اگر کورونا نا آتا تو۔۔۔

{~نفیر قلم~ }

کالم نگار محمد راحیل معاویہ

گذشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئی ایم ایف سے مستعار لیے گئے اکنامک سپیشلسٹ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے تیار کردہ بجٹ کو پڑھنے کا اعزاز حماد اظہر نے حاصل کیا۔3437 ارب روپے کے تاریخی خسارے کا بجٹ پیش کیا گیا۔
اس پر اپوزیشن کی طرف سے وہی ردعمل کا اظہار کیا گیا جو گذشتہ ادوار میں دیکھنے کو ملتا تھا۔ گویا کہ ہر سال کا بجٹ وہ کوئی بھی حکومت پیش کرے اپوزیشن نے رٹے رٹائے جملے دھرانے ہوتے ہیں’ اس بجٹ میں عوام سے دشمنی کی گئی ہے’ یہ غریب دشمن بجٹ ہے وغیرہ وغیرہ ‘
اس سال بھی اپوزیشن کی طرف سے اسی طرح کے ردعمل کا اظہار کیا گیا ۔وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی کی تنخواہوں میں تحریک انصاف کی حکومت نے اضافہ نا کرنے کا فیصلہ کیا ‘ جس پر اپوزیشن نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا’ جبکہ سندھ اسمبلی میں پی پی حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا جہاں پر تحریک انصاف کے ارکان نے اس کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا۔ کیا سیاست دانوں کے نزدیک کسی بھی کام کے غلط اور صحیح ہونے کا معیار یہی ہے ؟ کہ جو ہماری پارٹی کرے وہ ٹھیک ہے اور جو دوسری پارٹی کرے وہ غلط ہے۔ تحریک انصاف کے معزز اراکین جہاں پر وفاقی بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نا کرنے کے فیصلے کا دفاع کررہے ہیں وہیں پر سندھ اسمبلی میں تنخواہوں کو 10 فیصد بڑھانے کو غلط کیسے کہہ سکتے ہیں ؟
کیا اختلاف کے لیے کوئی اصول اور ضابطہ نہیں ہوتا ؟
کسی کام کے غلط ہونے کے لیے فقط یہی کافی ہے کہ وہ کام کسی سیاسی مخالف نے سرانجام دیا ہے ؟
دوسری طرف ہماری ملکی معیشت کا یہ عالم ہے کہ ملکی تاریخ میں دوسری دفعہ شرح نمو میں منفی حد تک کمی آچکی ہے۔ ہمارے تحریک انصاف کے دوستوں کو ہر وہ کام کرنے اور پھر فخر سے بتانے کا بہت شوق ہوتا ہے’ کہ جس پر سینہ چوڑا کرکہ کہا جاسکے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ کارنامہ صرف ہماری حکومت نے سرانجام دیا ہے۔ لیکن اس عظیم کارنامے پر پہلی بار تو نہیں’ البتہ ملکی تاریخ میں دوسری بار یہ کارنامہ سرانجام دینے کا سہرا ہماری پی ٹی آئی حکومت کے سر پر سج چکا ہے’ جس پر نونہالان انقلاب فخر کرسکتے ہیں۔ آج سے 68 سال قبل 1951 کے مالیاتی سال کے دوران یہ نوبت آئی تھی کہ ملک عزیز پاکستان کی شرح نمو منفی حد تک چلی گئی تھی ۔ اس وقت صورتحال یوں تھی کہ کچھ سال قبل ہم نے اپنا ملک حاصل کیا تھا’ وسائل کی شدید کمی تھی’ ہجرت کرکہ لٹے پٹے مسلمان تیزی سے پاکستان آرہے تھے’ ملک کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے بہت سارے وسائل کی ضرورت تھی’ نوزائیدہ ریاست پاکستان ابھی اپنے پاوں پر کھڑی بھی نا ہوپائی تھی کہ اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کا دھچکا لگ گیا’ اس کے بعد پاکستان کے پہلے وزیراعظم جناب لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں جلسہ عام کے دوران شہید کردیا گیا’ اس گھمبیر صورتحال میں ایک نوزائیدہ ملک کی شرح نمو منفی ہوجانے کی وجہ تو سامنے آتی ہے ‘ مگر اب اس مضبوط ملک کہ جس کی سٹاک مارکیٹ دو تین سال قبل 55000 انڈیکس تک کاروبار کررہی تھی’ اس کی شرح نمو محظ دو ڈھائی سال میں منفی حد تک گرجائے تو اس بات کا سمجھ میں آنا بہت مشکل ہے۔
