پنشن۔
(بکھری سوچیں )
کالم نگار غلام شبیر منہاس
اس کا نام نایئک آصف ھے۔ یہ شہزادوں جیسا لڑکا تھا۔ لمبا سرو نما قد، سمارٹ باڈی گوری چٹی رنگت اور نوخیز جوانی کے ساتھ چہرے پہ خوبصورت سنت رسول سجا رکھی تھی۔ یہ والی بال کا ایک مایہ ناز پلیئر تھا اور اسکو آصف لبرو کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا تھا۔ کھیل کا میدان ہو یا تربیتی امور۔۔یہ ھمیشہ پہلی صف میں نظر آتا تھا۔۔ بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ یہ شریف النفس نوجوان بٹالین کے باقی لوگوں کیلئے ایک رول ماڈل تھا۔
اکتوبر 2018ء میں یہ وزیرستان آپریشن کا حصہ بنا۔اور جنوری 2019ء میں ایک جھڑپ میں شدید زخمی ھوا۔ اس کو بذریعہ ہیلی کاپٹر بنوں کیلئے ریسکیو کیا گیا مگر اس کی جان کو شدید خطرہ لاحق تھا۔ سو اگلے دن اس کو وھاں سے ایک بار پھر بذریعہ ہیلی کاپٹر پشاور ریفر کردیا گیا۔ وھاں یہ لڑکا دو ھفتے زندگی و موت کی کشمکش میں رھا اور بالآخر ڈاکٹرز کو اس کی ٹانگ گھٹنے سے نیچے کاٹنا پڑی۔ کچھ دن بعد ایک بار پھر اسکی اسی ٹانگ کو گھٹنے کے اوپر سے کاٹنا پڑا۔ اب وہ زندگی بھر کیلئے معذور ھوگیا تھا اور مزید سروس جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔مگر یہاں ایک قانونی مسلہ بھی درپیش تھا۔۔اس کی مجموعی سروس ابھی اتنی نہیں تھی کہ اس کا میڈیکل بورڈ ھو جائے۔ سو کچھ عرصہ علاج چلنے کے بعد اس شہزادے کو ۔۔جو 17 سال کی بھری جوانی میں آیا تھا 26 سال کی جوانی میں آدھا کاٹ کر اورایک سپاہی کی پنشن دیکر سروس سے ڈسچارج کردیا گیا۔ اس کے تین چھوٹے بچے تھے جو ابتدائی کلاسسز میں تھے۔ بوڑھے والدین تھے جو اسی کے ساتھ رہتے۔ گو پنشن سے گزر اوقات ممکن تو نہ تھی مگر اس کی زوجہ محترمہ نے اس مشکل وقت میں فیملی کیلئے قربانی دی اور گھر میں سلائی کا کام شروع کردیا۔ آج سے دوماہ پہلے جب میری اس سے آخری بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ کھینچ تان کے مہینہ پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر حالیہ مہنگائی کی لہر کی وجہ سے ھرماہ دو سے تین ھزار کے مقروض ہوجاتے ہیں۔لیکن بجٹ آرھا ھے امید ھے یہ دو سے تین ھزار والا معاملہ حل ھو جائے گا۔ وہ پریشان تھا کہ بیوی پہ بوجھ بہت بڑھ گیا ھے۔ وہ تین بچوں کو سنبھالتی ھے۔ میری معذوری میں مددگار ھوتی ھے۔ بوڑھے والدین کا خیال رکھتی ھے۔گھر کے سارے کام کاج اور ساتھ میں سلائی کا اضافی کام کرتی ھے۔ بس زیادہ نہیں تو اس بجٹ میں اتنا ھو جائے کہ اس کو سلائی والا اضافی کام نہ کرنا پڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاریئن محترم۔ باتیں کرنا بہت آسان ھے۔ ملازمین پہ تبصرہ کرنا بھی کوئی بڑی بات نہیں۔ مگر آپکو اندازہ نہیں کہ لوگ کس کرب میں ہیں۔ آپ سب کی پنشن نہ بڑھایئں۔ اس وقت ملک کرائسیس میں ھے۔۔بلکہ پچھلے 72 سال سے کرائسیس میں ھے۔ کوئی بات نہیں۔ ھم سے قربانی لیں۔ ھم اسی پنشن اور اس تنخواہ میں کام کریں گے۔ مگر وہ بیوہ جس کا واحد سہارا وہ خاوند تھا جو قبر میں اتر گیا۔۔وہ شہید جس کی فیملی کی واحد آس یہ پنشن ھے۔ اور وہ معذور جو زندگی بھر کیلئے چارپائی کے ساتھ آلگا ھو اس سے پوچھیں کہ ان پہ کیا گزری ھے۔ آپ اس نہ بڑھائے گئے ھزار دوھزار کی قدروقیمت ان سے پوچھیں۔ المیہ دیکھیں چار چار سو کنال کے گھروں میں رہنے والے۔۔۔وہ اشرافیہ جن کے کتوں کیلئے بھی دس دس ملازم اور چار چار لینڈ کروزر کھڑی ہیں وہ بھی اس ملک کیلئے ایک بیوہ۔۔ایک معذور اور ایک شہید سے قربانی مانگ رھے ہیں۔اور حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمایئں کہ کچھ لوگ محض پارٹی وابستگی کی وجہ سے اس کو قابل تحسین قرار دے رھے ہیں۔
پنشن یا تنخواھیں بڑھوانا کبھی کوئی مسلہ نہیں رھا۔۔ اور اداروں نے جب چاھا جتنا چاھا کروا لیا۔ مگر شومئی قسمت کہ یہ موجودہ ڈھول جو ان کے گلے پڑ گیا ھے اس سے اب جان نہیں چوٹ رہی۔۔یہ لوگ پیسے دیکے بھی جان چھڑوانا چاہ رھے ہیں۔۔مگر اب یہ گلے کی وہ ھڈی بن گئی ھے جس کو نہ نگلا جاسکتا ھے اور نہ اگلا جاسکتا ھے۔۔سو۔۔میری زاتی رائے تو یہ ھے کہ بیواوں، شہداء اور معذوروں سے اس بجٹ کے بعد ملنے والی بددعاوں کا انتظار ہی ان کے پاس آخری آپشن رہ گیا ھے۔ شاید اس کمبل سے اس طرح جان چھوٹتی ھو۔۔اور یہ آپشن انھوں نے بڑی خوبصورتی سے استعمال میں لایا ھے۔۔ دیکھئے۔۔کیا ہوتا ھے۔










