21 رمضان المبارک،یومِ شہادت،امیرالمومنین،خلیفہ رابع،دامادِ پیغمبرﷺ،ہم زلفِ امام عثمانؓ،شوہرِ بتولؓ،والدِ مولاۓ حسنین کریمینؓ،فاتح خیبر،مشیرِ آٸمہ خلفاۓ ثلاثہؓ،سیدنا علی المر تضی (رضی اللہ عنہہ

تحریر: حسیب خان
خاکپاۓ درِ اصحابؓ و آلِ رسولﷺ

21 رمضان المبارک،یومِ شہادت،امیرالمومنین،خلیفہ رابع،دامادِ پیغمبرﷺ،ہم زلفِ امام عثمانؓ،شوہرِ بتولؓ،والدِ مولاۓ حسنین کریمینؓ،فاتح خیبر،مشیرِ آٸمہ خلفاۓ ثلاثہؓ،سیدنا علی المر تضی (رضی اللہ عنہہ)

ماہِ مقدس رمضان کریم میں جہاں کٸی تاریخی واقعات پیش آۓ،جن میں ولادت سیدنا امام حسنؓ،وفاتِ ام المومنین سیدہ خدیجہؓ،واقع بدر،وفات ام المومنین سیدہ عاٸشہؓ کے علاوہ اور بھی متعدد واقعات رونما ہوۓ وہی پہ ایک دلخراش واقعہ شہادت امام علیؓ کا بھی پیش آیا۔جس سے اسلامی سلطنت کو زوردار دھچکا لگا کہ نسلِ سباٸیت و یہودیت نے امام عمرؓ و امام عثمانؓ کے بعد اسلام کے اس روشن ستارے کو بھی شہید کر دیا۔اور مسلسل نسلِ سباٸیت اپنی چالوں میں کامیابی حاصل کرتی رہی۔

میں بلا تمہید مولاۓ کاٸنات علی المرتضیؓ کی شہادت کے واقعہ اور اس کے پسِ منظر کو بیان کروں گا۔

سیدنا محمد مصطفیﷺ جب ہجرت فرماکر مدینہ تشریف لاۓ تو مدینہ میں اور گرد و نواح میں یہودیوں کے بہت قبیلے موجود تھے۔وہاں ان کی خانقاہیں و درگاہیں تھیں،مدرسے تھے۔ان میں یہودیت کے بڑے عالم و درویش تھے۔ان کا عرب میں بڑا احترام و تسلط تھا۔مگر جب رسالت مآبﷺ تشریف لاۓ تو ان کا یہ تسلط،غلبہ اور زور ٹوٹ گیا۔شرارتی وہ پرلے درجے کے تھے۔خبیث سوچ کے مالک تھے۔وعدے معاہدے کر کے توڑ دیا کرتے تھے۔ان میں سے ایک قبیلہ بنو نظیر کو مدینے سے جلا وطن کر دیا گیا۔انہیں صرف اتنی اجازت دی گٸی کہ ایک اونٹ پہ جو سامان لاد سکو وہی لے جاٶ۔ان کے باغات،گھر وغیرہ اللہ نے مال غنیمت کے طور پہ مسلمانوں کو عطا کر دیا۔یہودیوں کے اس قبیلے نے خیبر میں جا کر پناہ لی۔ایک وقت آیا جب میرے آقاﷺ نے اپنی قدوسی لشکر کیساتھ خیبر پر حملہ کر دیا۔

قارٸین اچھی طرح واقف ہیں کہ خیبر کا ایک قلعہ قموص جو کٸی دنوں سے فتح نہیں ہو رہا تھا اللہ نے اس کی فتح حضرت علیؓ کے ہاتھ پہ کرواٸی۔تاریخ اسلام کا مطالعہ کرنے پہ پتا چلتا ہے کہ اسی پاداش میں سیدنا عثمانؓ،سیدنا علیؓ کی شہادت،سیدنا حسنؓ کے خلاف سازش اور کربلا کا واقعہ رونما ہوا۔خیر اس کی تفصیل پھر کبھی سہی۔خیبر میں مسلمانوں نے یہودیوں کو گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کر دیا۔

یہودوں کے ایک اور قبیلہ بنو قریظہ جنہوں نے خندق میں بدعہدی کی۔معاہدہ ہوا تھا کہ مسلمانوں کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔مگر انہوں نے مشرکین کا ساتھ دیابد عہدی کی اور پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی۔خیر ڈیرھ مہینے کی مشقت اور سردیوں کے دن رات جدوجہد کرنے کے بعد بنو قریظہ پہ مسلمانوں نے حملہ کر دیا۔پھر 26 دن محاصرہ کے بعد بنو قریظہ نے ہتھیار ڈال دیے۔یہاں یہ بات حیران کن ہے کہ بنو قریظہ کے 700 جوانوں کو ایک ہی دن میں ذبح کر دیا۔یہ خداوند عالم کا فیصلہ تھا کہ ان کے جوانوں کو قتل کرو،عورتوں کو لونڈیاں بنا لو،بچوں کو غلام بناٶ۔عورتیں اور بچے دوسرے ملکوں میں بک گٸے۔قارٸین مکرم آپ اندازہ لگاٸیں کہ اتنا ہونے کے بعد یہ قبیلہ کس قدر مسلمانوں کی نفرت ان کے دلوں میں پل رہی ہو گی۔یہود جانتے تھے کہ مسلمانوں کی فتح،کامیابی کے پیچھے ان کا اتحاد،اتفاق،یکجہتی اور یگانگت ہے۔

ان میں مذہبی،لسانی،ملکی کوٸی اختلاف نہیں ہے۔یہ سیسہ پلاٸی دیوار ہیں۔جب تک یہ متحد رہیں گے یہ اسلام کا پرچار کرتے رہیں گے۔اور دنیا کے چپہ چپہ پہ اسلام پھیل جاۓ گا۔انہوں نے چال چلی کہ اب تلوار سے جنگ نہیں کرنی،ان کیساتھ سرد جنگ کرو۔ان کے اندر گھس کر انہیں کمزور کرو۔ اور اختلاف و انتشار پیدا کرو۔جب یہ سب ہو جاۓ گا تو فتوحات کا سلسلہ رک جاۓ گا۔حضرت امام عمرؓ کے دور میں اسلامی فتوحات عروج پر تھیں۔

ایران،مصر،عراق،شام،بیت المقدس تک یہ فتوحات جاری ہیں۔سیدنا امام عمرؓ کے دور میں ان یہودیوں کو ہمت نہیں ہوٸی کہ وہ کوٸی سازش رچاٸیں یا کوٸی چال چلیں۔چلتے چلتے وقت آ گیا سیدنا امام عثمانؓ کی خلافت کا۔سیدنا امام عثمانؓ نرم طبیعت کے مالک تھے۔فتوحات کا سلسلہ جاری تھا کہ آپؓ کی خلافت کے آخری چھ سالوں میں یمن سے ایک یہودی اٹھا جسے دنیا عبداللہ ابن سبا یہودی کے نام سے جانتی ہے۔یہ بہت چالاک شاطر تھا۔اس نے جب یہ دیکھا کہ امام عثمانؓ نرم طبیعت رکھنے والے ہیں۔یہ موقع بہتر ہے،وہ مدینے گیا اور اسلام قبول کر کے اسلام کا لبادہ اوڑھ دیا۔اور عثمانؓ سے سرکاری عہدہ مانگا۔تاکہ میرا کام ”مسلمانوں کو نقصان پہنچانا“ آسان ہو جاۓ گا۔مگر عثمانؓ نے عہدہ نہ دیا وہ اور سیخ پا ہو گیا۔

