر نے بہت پیارے انداز میں بیان کیا ہے
وہ گلی گلی عام درس قرآن کر گیا
وہ گھرگھرمشہورخداکاقرآن کرگیا
سناتارہاوہ قوم کوقرآن کے ترانے
پوراوہ نبی کاارمان کر گیا
نہ بغض کسی قوم کانہ افرادکاحسد
اک شخص سارے شہر کوویران کرگیا
مولانا اسلم شیخوپوری صاحب نے اپنی زندگی خدمت قرآن کے لیے وقف کر رکھی تھی ،ان کاکردارامت مسلمہ کے لیے ایک مثال ہے ،وہ ہمیشہ اپنے چاہنے والوں کویہی درس دیتے تھے کہ مشکل اورآسانی میں صرف اللہ کوپکارواورعلماء امت کااحترام اپنے اوپرلاگوکردواسی میں ہی دنیاکے مسائل سے چھٹکاراہے جولوگ اپنے بڑوں کااحترام نہیں کرتے وہ ہمیشہ فتنوںکی موجوں میں بہہ جایاکرتے ہیں ۔
گویاوہ علامہ اقبال کی زبان میں یوں فرمایاکرتے تھے
تمنادرددل کی ہوتوکرخدمت فقیروں کی
نہیں ملتایہ گوہربادشاہوں کے خزینوں میں
انہوں نے ہمیشہ حق اورسچ کی صدابلند کی ،شاہوں کے ترانے گنگنانے والوں کوپمیشہ للکاراکرتے تھے ،اورآپ نے اپنی زندگی گویایوں کہہ کرگزاری
میں خاک نشیں ہوں میری جاگیر مصلیٰ
شاہوں کوسلامی میرے مسلک میں نہیں ہے
وہ درس قرآن دیتے وقت اکثرآبدیدہ ہوجاتے تھے ان کی تلاوت میں اللہ پاک نے حلاوت رکھ دی تھی جب درس قرآن میںقرآن پاک کی کوئی بھی آیت کریمہ تلاوت فرماتے توسامع جنت کی سیر میں چلاجاتا۔
مولانااسلم شیخوپوری شہید نے زندگی کاآخری درس قرآن دیتے ہوئے فرمایاتھاکہ یہ یاد رکھناقرآن اپنے آپ کومنوائے گا۔ہم مسلمانوں نے توقرآن پاک سے بے وفائی کی ہے ،قرآن کے حقوق ادانہیں کیے لیکن قرآن پاک اپنے آپ کومنوائے گا،یہ زندہ کتاب ہے ایسے ہی نہیں امریکی جل رہے اورقرآن کوجلاتے ہیں ۔ارے ایک پادری کے جلانے سے قرآن نہیں دنیاسے مٹ نہیں جائے گاخداکی قسم !اورابھرے گاقرآن کریم ۔قرآن جب دل میں اتر جائے توانسان بدل جاتاہے اورجب انسان بدل جائے توجہاں بدل جاتاہے ،جب ہم قرآن کے حقو ق اداکریں گے توہم بدل جائیں گے ،ہمارازوال عروج میں بدل جائے گایہ دنیاپھر ہماری ہوگی ۔ہم قرآن کواپناقائد مانیں گے تودنیاہمیں اپناقائد مان لے گی ۔صحابی نے قرآن کوقائدماناتھااللہ پاک نے انہیں بلندی عطاکردی۔
مولاناصاحب کی دن رات کی محنت کے قرآن پاک نے آپ کوشہادت کامقام عطافرمایاکیونکہ اللہ پاک نے اصل زندگی شہادت کوقراردیایہی زندگی حقیقی زندگی ہے
شہادت ہے مطلوب مقصودمومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
13مئی 2012کواسلام دشمن قوتوںنے پھر شہرقائد کوخون سے رنگین کیااورمولانااسلم شیخوپوری شہید کودن دیہاڑے شہید کردیا،شہادتوں کے نہ رکنے والے سلسلہ میں مولانااسلم شیخوپوری بھی اپنانام درج کرواگئے ۔اللہ پاک داعی قرآن وسنت مولانااسلم شیخوپوری کی حیات وخدمات کوقبول فرمائے اورہمیں بھی دین اسلام کی خدمت کی توفیق عطافرمائے (آمین)












