عراقی صدرصدام حسین۔ اور دنیا کی کرونائی کیفیت۔۔۔غلام شبیر منہاس کے حقیقت پسند خیالات۔۔حاجی غلام شبیر منہاس کے قلم سے ۔سٹار نیوز پر

ڈاکٹر الابشیر عراق کے مشہور فزیشن اور سرجن تھے۔ وہ نہ صرف بغداد یونیورسٹی کے پلاسٹک سرجری اور ری کنٹریکٹر سرجری کے شعبہ کے سربراہ رھے بلکہ20 سال تک صدام حسین اورانکے خاندان کے زاتی معالج بھی رھے۔اور ان 20 برسوں میں انھیں صدام فیملی کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ سقوط بغداد کے بعد انھوں نے صدام حسین پر ایک شہرہ آفاق کتاب بھی لکھی تھی۔ جس میں اس نے کئی ایک انکشافات کیئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ صدام حسین اپنی مونچھوں کے معاملہ میں بہت حساس تھا۔ اور ان کا خصوصی خیال رکھتا تھا۔ وہ ان کو مخصوص کلر کرتا مگر اس کی خواہش ہوتی کہ لوگ اس کی مونچھوں کو قدرتی سمجھیں۔ اس نے لکھا کہ ایک بار صدام حسین اپنے بیٹے اودے حسین سے ناراض ھوگیا۔ اس نے اودے کی ساری کاریں ایک جگہ جمع کرایئں اور انھیں آگ لگوا دی جب کروڑوں ڈالرز کی یہ گاڑیاں جل رہی تھیں تو صدام حسین خود کرسی پہ بیٹھ کے سگار پیتے رھے۔ صدام حسین عوام میں اپنے امیج کے بارے میں بھی بہت حساس تھے۔ انھوں نے پورے ملک میں اپنے پوسٹر، پورٹریٹ ، اپنی پینٹنگز اور مجسمے لگا رکھے تھے۔ عراق کی کرنسی تک پہ صدام حسین کی تصویر تھی۔ آپ جس سکول کالج یا ایئرپورٹ پہ جاتے ، جس سڑک شاپنگ سنٹر یا بازار میں جاتے آپکو ھر طرف صدام حسین کی تصاویر مجسمے اور پورٹریٹس نظر آتے تھے۔ اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ عراق کا کوئی بھی شہری صدام حسین کی نظروں سے اوجھل نہیں ھے۔
کوہن کوہلن صدام حسین کا سرکاری سوانح نگار تھا۔ یہ بھی بڑا عرصہ صدام حسین کے قریب رھا۔ اس نے بھی صدام حسین کے بارے میں کچھ اسی طرح کی باتیں تحریر کیں۔ وہ لکھتا ھے کہ صدام حسین کی خوش لباسی دنیا بھر میں مشہور تھی۔ ان کے سوٹ لندن کے مشہور ٹیلر سیتے تھے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی سوٹ صدام حسین کے پاس تھے۔ ان کی وارڈ روپ میں 300 قیمتی ترین سوٹ، اڑھائی ھزار جوتے ہوتے تھے۔ ان کے 48 محلات تھے جن کی دیواریں سنگ مرمر کی تھیں۔ باتھ رومز کی ٹونٹیوں اور دروازوں کے ہینڈلز پر سونے کا پانی چڑھا تھا اور محلات کے اندر آبشاریں گرتی تھیں۔ ان کی سرکاری رھائش گاہوں کی تعداد بھی 70 سے 80 کے درمیان تھی۔ اور وہ بھی اتنی ہی شاہانہ اور افسانوی تھیں۔ صدام حسین کی تین بیویاں تھیں۔ وہ اور انکی اولاد بھی اسی شاہانہ طرز زندگی میں رہتے تھے۔