مدینہ سے نکلا اور بصرہ چلا گیا۔وہاں جا کر کچھ لوگوں کی ذہن سازی کی کہ عثمانؓ جو اپنے رشتہ داروں کا تعاون کرتے ہیں یہ بیت المال میں سے کرتے ہیں۔یہ پروپیگنڈا یہاں اتنا مقبول نہ ہوا پھر اس نے کوفہ کا رخ کیا۔وہاں اس کی اس اسلام دشمن چال کو کافی پذیراٸی ملی۔چلتے چلتے مصر اور دیگر صوبوں میں لوگوں کی ذہن سازی کی کہ عثمانؓ اپنے رشتہ داروں کو نواز رہے ہیں۔اور سیدنا مولا علیؓ سے منسوب کیے گٸے خطوط اس نے کوفہ،بصرہ،مصر و دیگر صوبوں کو پہنچاۓ،لوگوں نے سمجھا کہ امام علیؓ بھی امام عثمانؓ کے خلاف ہیں۔اہلسنت و اہل تشیع کی ساری کتب میں علماۓ کرام نے اس عبداللہ ابن سبا کو منافق لکھا اور اسلام کے خلاف چال چلنے والا کہا۔اس نے اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کیلیے امام علیؓ کی محبت کا جھوٹا دعوی کیا اور کہا کہ خلافت حق تو علیؓ کا تھا مگر اصحابِ ثلاثہؓ قابض ہوگٸے۔جیسا کہ یہ واقع اہلسنت کی کتبِ تاریخ اور اہل تشیع کی رجال کشی جیسی مستند کتب میں تفصیل سے درج ہیں۔اسی سکیم کے تحت حج کے ایام میں جب مدینہ سے تقریباً سارے صحابہؓ مدینہ سے باہر تھے،یہ اپنے گروہ کو مدینہ لایا۔اس بدبخت نے مدینہ کا محاصرہ کیا اور شہادتِ عثمانؓ اور سیدہ ناٸلہؓ کی انگلیوں کے کاٹنے کا دل خراش واقع پیش آیا۔

خیر شہادت عثمانؓ کے بعد ان سب مافقین نے امام علیؓ کو مجبور کیا کہ آپؓ خلیفہ بنیں۔جتنے صحابہؓ مدینہ میں موجود تھے۔انہوں نے بھی کہا اس نازک صورتحال میں آپؓ کو خلافت سنبھالنی چاہیے یہ آپؓ پہ متفق ہیں ورنہ ہم سب کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔پھر امام علیؓ نے خلافت سنبھالی۔ان چالبازوں نے ایسی چالیں چلی کہ انہوں نے امام علیؓ سے مدینہ چھڑوا دیا اور سیدنا علیؓ نے کوفہ کو دارالحکومت بنا لیا۔امام علیؓ کو کٸی جید صحابہؓ نے کہا کہ مدینہ نا چھوڑیں ورنہ پھر کبھی آپؓ کو یہ دھوکے باز مدینہ نہیں آنے دیں گے۔

وہی ہوا ان دھوکے بازوں نے سیدنا علیؓ کو خلافت کے ساڑھے چار سال ایسے مساٸل میں الجھایا کہ سلطنت اسلامیہ میں کوٸی علاقہ بھی فتح نہ ہوا۔مسلمان آپسی جنگوں میں پھنس گٸے۔اور یہودیوں کی وہ سازش کامیاب ہو گٸی۔حالانکہ جنگ جمل و صفین کے واقعات سے پہلے دونوں اسلامی فریقین میں صلح ہو گٸی،آپسی معاملات سلجھ گٸے۔اسلامی ہیرو ایک ہو گٸے۔مگر یہ صلح سباٸیت کیلیے موت تھی۔انہوں نے خود سے حملہ کر کے آگ بھڑکاٸی اور دو اسلامی بڑے گروہوں کے درمیان جنگ کرواٸی۔جب امام علیؓ اور امام معاویہؓ کے درمیان معاہدہ طے ہو گیا،صلح ہو گٸی۔

