جھنگ، اٹھارہ ہزاری، شورکوٹ، گڑھ موڑ، سمیت ضلع بھر کے روڈ ٹوٹ پھوٹ کے شکار، ضلع بھر سے نو منتخب قومی و صوبائی اراکین اسمبلی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان،
تفصیلات کے مطابق، ضلع جھنگ کی محرومیاں ختم ہونے کو تیار نہیں، ضلع جھنگ پسماندہ ترین ضلع ہونے کے ساتھ ساتھ ہر دور میں نومنتخب اراکین کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، سب سے بڑی بےحسی یہ ہے کہ جھنگ شہر ، اٹھارہ ہزاری، شورکوٹ، گڑھ مہاراجہ، گڑھ موڑ، سمیت پورے ضلع کے مین روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، بارش کے بعد روڈ تالاب کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں عام آدمی کا گزرنا محال ہو جاتا ہے، گاڑیاں ناکارہ ہوتی جا رہی ہیں لیکن جھنگ کی بدقسمتی ہے کہ
وفاقی وزیر، صوبائی وزیر، ہونے کے باوجود اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے
کہ جھنگ ترقی کی جانب گامزن ہونا تو دور کی بات ہے روڈ کی مرمت تک نا ہوسکی،
متعدد بار عوام کی جانب سے احتجاج کیے گئے، حکام بالا کے نوٹس میں یہ بات لائی گئی پر ان کے کانوں پر جوں تک نا رینگ سکی،
دوسری جانب جھنگ کا حصہ رہنے والے قریبی اضلاع نے خوب ترقی کی پر بدقسمت جھنگ ترقی نا کر سکا،
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی روڈ کے ٹوٹنے پر طنز و مزاح سے بھرپور احتجاج جاری ہے
جبکہ اپوزیشن بھی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
خصوصی رپورٹ محمدعمرفاروق سٹاف رپورٹر نیوز جھنگ