اور پھر زندگی میں ایک ایسا موڑ بھی آیا کہ صدام حسین ایک ویرانے کے مین ہول سے گرفتار ہوا۔ اس کی داڑھی اتنی بڑھی ہوئی تھی اور جسم اتنا گندا ہو چکا تھا کہ اس کو پہچاننا مشکل ہورھا تھا۔ اسکو پکڑ کر 15 فٹ کے ایک سیل میں دو برس تک بند کردیا گیا۔ وہ اس سیل کو خود صاف کرتا ، باتھ روم تک خود دھوتا۔ اس بادشاہ سلامت کو کپڑوں کے دوجوڑے ایک سلیپر اور ایک عربی چوغہ دیا گیا۔ 13 دسمبر 2005ء کو اسی صدام حسین نے عدالت سے استدعا کی کہ دو برس ھونے کو ہیں مجھے سلیپروں کا صرف ایک جوڑا دیا گیا ھے۔ مجھے نئے جوتے دلوائے جایئں۔ عدالت نے وکیل سے پوچھا تو وکیل نے نیا جوڑا دینے کی یقین دھانی کروائی۔ صدام حسین نے مزید بتایا کہ مجھے کپڑے دھونے اور سگریٹ پینے تک کی اجازت نہیں ھے۔ یہ اسی صدام حسین اور اس کی حسین دنیا کا دوسرا رخ تھا۔ جس میں ھم سب کیلئے بے شمار اسباق اور عبرت کا وسیع سامان موجود ھے۔
آج ایک وبائی مرض ” کورونا” نے پوری دنیا کا نظام ھلا کے رکھ دیا ھے۔ بادشاہ اپنے محلات میں چھپے بیٹھے ہیں۔ سلطنتوں کے نظام درھم برھم ھوچکے ہیں۔ دنیا بھر کی فلائی کمپنیوں نے اپنے دیوئیکل طیاروں کو گراونڈ کر دیا ھے۔ ریلوے کا پہیہ تھم چکا ھے۔ فیکٹریوں کی چمنیاں دھواں اگلنا بھول گئی ہیں۔ اور پوری دنیا رک کر اس وائریس کی تباہی و بربادی کو بے بسی و لاچارگی سے دیکھ رہی ھے۔
میرا خیال ھے یہی دنیا ھے اور یہی اس کی بے ثباتی، ھم لوگ جو اپنی فرعونییت میں حدوں سے گزر جانے والی فطرت رکھتے ہیں ھمیں قدرت نے ایک چھوٹا سا جھٹکا دے کر سمجھانے کی کوشش کی ھے کہ دینا کا یہ سارا نظام انتہائی ناقص اور ناپائیدار ھے۔ھم ھر لمحہ اس زات کے سامنے بے بسی و عاجزی سے حاضری دیتے رھا کریں۔ یہی ھماری معراج ھے اور یہی حق بندگی۔
کورونا تو اب متعارف ہوا ھے تاہم اگر ھم اس دنیا اور اس میں رہنے والے باسیوں کے شب و روز کا جائزہ لیں تو ھم ہولمحہ کسی نہ کسی کورونا کی زد میں ہیں۔ آزمائیشیں ھماری منتظر رہتی ہیں۔ وہ نہیں دیکھتی کہ ان کے سامنے صدام حسین ھے یا گلی محلے کا کوئی مزدور۔۔سو آزمائش کی اس گھڑی میں قوم کو متحد ہو کر جس قدر ممکن ھو اس سے نبرد آزما ہونے والوں کے دست و بازو بنیں۔اور اپنے مثبت کردار سے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے رھیں۔ قوموں کی تاریخوں میں امتحان آتے رہتے ہیں۔ مایوسی کو قریب نہ پھٹکنے دیں۔ اور اللہ کے حضور اپنی پیشانیوں کو جھکا کر اس آزمائش سے چھٹکارا پانے کی تگ ودو کریں۔ باقی یہ دنیا جائے عبرت ھے۔ اس میں معافی صدام حسین جیسے شخص کو بھی نہیں ھے۔ ھم سب نے اپنے اپنے حصے کا حساب تو بحرحال دینا ہی ھے۔ کیونکہ یہ دنیا ایک مستقل کورونا ھے۔ اور اس میں ھمیشہ سے موجود دنیا کا سکون تباہ اور امن تہہ وبالا کرنے والے چھوٹے چھوٹے کورونا وائرس بھی اس موجودہ کورونا کے سامنے بے بس نظر آرھے ہیں۔ امریکہ، روس اور برطانیہ جیسے ممالک جو دنیا کی قسمت کے فیصلے کرتے تھے۔ وہ بھی اس وائریس کے سامنے مکمل طور پہ بے بس ہیں اور شاید یہی اس کورونا کا اصل سبق بھی ھے۔ اور دنیا کی طاقت کا تماشہ بھی۔
باقی ھم بحیثیت قوم انشاء اللہ اس امتحان سے محض اللہ کی توفیق سے سرخرو ھو کر نکلیں گے۔ بس رجوع الااللہ اور حفاظتی تدابیر کو اپنا ہتھیار بنا لیں۔

والسلام دعاوں کا طلبگار
حاجی غلام شبیر منہاس