علامہ اقبال اور سرمایہ دارانہ نظام

تحریر طلحہ زبیر بن ضیا

انسان کو جب زمین پر اتارا گیا تو اس وقت سے اب تک اللہ نے اس کے ساتھ پیٹ بھی لگایا ہے کہ اگر تن آساں رہو گے تو کچھ میسر نہیں آئے گا۔ مگر اس کے ساتھ انسان کو دماغ اور احساس جیسی نعمت سے نوازا کہ سوچ سمجھ کر پرکھ کر کرنا اور احساس کہ کسی کا حق مت مارنا ۔ اس وقت سے پیٹ کی خاطر انسان کی دوڑ شروع ہوئی ۔ جہاں یہ خدا کے اصولوں کے تابع رہی کامیاب رہی مگر جہاں ان اصولوں سے نکلتی نظر آئی وہاں انسان کی نظر میں ہم نے بھیڑئے دیکھے ۔ جب انسان پیسے کی ہوس میں اندھا ہونے لگتا ہے تو اس کے سامنے کوئی احساس باقی نہیں بچتا ۔ سرمایہ دارانہ نظام اس کی ہی ایک کڑی ہے ۔ جس نے انسان کو بھیڑیا بنا دیا ۔ جس سے دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے معاشرے میں طبقات کو جنم دیا ایک طبقہ دو وقت کی روٹی کے لئے ترستا ہے اور ایک طبقہ ملک و ملت کو کوسنے کے ساتھ ان مزدوروں کی محنت پر اسراف کرتا ہے ۔ اس صورتحال میں انسان فکر معاش میں اپنی ذمہ داری بھولتا جاتا ہے جس سے معاشرے کا اعتدال بگڑتا جاتا ہے ۔ دو وقت کی روٹی اور اپنے گھر کی خاطر انسان اپنے مقصد کی قربانی دے کر پیسے کمانے میں لگ جاتا ہے ۔ اقبال اس پر کیا خوب فرماتے ہیں کہ

؎عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے

قبض کی روح تیری دے کے تجھے فکر معاش
صرف اقبال ہی نہیں بہت سے معیشت دان اس سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تھے جن میں معروف نام کارل مارکس کا ہے ۔ کارل مارکس کے نظریات اشتراکیت کے حوالے سے بے شک غلط ہوں لیکن سرمایہ دارانہ نطام پر ان کی گہری نظر تھی ۔ اور ان کے مطابق بھی یہ نظام اپنے اندر ایک خامی رکھتا ہے جو کہ مسلسل معاشی اتار چڑھاو پر مشتمل ہے اس لئے یہ ایک دن خود خود ہی ختم ہو جائے گا ۔ اور یہی خیالات اقبال نے بھی ظاہر کئے

تمہاری تہذیب خود اپنے خنجر سے آپ ہی خودکی کرے گی ۔

اسی سرمایہ دارانہ نظام نے تہذیب و تمدن انسانی اقدار و رویات سب کچھ بدل کر رکھ دیا ۔ انسان کی زندگی ایک چلتا پھرتا بزنس بن کر رہ گئی ۔ جس پر اقبال نے فرمایا ۔

؎دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے

ہر شے کو بیچ دینے کی انسانی خواہش نے تعلیم اور صحت کو بھی نہ بخشا اوراس کے بعد انسان کو بھی ایک پراڈکٹ بنا ڈالا اور ایک شعبہ وجود میں آیا جس کو ہیومن ریسورس کا نام دیا گیا ۔ انسان کو نچوڑکر اس کے مقصد حیات کو چھین کر اس کو چند ٹکے کے عوض بیچ دیا گیا ۔اسی نظام نے انسانیت کی تذلیل کی حدود عبور کر ڈالی جس کے بعد سرمائے کی بدولت انسان کی پہچان ہونے لگے جس کے سبب معاشرے میں طبقات وجود میں آئے ۔ اور لوگوں کو تقدیر کا سبق پڑھایا گیا ۔ مقدر کا لکھا سمجھ کر لوگوں کو سمجھوتا کرنا سیکھایا گیا ۔ جس پر اقبال ابلیس کی مجلس شوری میں ایک اجلاس کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

(ابلیس اپنے مشیروں سے مخاطب ہے )

