شان علی المرتضی رضی اللہ عنہٰ بزبانِ محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
اکرام الحق چوہدری
(پہلی قسط:)

1:۔حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سیدنا علی سے فرمایا:
(دنیا و آخرت میں قرابت و مرتبہ میں اور دینی مدد گار ہونے کے اعتبار سے) ”تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لئے ہارون علیہ السلام تھے،بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ بخاری و مسلم
2:۔حضرت سعد بن ساعدیؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے غزہ خیبر کے دن فرمایا:
“کل میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو عطا کروں گا کہ جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا اور وہ شخص اللہ اور اللہ کے رسول ﷺکو دوست رکھتاہے اور اللہ اور اللہ کا رسول ﷺبھی اس شخص کو دوست رکھتے ہیں”
جب صبح ہوئی تو سب لوگ سویرے سویرے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے،ہر آدمی یہ چاہتا تھا کہ جھنڈا اسے ملے۔آپ ﷺ نے پوچھا:”علی بن ابی طالب ؓ کہاں ہیں؟“لوگوں نے جواب دیا: وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں بلاؤ“جب سیدنا علی آئے تو آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک ڈالا تو وہ اس طرح ٹھیک ہو گئے جیسے کبھی بیمار ہی نہیں تھے۔آپ ﷺ نے جھنڈا سیدنا علی ؓ کو عطا فرمایا۔غزوہ خیبر میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی کے ہاتھ پر مسلمانوں کر فتح نصیب فرمائی۔ بخاری و مسلم
3:۔سیدنا سعد ابن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ جب آیت،ترجمہ: ’ہم اپنی اولاد لے آئیں اور تم اپنی اولاد لے آؤ(آل عمران،۱۶)نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے علی،فاطمہ،حسن حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا،اور فرمایا:
“اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں” مسلم
4:۔سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے چادر کے نیچے علی،فاطمہ،حسن حسین رضی اللہ عنہم کو داخل کرکے فرمایا:
“اللہ صرف یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست دور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کردے” مسلم
5:۔سیدنا سعید بن زید ؓ سے روایت کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حرا ء پہاڑ پر تھے،حرا ء پہاڑ نے حرکت کرنا شروع کی توآپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
،،اے حراء ! ٹھہر جا بلا شبہ تجھ ہر صرف نبی، صدیق اور شہید ہیں،،حراء پر موجود لوگ یہ ہیں:سیدنا ابوبکر ؓ،سیدنا عمر،سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ،سیدنا زبیر، سیدنا عبدالرحمن بن عوف،سیدنا سعد بن ابی وقاص اورمیں یعنی سیدنا سعید بن زیدرضی اللہ عنہم۔ابن ابی شیبہ
6:۔سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا:
،،علی تم سے محبت کرنے والا مومن ہوگا اور بغض رکھنے والا منافق ہوگا۔،،مسلم
7:۔حضرت عمران بن حصین ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:
“حقیقت یہ ہے کہ علی ؓ مجھ سے اورمیں علیؓ سے ہوں،نیز وہ تمام اہل ایمان کے دوست و مدد گار ہیں” ترمذی
8:۔حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشادفرمایا:
“میں حکمت و دانائی کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں” ترمذی
9:۔حضرت ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ سیدنا علیؓ کو کسی جنگی مہم پر لشکر کے ساتھ رخصت کر رہے تھے، میں رسول کریم ﷺ کو ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگتے سنا!: ”الہیٰ! مجھ کو اس وقت تک موت نہ دینا،جب تک کہ تو مجھے علیؓ کو عافیت و سلامتی کے ساتھ واپس لا کر مجھے دکھا نہ دے۔“ ترمذی
10:۔حضرت ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“علی ؓسے منافق محبت نہیں رکھتا اور مؤمن علیؓ سے بغض نہیں رکھتا” احمد و ترمذی
11:۔حضرت ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص نے نسب و نسل کے اعتبار سے علی کو برا کہا،اس نے حقیقت میں مجھے برا کہا۔” احمد
12:۔حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اکرم ﷺ نے مجھے فرمایا:
“تم میں عیسیٰ علیہ السلام سے ایک طرح کی مشابہت ہے،یہودیوں نے ان سے بغض رکھا تو اتنا زیادہ کہ ان کی ماں مریم علیہ السلام پر بہتان باندھا اور عیسائیوں ان سے محبت قائم کی تو اتنی زیادہ کہ ان کو اللہ کا بیٹا قرار دے ڈالا”
حضرت علیؓ کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ ارشادنبوی ﷺ کے مطابق میرے بارے میں بھی دو گروہ اس طرح ہلاک ہوں گے کہ: ایک مجھ سے محبت میں زیادتی کرے گا اور ایک مجھ سے بغض عناد رکھنے والا ہوگا۔ احمد
13:۔حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“جس کا میں مولیٰ ہوں تو علیؓ اس کے مولیٰ ہیں۔” ترمذی
14:۔سیدنا علیؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“یا اللہ !علیؓ پر رحم فرما،اے اللہ یہ جہاں کہیں بھی ہو حق اس کے ساتھ رہے۔”ترمذی
15:۔حضرت بریدہؓ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ نے مجھے چار آدمیوں سے محبت کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ بھی ان سے محبت کرتے ہیں“ جب نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا ہمیں بتایئے کہ وہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: “”علیؓ بھی انہی میں سے ہیں،ابوذر، مقداد اور سلیمان رضی اللہ عنہم”ترمذی