لاہور پاکستان تحریک انصاف کی رہنما مسرت جمشید چیمہ نے سوال اٹھایا ہے کہ پورے پاکستان میں ٹیسٹ 5 لاکھ ہوئے تو پھر لاہور میں 6لاکھ 70 ہزار کورونا کے مریض کیسے ہو گئے؟۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی سمری میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ر لاہور میں 6لاکھ 70 ہزار کورونا کے مریض ہیں۔
اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسرت جمشید چیمہ کا کہنا ہے کہ کورونا کے کنفرم کیسز کی تعداد اندازوں پر مبنی نہیں ہو سکتی۔اس کا ایک سائنسی طریقہ ہے کہ صرف وہی کورونا کا مریض ہو گا جس کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہو۔صرف اندازوں اور بیانات سے نہیں کہا جا سکتا کہ کورونا کے کتنے مریض ہیں۔مسرت جمشید چیمہ نے مزید کہا کہ پورے پاکستان میں کورونا ٹیسٹ 5 لاکھ ہوئے ہیں جب کہ پنجاب میں ڈھائی لاکھ کے قریب کورونا ٹیسٹ کیے گئے پھر لاہور 6لاکھ 70 ہزار کورونا مریض کیسے ہو گئے۔

۔واضح رہے کہ محکمہ پرائمری ہیلتھ پنجاب نے 15 مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سمری ارسال کی تھی، جس میں حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ لاہور میں کورونا مریضوں کی تعداد کا اندازہ 6 لاکھ 70 ہزار ہے۔ جبکہ لاہور کا کوئی بھی قصبہ اور رہائشی علاقہ کورونا وائرس سے محفوظ نہیں۔ رینڈم سیمپلنگ میں معلوم ہوا ہے کہ لاہور کا کوئی رہائشی علاقہ کورونا سے محفوظ نہیں ہے۔
رینڈم سیمپلنگ لاہور کے ہاٹ سپاٹ، رہائشی، دفاترز اور عام جگہوں پر کام کرنے والے لوگوں میں کی گئی، اس دوران اسمارٹ سیمپلنگ میں 6.1 فیصد اور سیمپلنگ میں 5.1 فیصد کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ بعض علاقوں میں 14 فیصد سے بھی زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لاہور میں کورونا وائرس خطرناک حد تک پھیل چکا ہے۔