قحط الرجال کا قصور وار موجودہ نظام تعلیم
تحریر طلحہ زبیر بن ضیا
ہمارے بہت سے بھائی نظام تعلیم کی زبوں حالی دیکھ کرکڑھتے رہتے ہیں اور کچھ کو اللہ نے شعور عطا کیا اور وہ اس پر باقائدہ کام بھی کر رہے ہیں ۔ ہم سب چونکہ انفرادی حیثیت میں کام کر رہے ہیں اس لئے اس کا کوئی زیادہ فائدہ نظر نہیں آتا ۔ ہم ایک ڈری ہوئی قوم ہیں جس کو اللہ پر اعتماد بالکل نہیں ہے لیکن ہر مشکل میں جب ہمارے ہاتھ سے سب کچھ نکل جاتا ہے تو ہم اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں ۔ اور اللہ کا کرم ہے کہ اللہ نے کبھی ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔
میری ریسرچ چند ایک ٹاپکس پر رہی ۔ جن میں سپورٹس اول درجے پر ہے اس کے بعد جغرافیہ تاریخ اور مطالعہ پاکستان وغیرہ کے مضامین رہے ۔ ہمارے ہاں کسی نے ان مضامین کو اہمیت ی نہیں دی ۔ ہم نے انہیں صرف رٹا لگا کر پُر کرنے کا سوچا ۔ جبکہ ہم نے جب جب بچوں کو یہ سبجیکٹ پڑھائے نہ صرف انہوں نے انجوائے کیا بلکہ جو طالب علم گریجویشن کر رہے ہیں اکثر وہ بھی ہم سے ڈسکس کرنے ضرور آتے ۔ ہم نے سپورٹس پر ایک بہترین ریسرچ کے ساتھ بچوں کی عمر کے لحاظ سے ان کی سوچ کے مطابق ایک پلان تیار کیا اور چند ایک دوستوں کے ساتھ شئر کیا ۔ جو کہ ہمارے ساتھ مارشل آرٹس کرتے رہے لیکن ہمارے ہاں جو مارشل آرٹس تھوڑے سے بھی سیکھ لے وہ سمجھتا ہے کہ میرے سے بڑا استاد دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں سو میرے ساتھ کام کرنے کو کسی نے ترجیح نہیں دی ۔ نہ ہی ہم نے کسی کی منت سماجت کی ہاں اپنے طور پر اس کو رائنج ضرور کیا ہمارا ایک پیج بلیک ہاک مارشل آرٹس کے نام سے جاری ہے ۔۔ اور اس کے علاوہ ہم چند بچوں کو سکھا بھی رہے ہیں ۔۔۔ اس کے بعد آتے ہیں جیوگرافی کی جانب ۔ ہم نے بچوں کو پڑھایا تو سب سے پہلے ان کی نصابی کتب ختم کروائیں ۔ کیونکہ تاریخ و جغرافیہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ اس کا رٹا مارا جائے یہ بچے کے ساتھ بھی ظلم ہے ۔ چھٹی ساتویں تک بہترین رزلٹ رہا پھر جب نمبروں کی کلاسز جہاں پر نمبر تھوڑے آنے پر والدین سیخ پا ہو جاتے ہیں تو اس موقع پر ہمارے ساری مخنت پر اس فرسودہ نظام تعلیم نے پیٹرول چھڑک کر آگ لگا ڈالی ۔ ہم تو کہتے رہے کہ بیٹا کوئی بات نہیں نمبر کم بھی آ گئے تو کچھ نہیں ہوتا ۔ لیکن گھر معاشرہ ماحول تایا پھوپھی وہی تھے ۔ صرف ہم پاگل تھے ۔ پھر ہم نے سوچا کہ دو چار سال کی محنت ضائع ہو سکتی ہے دس بارہ سال کی نہیں ۔۔ لیکن جو بچے شروع سے پڑھتے آ رہے تھے ان کی تباہی بھی ہمارے سامنے ہوئی اور ہم روک نہیں پائے ۔ ہر قسم کا پراجیکٹ ہر قسم کا طریقہ آزمایا ۔ ایکٹیوٹی بیس کام کیا ہنس کر پڑھایا ۔ شام میں بچے آتے اور ہم کھیلتے گپیں ہانکتے ان کے انٹرسٹ کے مطابق ہم سب کچھ کرتے لیکن جب وہ میٹرک میں آتے تو ان کا سب کچھ بدل جاتا ۔ اور آخر کار ۔ ہم نے نتیجہ یہ نکالا کہ یہ نظام تعلیم ایک “گٹر” ہے ۔ جتنا بھی پانی نکالیں گے باقی جو بچے گا وہ گند ہی ہوگا ۔ کچھ ایک تھے جو اس گند سے بچ گئے ورنہ کوئی نمبروں میں گنجا ہو گیا کوئی گھر والوں کی بھینٹ چڑھ گیا کسی کی پھوپھی کو نمبر پسند نہ آئے تو بورڈنگ سکول چلا گیا ۔۔ کوئی مدرسے میں جنسیت کے ہتھے چڑھنے چلا گیا تو کوئی موٹیویشنل اور جدید ایجوکیشن کے نام پر ان تعلیمی کاروباری آرگنائزیشنز میں اپنا قیمہ کروا بیٹھا ۔ ان سب کا ایک حل تھا ۔ سب کچھ ختم کیا جائے ۔ ہم اس پر کھل کر بولے ۔ انتہائی کھل کر ہر غلط کو غلط کہا اور ایک حل نکالا وہ تھا بچوں کو ساتھ ملاو اور ان کو معاشرے کے خلاف جانے پر مجبور کرو ۔ ان کو تہزیب سیکھاو ان کو حالات سے لڑواو اور ان کو تراشو۔ چند ایک ایسے بچوں پر کام جاری ہے اور اس کا بہر حال کچھ اچھا رزلٹ آنا شروع ہوا ۔ بہر حال ہم نے ہر مشورہ طلب کرنے والے کو ایک مشورہ لازمی دینا شروع کیا ۔ جو بھی ہو کبھی اپنے بچے سکول مت بھیجنا ۔ کبھی اپنے بچے کو مرغی کے ڈربے کی طرح صبح سے دوپہر شام ڈربے مین بند کرنا اور پھر نکال کر دوسرے ڈربے میں مت ڈالنا ۔ ہاں اب اگلا سوال ہو گا کہ کیا کروائیں تو آجائیں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کرنا کیا ہے اور کرنا کیسے ہے ۔ یہ چیزیں آنلائن کم ہی سمجھ میں آتی ہیں اس لئے اس کوہوم سکولنگ کہتے ہیں جو کہ پاکستان میں کافی لوگوں نے شروع کی ہیں لیکن خدشہ وہی ہے جو اقبال نے کہا
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ ۔
سکول کالج یونیورسٹی ۔ آپ کے بچے کی قاتل ہے ۔ بچے بچانے ہیں تو اس کی تربیت کیجئے ۔سب کچھ بیاں کرنا ممکن نہیں لیکن چند ایک مشورے ضرور دے سکتا ہوں کہ ان کی ہوم سکولنگ کیجئے ۔ قدرتی طریقوں سے سیکھائیے ۔ ان کو کیمپنگ کروئیں ۔ کیمپنگ سے مراد کسی ہوٹل میں رہنا نہیں کسی قدرتی ماحول میں خیمے لگاکر رہیں ۔۔خدا کی قدرت کے قریب یہ آپ کی پانچوں حسوں کے لئے مفید ہوگا سننا، دیکھنا، محسوس کرنا، سونگھنا،چکھنا ان سب کے لئے سب سے بہترین ایکسرسائز یہی ہے ۔ اس کے ساتھ ان کو گھر پر پڑھائیں گے تو اس کی چند شرائط ہوں گی ۔ پہلے ماں اور باپ کی تربیت ہوگی جو کہ بچوں کی تربیت کریں گے یہ بات سنتے ہیں ابا حضور کا کہنا ہوتا ہے کہ میں باپ ہوں میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ۔ جبکہ آپ کے بچے آپ سے زیادہ جانتے ہیں اور آپ کی یہ انا پرستی آپ کے بچے کو ہی نہیں ڈبوتی بلکہ ہمارے معاشرے کے ایک اچھے فرد کو برا بنا دیتی ہے ۔ ہم نے بچوں کی تربیت کا سوچا ہی نہیں اور پھر ہم نے سرکاری دفاتر میں جا کریہ لازمی کہنا ہوتا ہے کہ سب کچھ بگڑا ہوا ہے ۔۔ یہ قحط الرجال ہے ۔ جو ہمارے ہاں منہ کھولے ہماری نسل کو نگل رہا ہے اور ہماری ماں باپ اپنے ماں باپ ہونے کے زعم میں خود کو عقل کل سمجھے بیٹھے ہیں اور ان جہلا کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے ۔ فقط مار ۔۔۔!
ہم ہر جگہ پر جا کر ایک بات ضرور کہتے ہیں
لو گ آساں سمجھتے ہیں “ابا”ہونا ۔
زعم سے باہر نکلیے آپ کا بچہ آپ کی ذاتی جاگیر نہیں قوم کا ایک فرد ہے ۔ جس کو خراب کرنے کے ذمہ دار صرف آپ اور صرف آپ ہیں ۔اور اس کو بچا بھی صرف آپ ہی سکتے ہیں اپنی زمہ داری پہچانئے تاکہ مزید ارتغل صلاح الدین اور محمد بن قاسم پیدا ہو سکیں ۔













