13 شوال المکرم یوم ولادت با سعادت حضرت امام بخاری رحمتہ اللّه علیہ

تحریر محمد عمر فاروق

صحیح بخاری شریف کے مصنف أمير المؤمنين في الحديث امام ابو عبد الله محمد بن اسمٰعیل بخاری قدس سرہ العزیز کی ولادت جمعہ کو 13 شوال المکرم 194ھ (19 جولائی 810 ء) کو بخارا شہر میں بعد از نمازِ جمعہ کو ہوئی۔ امام بخاری کا نام محمد اور کنیت ابو عبد الله ہے۔ آپ محدث، فقیه، مصنف اور مجتہد تھے۔

آپ کے والد حضرت اسمٰعیل بن ابراہیم بن ابراہیم بن مغیرہ علیہ الرحمه بھی ایک محدث تھے اور امام مالک علیہ الرحمة الرضوان کے شاگرد تھے۔

#امام_بخاری_رضی_الله_عنہ کے اساتذہ کی تعداد ایک ہزار اسی (1080) بتائی جاتی ہے۔ ان اساتذہ میں امام احمد بن حنبل، امام علی بن المدینی، امام یحییٰ بن معین، امام اسحاق بن راہویہ، امام محمد بن یوسف، امام ابراہیم الاشعث اور امام قتیبہ بن سعید رضی الله عنہم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

#امامِ_اہلسنت_امام_احمد_بن_حنبل رحمه الله فرماتے ہیں: “ما اخرجت خراسان مثل، محمد بن اسماعیل” سر زمین خراسان نے محمد بن اسماعیل بخاری جیسا عالم پیدا نہیں کیا۔” ( ایضاً ، ص: ۴۴)

#شیخ_الاسلام_امام_ابن_حجر_عسقلانی رحمه الله لکھتے ہیں: “امام بخاری کی اس طرح مدح و ستائش کی گئی کہ قرطاس و قلم ختم ہو سکتے ہیں لیکن ان کے مناقب ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ وہ بحر ہے جو اپنا ساحل نہیں رکھتا۔” (مقدمہ فتح الباری شرح صحیح البخاری: ۴٨۵ )

“الجامع المسند الصحيح المختصر من أُمور رسول الله صلى الله عليه وسلّم وسننه وأيامه” المعروف صحیح البخاری کے علاوہ امام بخاری رحمه الله نے متعدد کتب تحریر کیں مثلاً:

❤۔ التاریخ الکبیر
❤۔ التاریخ الصغیر
❤۔ الادب المفرد
❤۔ الجامع الکبیر
❤۔ التفسیر الکبیر
❤۔ جزء رفع الیدین
❤۔ کتاب الضعفاء
❤۔ جزء القراءۃ
❤۔ کتاب بر الوالدین

امام بخاری علیہ الرحمه کا وصال 61 سال 11 ماہ 18 دن کی عمر مبارک میں جمعہ کو یکم شوال المکرم 256 ھ (یکم ستمبر 870 ء) کو بعد نمازِ عشاء خرتنگ میں ہوا جو سمرقند شہر ( ازبکستان 🇺🇿 ) سے دس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔💞