آج آنگلش ٹیچرز یونین پنجاب کے سر پرست اعلی افتخار احمد ساقی و ضلع لاہور کے صدر محمد ازور بھٹی۔امتیازشیخ و دیگررہنماوں بے نے سالانہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے حساب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھانا ایک سنگین قسم کی نا انصافی اور ملازمین کے معاشی قتل کے مترادف ہے ملازمین کے ساتھ سوتیلی ہی نہیں بلکہ قاتل ماں جیسا سلوک کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس ملک کو ریاست مدینہ کا محض نام دینا بھی اسلام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے اس ملک میں کئی قانون چلتے ہیں ایک اسمبلی والوں کا دوسرا سیکیرٹریٹ ملازمین کا تیسرا خلائی وفضائی مخلوق کا کہ ان کی تنخواہوں میں ہر مہینے از خود ہی بلا مطالبہ ہی اضافہ کر دیا جاتا ہے
اور باقی ملازمین پر کورونا اور قرض ادائیگی کا بہانہ بنا کر ان ملازمین کے غریب بچوں کے پیٹوں پر کلہاڑا چلایا جاتا ہے یہ تبدیلی نہیں بلکہ حکومت کی بے حسی اور ملازمین کے خلاف صریح انتقامی کارروائی ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا وہ ظلم عظیم ہے کہ جس کی مثال پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی ہم حکومت کے اس ظالمانہ، بہیمانہ، احمقانہ اور غیر منصفانہ اقدام کی پر زور مخالفت کرتے ہیں اور حکومتی پارٹی کو تحریک بے انصاف کا نام دیتے ہیں اور حکومت کا موجودہ بجٹ مسترد کرتے ہیں اور جلد مظاہرے کا اعلان کرتے ہیں
وہ آج رات پریس سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کال پنجاب کے بجٹ آنے سے پہلے جلد دی جاے گی ہمیں اپنے حق پر لڑنا اور مرنا آتا ہے
لاہور۔سٹار نیوز۔انگلش ٹیچرزیونین نے بجٹ مستردکردیا۔افتخار۔ازور بھٹی
503












