آب حیات کی قدر کیجئے

تحریر، محمد توصیف خالد

زندگی کو باقی رکھنے کے لیے اہم ترین ضرورت” پانی” ہے۔ ہر زندہ چیز کی تخلیق میں پانی کا بڑا عمل دخل ہے۔ “اور ہم نے ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ ” (الانبیاء 30) پانی اللہ تعالی کی خاص نعمت یے۔ ہمارے جسم کا تقریبا ساٹھ فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ پانی انسان کے گردوں کی صفائ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ایک بالغ انسان کے لیے تقریبا دس گلاس پانی پینا ضروری ہے۔ کام کی مشقت سے تھکا ماندہ شخص کے جب حلق میں پانی پہنچتا ہے تو انگ انگ تشکر آمیز کلمات پکارنے لگتا ہے۔ پنجاب کے اکثر علاقوں میں چونکہ صاف شفاف پانی بآسانی میسر ہے اسی لیے زیادہ پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، مگر کراچی ، تھر پار کر اور دیگر علاقوں کو پانی کی قلت کی وجہ سے نہایت ہی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گرمیوں اور خصوصا روزوں میں افطاری کے وقت سب سے پہلے جس چیز کی طلب زیادہ ہوتی ہے وہ” پانی” ہے۔ رگوں میں اترتا ہوا ، دل کو ٹھنڈک پہنچاتا ہوا، جسم کو تازگی و فرحت بخشتا ہوا پانی کسی نعمت سے کم نہیں۔ زیادہ ٹھنڈا پانی فعال جسم کے لیے انتہائ مضر ثابت ہوسکتا یے، اسی لیے تازہ پانی کا استعمال بہت مفید ہے۔

پانی کی قدر کیجیے۔ پانی قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ کسی بھی شے کے استعمال میں میانہ روی اور اعتدال بہت ضروری یے وگرنہ بے اعتدالی سے قیمتی متاع کے ضیاع کا خدشہ ہو سکتا یے۔ ہمیں پانی کی قدر کرنی چاہیے۔ نعمتوں کا چھن جانا اکثر ناقدری ہی کی وجہ سے ہوتا یے۔ فضول اور لایعنی استعمال سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