اولین اسلامی علمبردار رضاعی بھائی تاجدار کائنات۔سیدنا ابوعمارہ سید نا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کے نام تاریخ کی منفرد کرنیں۔۔۔سٹار نیوزکے ماتھے کا جھومر تحریر حاجی غلام شبیر منہاس
،*سید الشھداء*
بنو ہاشم کے سردار عبدالمطلب کا یہ بیٹا دنیا جس کا جناب امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتی ھے۔ شکار اور سیروسیاحت کا طویل سفر طے کرکے جب مکہ میں داخل ہوا تو کوہ صفا کے قریب ایک لونڈی نے اس کا راستہ روک لیا اور بتایا کہ ابو عمارہ، کاش تم اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حال دیکھتے۔ وہ خانہ کعبہ میں وعظ فرما رھے تھے کہ ابوجہل نے انھیں گالیاں دیں اور برا بھلا کہا۔
ہاشمی خاندان کے اس نوجوان نے جب یہ الفاظ سنے تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے اپنے گھوڑے کا رخ اس سمت موڑ دیا جہاں ریئس مکہ ابوجہل بیٹھا تھا۔ حاضرین کو ایک سمت دھکیلتا یہ نوجوان ابوجہل کے سر پہ جا پہنچا اور اس کے سر پہ کمان مارتے ہوئے کہا ” کیا تو سمجھتا ھے کہ محمد بن عبداللہ بے سہارا ھے؟ کیا تو نے سمجھ لیا ھے کہ بنو ہاشم سارے کے سارے مر گئے ہیں؟ اس کے بعد اگر تم نے اس کی طرف دیکھا بھی تو میں تمہاری آنکھیں نکال دوں گا۔۔یہ کہہ کے حمزہ بن عبدالمطلب سیدھے اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جو اس وقت دار ارقم میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ سارا واقعہ سنا دیا کہ کس طرح میں نے آپ کا بدلہ چکایا ھے۔اور فرمایا بھتیجے خوش ہو جا، تیرا بدلہ میں نے لے لیا ھے۔ اس پہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عم محترم میں ایسی باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔ ہاں میں اس وقت حد سے زیادہ خوش ہوں گا جب آپ اس دین میں داخل ھو جایئں گے جس کو لے کر میں آیا ہوں۔خدا کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان الفاظ میں ایسی تاثیر تھی کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اسلام قبول کرلیا۔
آپ کا نام حمزہ اور کنیت ابوعمارہ تھی۔ آپ بنوہاشم کے سردار عبد المطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔ عمر میں آپ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف دوسال بڑے تھے۔ ننھیال کی طرف سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ بڑا قریبی رشتہ رکھتے تھے۔ ان کی والدہ ہالہ بنت وہب تھیں جو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رض کی چچیری بہن تھیں۔ اس کے علاوہ آپ، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے۔ کیونکہ دونوں نے حضرت ثوبیہ رض کا دودھ پیا تھا۔ جو کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابولہب کی کنیز تھی۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے نبوت کے تیرہویں سال ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کیساتھ بھائی چارہ کروا دیا۔
ہجرت کے فوری بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ کی ایک جماعت کو کفار کے مقابلے کیلئے روانہ فرمایا۔ میدان جنگ میں مسلمان اور کفار باقاعدہ صف بندی کرچکے تھے۔ جب قبیلہ بنو جہینہ کے سردار ابن عمرو نے طرفین میں بیچ بچاو کرادیا۔ اس مہم میں اسلامی تاریخ میں پہلی بار جس کو علم عطا کیا گیا وہ جناب امیر حمزہ رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
2 ہجری میں بدر کے میدان میں جب کفار اور ایل اسلام کا آمنا سامنا ہوا تو صف آرائی کے بعد قریش کا سردار عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور بیٹا ولید میدان جنگ میں نکلے۔ یہ تینوں فنون حرب کے ماھر مانے جاتے تھے۔ ان کے مقابلہ پہ انصاری نوجوان میدان میں آئے تو قریش نے اعتراض کیا کہ ھمارے مقابلہ پہ قریش کے جوان ہی آیئں۔ تب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر سے ابتداء فرمائی اور حکم دیا کہ حمزہ بن عبد المطلب ، ابوعبیدہ بن حارث بن عبد المطلب اور علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب مقابلہ پہ جایئں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی وار میں عتبہ کا کام تمام کردیا۔ اس روز آپ نے اپنی دستار میں شتر مرغ کی کلغی لگا رکھی تھی اور جس طرف جاتے کفار کو مولی گاجر کیطرح کاٹتے جاتے۔ جنگ کے بعد کفار جب شکست کھا کر بھاگے تو ایک دوسرے سے پوچھتے رھے کہ یہ کلغی والا کون تھا؟ کسی نے بتایا یہ حمزہ تھے۔ اس پر وہ بولے ، ھمارے نوجوانوں کو اس کی تلوار ایسے کھا گئی جیسے آگ گھاس کو کھا جاتی ھے۔
3 ہجری میں احد کے مقام پر معرکہ کفر واسلام میں آپ رضی اللہ عنہ کو شہادت ملی۔ آپ کی لاش کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا۔ جگر کے ٹکڑے کیئے گئے کان ناک کاٹ دیئے گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے بعد شھدائے احد کی تجہیز و تکفین کا اہتمام کیا جب شاہ کونین صلی اللہ علیہ وسلم اپنے محبوب چچا کی لاش کے قریب آئے تو آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ھوگئے۔ حضرت صفیہ رض جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن اور حضرت عبداللہ بن عوام رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ انھیں اپنے بھائی کا آخری دیدار کرایا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھوپھی جان لاش کی بے حرمتی کی گئی ھے آپ اس دردناک حالت میں انھیں دیکھ کے صبر نہ کر سکیں گی۔ انھوں نے فرمایا میرے بھتیجے میں نہ رووں گی نہ پیٹوں گی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی۔ 15 شوال 3 ہجری کے دن اس عظیم انسان اور قیامت تک کے آنے والے شھداء کے سردار کے کرچی کرچی جسم کے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے احد کے قبرستان میں دفن کردیا گیا۔۔
اللہ ان کے درجات کو مزید بلند و برتر فرمائے اور ھم سب کو انہی کے نقش قدم پہ چلنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے۔۔امین












