پہلے ماسک اور سینیٹائزر بلیک کیا.
پھر کلوروکوئین ٹیبلٹ کی ڈبی 3000 کی ہوئی.
پھر سنامکی 200 روپے سے 2400 روپے کلو ہوئی.
پھر ایک انجکشن بارے پتا چلا کہ کورونا کےلیے مفید ہے تو اس کی قیمت 3 سے 6 لاکھ پہ پہنچ گئی.
پھر پلازمہ جو مفت ڈونیٹ کیا جاتا ہے اسے لاکھوں روپے میں بیچا جانے لگا.
پھر پتہ چلا کہ پرائیویٹ سکولز کو N95 ماسک اور ٹمپریچر گن لینا لازم ہے تو 800 والی گن مارکیٹ میں 22000 روپے میں بکنے لگی.
کبھی آٹا اور چینی کی زخیرہ اندوزی تو کبھی پٹرول بلیک.
کبھی کوئی بے ایمانی تو کبھی کوئی بے ایمانی.

اسلام کے ہم ٹھیکیدار
کفر اور دائرہ اسلام سے خارجیت کے فتوے ہم دینے والے
اسلام کے نام پر لوگوں کو تکالیف ہم دینے والے
اور مذکورہ بالا حرکتیں بھی ہماری.
اللہ کے عذاب کو سامنے دیکھ کر بھی ہم بے ایمانی اور بے غیرتی سے باز نہیں آرہے.
اللہ کے ساتھ کھلی جنگ کرنیوالی (نعوذ باللہ) اس قوم سے اب اللہ ہی پوچھے گا.
اخلاقیات اور اعلیٰ اقدار کا بھاشن دینے والے پاکستانیو خدا کا خوف کرو اور انسان بن جاؤ.