کاروبار کی تباہی کی وجوہات اور ان مسائل کا حل
تحریر طلحہ زبیر بن ضیا

مارکیٹنگ کرتے ہوئے ہمیں سات سال ہونے کو ہیں ۔۔اس فیلڈ میں جو اپنے آپ کو وقت کے ساتھ اپڈیٹ نہ رکھے وہ پیچھے رہ جاتا ہے اور دوسرے اس کو کچل کر آگے نکل جاتے ہیں ۔کچھ ایسا ہی ہم نے اپنے تجربے سے سیکھا ۔ کرونا کے باعث کراچی سے ایک شخص نے کانٹیکٹ کیا کہ وہ مارکیٹنگ کروانا چاہتا ہے ۔۔۔ ہم نے ان سے ڈیٹیلز لیں تو ان کا کاروبار کافی مندا چل رہا تھا ہم نے ان کو آفر دی کہ ہم آپ کو اس مشکل وقت میں مدد کرتے ہیں اور اپنی تمام سروسز کا ساٹھ فیصد تک چھوڑ دیتے ہیں ایک سال میں ہم آپ کی سیل انشااللہ اتنی بڑھا دیں گے کہ آپ ہماری فیس پوری دینے کے قابل ہو جائیں گے ۔۔ ہم نے ان کو صرف آٹھ ہزار ماہانہ کا پیکچ بنا کر دیا اور اس کی بھی دو اقساط کر دیں ۔ حضرت نے ہمیں اس پر کہا کہ ہم ان کو لوٹنے کا پروگرام بنا کر بیٹھے ہیں ۔۔۔
یہ تجربہ شیئر کرنے کا مقصد وطن عزیز میں کاروبار کے گھاٹے میں چلنے کاسب سے بڑا سبب کنجوسی ہے ۔اور دوسرا ان ذرائع کا استعمال جو کہ استعمال کے قابل نہیں ہیں ۔ لوگ مارکیٹنگ کو ایک مزاق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔اکثریت کے لئے صرف کھمبے پر چڑھ کر فلیکس لگاناہی مارکیٹنگ ہے ۔ جبکہ اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ۔ ہم نے ایک باربچوں کا سمر کیمپ کروایا ۔ ہماری ٹیم کا کہنا تھا آنلائن کےساتھ بروشرز بھی بانٹے جائیں ۔ جبکہ ہم صرف آنلائن کے حق میں تھے ۔ آنلائن مارکیٹنگ نے ہمیں ایک ماہ کے اندر تیرہ کے قریب داخلے دیئے جبکہ بروشرز سے ہمارے پاس کوئی ایک بھی ایڈمیشن نہ ہو پایا ۔ ہمارے ہاں ٹی وی ایڈ پر بہت زور دیا جاتا ہے ۔ جبکہ آپ سب جانتے ہیں کہ کرکٹ میچ کے دوران یا کسی سیریل کے درمیان اگر کوئی اشتہار آ جائےتو آپ اٹھ کر چلے جاتے ہیں یا موبائل پر میسجنگ میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ جب کہ فیس بک یا انسٹا گرام پر آپ فضؤل سی چیز کو بھی گھورتے رہیں گے ۔ کیونکہ ہر انسان فیس بک اور انسٹا گرام صرف اس وقت کھولتا ہے جب وہ فارغ ہوتا ہے ۔ اور فیس بک نے آپ کی جاسوسی کرتے ہوئے یہاں تک ڈیٹا مھفوظ کر رکھا ہے کہ آپ صبح کتنے بجے اٹھتے ہیں اور رات کو کیا کرتے ہیں کہاںجاتے ہیں ۔ کیا پسند کرتے ہیں اور کس لیول کا مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں ۔ یہ سب اجزا مارکیٹنگ کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ تو جب آپ فارغ اوقات میں فیس بک استعمال کرتے ہیں تو فیس بک درمیان میں اپ کی مرضی کی اشیا دیکھاتا ہے جو کہ آپ کو فوری پسند آتی ہیں اور آپ اس کو لازمی دیکھتے ہیں
اگر آپ کاروبار کرنے جا رہے ہیں تو چند اصول اپنے ذہن میں ضرور رکھیں ۔۔! یہ اصول کسی موٹیوشنل سپیکر کی چکنی چپڑی باتیں نہیں بلکہ تجربے کی بھٹی سے گزر کر آنے والے موتی ہیں ۔۔
سب سے پہلا پوائنٹ تمام انوسٹمنٹ ایک ساتھ لگا دینا بے وقوفی ہے ۔۔ اپنی رقم کا صرف بیس فیصد حصہ انوسٹ کریں اور جتنے چھوٹے لیول سے شروع کر سکتے ہیں کیجئے ۔