یہ صلح پھر یہودیت کے لیے پھر موت تھی۔پھر عبداللہ ابن سبا نے یہ مشورہ کیا کہ امت میں تین آدمی ہیں جن پہ پوری امت جمع ہو سکتے ہیں۔پہلے امام علیؓ،دوسرے امام معاویہؓ اور تیسرے امام عمرو ابن العاصؓ فاتح مصر۔فیصلہ ہوا کہ 17 رمضان یا 21 رمضان سنہ 40 ہجری نماز فجر کے وقت ان پہ حملہ کرو۔مصر میں عمروابن العاصؓ پر،کوفہ میں امام علیؓ پر اور دمشق میں امیر معاویہؓ پر حملہ کر کے شہید کر دیا جاۓ۔ان تینوں کی شہادت کے بعد مسلمان کسی ایک بندے پہ جمع نہیں ہو سکیں گے پھر مسلمان آپس میں الجھ جاٸیں گے۔چنانچہ اس دن اپنے مکروہ عمل کو عملی جامہ پہنانے کیلیے سباٸیت کے تین بھاڑے کے ملعونوں نے اپنی اپنی منزل کا رخ کیا۔اس دن عمرو ابن العاصؓ بیماری کی وجہ سے مسجد نماز پڑھانے نہ آسکے اس طرح وہ محفوظ رہے۔امیر معاویہؓ پہ قاتل کا وار اوچھا پڑا اور سیدنا معاویہؓ زخمی ہوگٸے مگر اللہ نے محفوظ رکھا۔لیکن سیدنا امام علیؓ پہ قاتل ان ملجم ملعون کا وار کاری ہوا اور یوں 17 رمضان یا 21 رمضان سنہ 40 ہجری کو اسلام کا یہ عظیم سپہ سالار،اسلام کی اس عظیم شخصیت سے اسلام محروم ہو گیا۔اور دشمن اسلام کی ایک چال کامیاب رہی۔

یہاں میں یہ بات کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ دین اسلام ہمیشہ سے سباٸیت و یہودیت سے خطرہ رہا ہے۔یہ لوگ اسلام کے لبادے میں آج تک اسلام کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتے ہیں۔پوری دنیا میں موجود تمام مسالک کے علماۓ کرام اور پیروکاروں بالخصوص ملک پاکستان میں موجود تمام اہلسنت،اہل تشیع و دیگر مسالک کے بھاٸیوں سے گزارش ہے کہ اصلی دشمن اسلام کی پہچان کریں۔آپس میں جھگڑوں کو چھوڑ کر ایک ہو کر رسالت مآبﷺ اور ان قدوسی جماعت صحابہ کرامؓ اور آل رسولﷺ سے محبت کو اپنا شعار بناٸیں اور قرآن و سنت کی اطاعت کریں۔جس دن ہم سب نے یہ کام کرلیا تو یقیناً تمام مساٸل ختم ہو جاٸیں گے۔اور ہمارا دین اور وطن عزیز سہی معنوں میں اگلی نسلوں تک محفوظ رہے گا اور رہنا بھی ہے قیامت تک انشا ٕ اللہ۔

آخر میں یہی عرض ہے کہ میں نے اپنا نقطہ نظر و اپنی ادنیٰ سی تحقیق ایک دین کا طالبعلم ہونے کی حیثیت سے آپ کے سامنے گوشگزار کی۔کسی بھی مسلک کی دل آزاری ہوٸی ہو تو معزرت۔میرے لیے تمام مسالک شیعہ،سنی،اہلحدیث سب بہت عزیز ہیں۔ان کے علما ٕکرام و پیروکار قابل عزت ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اتحاد و اتفاق کی توفیق دے۔صحابہ کرامؓ و آل رسولﷺ کا سچا عاشق بناۓ۔اور وطن عزیز ملک پاکستان کو ہر آفت سے محفوظ فرماۓ۔آمین