میں دکھلایا فرنگی کو ملوکیت کاخواب

میں نے توڑا مسجد و دیر کلیسا کا فسوں

میں نے ناداوں کو سکھلایا سبق تقدی کا

میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنون

اقبال نے واضع الفاط مین بیان کر دیا کہ ابلیسی سرمایہ دارانہ نظام میں فرنگی خود کو دنیا کا مالک سمجھ بیٹھا ہے اور وہ مزہب کی حدود توڑنے میں کامیاب رہا ہے جو کہ انسان کو وحشی پن کی جانب مائل ہونے سے روکتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت نچلے طبقے کو ا س کی اہمیت سے بیگانہ کر کے اس کو پڑھا دیا گیا کہ یہی ان کے مقدر میں ہے اسی پر صبر و شکر کریں اور منعم ! مالک باشاہ اور سرمایہ داروں کو جنون دے دیا ہے ہے کہ وہ جیسے چاہیں خدا کی زمیں کو اپنی دکان میں تبدیل کر لیں ۔

اس نطام کے خلاف جانے والے ہمارے امام ۔ جن کا فرض تھا کہ ہمیں اس ابلیسی نطا کے بارے میں پڑھاتے ۔ وہ اس اس کا حصہ بن چکے ہیں ۔ جس پر ابلیس کا ایک مشیر کہتاہے کہ

یہ ہماری سعی عمل پیہم ہے کہ آج

صوفی و ملا ملوکیت کے بندے ہیں تمام

اقبال ویسے ہی اس نظام تعلیم کے خلاف تھے اس لئے ان کو اس نظام تعلیم سے زیادہ امید نہ تھی کہ اہل مدرسہ ان مسلمانوں کو یہ سیکھائیں کہ اسلام کیا شے ہے ۔ فرماتے ہیں کہ

گلا تو گھونٹ دیا ہے اہل مدرسہ نے تیرا

کہاں سے آئے صدا لاالہ اللہ

ایک جگہ بھی فرماتے ہیں کہ

اقبال یہاں نام نہ علم خودی کا

موزوں نہیں مکتب کے لئے ایسے مقالات

بہترہے کہ بےچارے ممولوں کی نظر سے

پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقالات

کارل مارکس نے انسان کی بنیادی ضروریات پر زور دیا جب کہ اقبال نے عزت نفس خودی اور مقصدیت پر زور دیا یہی خوبی ان کو ممتاز کرتی ہے۔ اقبا ل کے مطابق انسان کو اپنے اندر چھپا مقصد تلاش کرنااور معاشرے میں اپنے حصے کا کردار ادا کرناہے ۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فردہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اقبال ے مطابق معاشرے میں جب ہر فرد اپنے حصے کا کام کرے گا جس مقصد کے تحت اللہ نے اس کو زمین پر بھیجا ہے تو معاشرے اعتدال پر قائم رہے گا ۔ اقبال اپنے فارسی کلام میں فرماتے ہیں کہ

کس نے باشد در جہاں محتاج کس

نکتہ شرح میں این است و بس

دین کی ایک واضع شرح ہے کہ دنیامیں کوئی کسی کا محتاج نہ رہے

سرمایہ دارانہ نطام معاشرے کے ہر حصے کو متاثر کرتا ہے اگر دفاعی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو پہلے یوگو سلاویہ کو بدحال کر کے توڑ دیا گیا ۔ شام کی صورت حال آپ کے سامنے ہے جس کو طبقات میں بانٹ کر توڑ دیاگیا ۔ اسی طرح وطن عزیز پر بھی بہت سے پراپیگنڈہ اور معاشی حملے ہوئے اللہ کی رحمت سے ہم بچے رہے ۔ مگر اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے تو اللہ ہماری جگہ کسی اور کو لے آئے گا ۔

اقبال اسے کے بعد امید بھی دیتے ہیں

نکل کر صحرا سے جسے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا

سناہے میں نے قدسیو ں سےوہ شیر پھر ہوشیار ہوگا ہے اور نے عزت نفس خودی اور مقصدیت پر زور دیا یہی وبی ان کو ممتاز کرتی ہے۔ اقبا ل کے م

اقبال نے 1906 میں معاشی نظام پر ایک کتاب “علم اقتصاد” لکھی جس پر انگریز حکومت نے پاندی عائد کر دی اس وقت یہ کتاب مارکیٹ میں موجود ہے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کتاب میں ایک ٹھوس معاشی نظام موجود تھا ۔ جو سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت کی نفی کرتا تھا۔

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دنیا ہے تیر منتظرِ روز ِ مکافات

والسلام طلحہ زبیر بن ضیا