مثال کے طور پر اگر آپ کے پاس دس لاکھ ہے تو صرف ایک سے دولاکھ انوسٹ کیجئے ۔ اگر ملک ریاض یا میاں منشا نے کسی کاروبار میں دو ارب روپیہ لگا دیا ہے تو اس نے اپنی ساری جمع پونجی نہیں لگائی ۔ اس نے بیس فیصد یا اس سے بھی کم سے ایک ایڈوانچر کیا ہے اگر چل گیا تو ٹھیک ورنہ اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا آپ اس کی انوسٹمنٹ سے انسپائر ہو کر سب کچھ ایک ساتھ مت لگائیں۔ آہستہ آہستہ ٹھنڈا کر کے کھائیں ۔ ورنہ منہ جلا دے گا
دوسرا ہر حال میں خود انوالو رہیں کبھی بھی کام سی ای او ہائر کر کے اس کے سر پر مت چھوڑیں ۔ آپ کے پیسےسے صرف آپ سنسیئر ہیں نہ کہ کوئی ملازم ۔ ہماری نوجوانوں کی اکثریت یہ سوچتی ہے کہ وہ گھر بیٹھ کر کاروبار کرے گی اور کام کے لئے ملازم رکھے جائیں گے ۔ جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ آپ اگر کاروبار میں انوالو نہیں ہیں تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ ہا ں کچھ عرصے میں آپکا کاروبار ڈوبنے ضرور لگے گا
تیسرا اپنی مارکیٹنگ پر “خرچ ” کریں ۔
مارکیٹنگ ایک بہت مشکل سبجیکٹ ہے جو ہر ایک کو سمجھ میں نہیں آتا ۔ مارکیٹنگ کی دنیا کی تاریخ یہاںمیں ڈسکس نہیں کر سکتا ۔ لیکن یہ فیلڈ ہر روز کے حساب سے بدل رہی ہے ۔ اپ کو اس کے ساتھ چلنا نہیں بھاگنا پڑے گا ۔ کبھی بھی کسی ایسے شخص سے مشورہ مت کریں جس کو کاروبار کا تجربہ نہ ہو (موٹیوشنل سپیکرز سمیت) یا تو آپ کو غلط مشورہ دے گا اور آپ کے پیسے ضائع جائیں گے ۔ یا آپ کو الٹی سیدھی کہانیاں سنا کر جزباتی کر دے گا ۔ اور آپ کچھ عرصے میں جزبات کے ہاتھوں
مارکیٹنگ ایک بہت مشکل سبجیکٹ ہے جو ہر ایک کو سمجھ میں نہیں آتا ۔ مارکیٹنگ کی دنیا کی تاریخ یہاںمیں ڈسکس نہیں کر سکتا ۔ لیکن یہ فیلڈ ہر روز کے حساب سے بدل رہی ہے ۔ اپ کو اس کے ساتھ چلنا نہیں بھاگنا پڑے گا ۔ کبھی بھی کسی ایسے شخص سے مشورہ مت کریں جس کو کاروبار کا تجربہ نہ ہو (موٹیوشنل سپیکرز سمیت) یا تو آپ کو غلط مشورہ دے گا اور آپ کے پیسے ضائع جائیں گے ۔ یا آپ کو الٹی سیدھی کہانیاں سنا کر جزباتی کر دے گا ۔ اور آپ کچھ عرصے میں جزبات کے سہارے بہتے رہیں گے اور جب آپ کو ہوش آئے گا تو آپ اس گہرے سمندر میں ڈوب رہے ہوں گے جہاں آپ کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا ۔
چوتھا اللہ کو اس میں ضرور شامل کریں ۔ ہمارے پروفیسر صآحب نے پاکستان کی غازی گلاس کی فرم کے مینجر سے ملاقات کروائی انہوں نے اپنی تجربات بیان کئے کہ کیسے اللہ کو شامل کر کے انہوں نے اپنا کاروبار بڑھایا ۔ انہوں نے صدقہ اور دعا کی اہمیت بیان کی ۔ صدقہ آپ کے مال کو بڑھاتا ہے ۔ اور آپ کو دلی سکون بھی میسر آتا ہے ۔ اپنے کام میں اللہ کو شامل کریں اور اللہ پر توّٗ کل کو شامل کریں اللہ پر توّکل کرنے والا آسانی سے رسک لے سکتا ہے ۔ اور رسک لینے والا ہی کامیاب ہوتا ہے ۔
اگر آپ کو کاروبار کے سلسلے میں کنسلٹنسی کی ضرورت ہو تو ضرور رابطہ کیجئے ۔ اگر آپ نے آنلائن مارکیٹنگ کروانی ہو تو بھی ضرور رابطہ کیجئے ۔ انشاءاللہ آپ کو تمام ایڈوانس سہولیات مناست قیمت پر دستیاب ہوں گی

والسلام ۔طلحہ زبیر بن ضیا
03117222092