1951 کے بعد پاکستان کئی دفعہ بہت نازک صورتحال سے گزرا 1971 میں ملک کو دو لخت ہونا پڑا مگر ملکی معیشت اس بڑے سانحے کو اتنا تو برداشت کر ہی گئی کہ منفی حد تک نہیں گئی۔ اس کے بعد کئی سال تک ملک عزیز پاکستان کو دھشت گردی کا سامنا رہا اور ان دھشت گردوں کے خلاف پاکستان نے جنگیں لڑیں لیکن الحمداللہ ہماری شرح نمو کو یہ دن کبھی نا دیکھنے پڑے – آخر اب کیا آفت ٹوٹ پڑی کہ ہماری ملکی معیشت منفی حد تک چلی گئی ؟ گذشتہ دنوں جناب اسد عمر صاحب نے فرمایا کہ اگر کورونا نا آتا تو پاکستان ایشیئن ٹائیگر ہوتا’ آپ نے وہ شیخ چلی والا واقعہ سنا ہوگا’ اگر اس کا انڈوں والا ٹوکرا نا گرتا تو وہ امیر ہوتا ‘ جیسے اس کا انڈوں کا ٹوکرا گر گیا اور وہ امیر نا بن سکا بالکل اسی طرح جناب اسد عمر صاحب کی معیشت پر کورونا عذاب بن کر ٹوٹ پڑا اور صاحب ملک کو ایشیئن ٹائیگر بناتے بناتے رہ گئے۔
بقول شاعر
شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا۔
ملکی معیشت کی آئی سی یو میں پہنچ جانے کی خبر اسد عمر صاحب کورونا کے آنے سے قبل ہی سنا چکے ‘ پھر اس آئی سی یو میں پہنچی ہوئی معیشت کی موت کا ذمہ دار کورونا کو کوئی صاحب فراست تو نہیں ٹھہرا سکتا ‘ یہ کام صرف اسد عمر صاحب ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔
جبکہ حقیقت یہ کہ ہے پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا مریض 26 فروری کو سامنے آیا ‘ یہ الگ بحث ہے کہ مریض کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے وبا زدہ علاقے تفتان بارڈر سے آنے والے لوگوں کو قرنطینہ کرنے کی بجائے گھروں میں کیوں جانے دیا ؟
وبا کو پورے ملک میں پھیل جانے سے روکنے کے لیے کس حد تک سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ وبا کے کافی حد تک پھیل جانے پر بھی لاک ڈاون نا کرنے کا رات کو فیصلہ کیا’ یہ الگ بات ہے کہ رات کو فیصلہ کرنے والے صبح اٹھے تو لاک ڈاون ہوچکا تھا’ وزیراعظم صاحب نے اس کی کھلم کھلے مخالفت کی ‘ پھر لاک ڈاون ہفتے میں 3 دن کرنے کا فیصلہ ہوا’ پھر اس سے بھی کم ہوکر ہفتہ میں دو دن کردیا گیا کیوں کہ باقی 5 دن کاروبار اور مارکیٹیں کھولنے کے لیے کورونا سے مذاکرات کیے جاچکے تھے ۔ اس نے شاید ان دنوں میں نا پھیلنے کی یقین دہانی کروادی تھی ‘ البتہ ہفتہ اور اتوار کو بہت زیادہ سختی کرنے کی بات طے پائی تھی ‘ کیوں کہ پانچ دن آرام کرنے کے بعد ان دو دنوں میں کورونا بھائی نے بھی اپنی زورآزمائی کیا کرنی تھی۔
خیر اس ہومیوپیتھک لاک ڈاون سے ملکی معیشت کو اس حد تک نقصان نہیں ہوا کہ اس پر معیشت کی پوری لاش ڈال دی جائے۔ جنوری میں مہنگائی عروج پر تھی۔ قرضوں کی شرح جی ڈی پی کی ریکارڈ سطح پر تھی۔ روپے کی قدر میں 35 فیصد سے زائد کمی ہوچکی تھی۔
مسلم لیگ دور حکومت کے آخری اقتصادی سروے کے مطابق ترقی کی شرح 5.79 فیصد تھی ‘ یہ گذشتہ 13 سال میں سب سے زیادہ تھی۔ جبکہ رواں سال کے اقتصادی سروے کے مطابق ترقی کی شرح 0.81 ہے۔مورخ کو شاید یہ بھی لکھنا پڑے گا کہ اس تشویشناک صورتحال میں ملک کےصادق اور امین وزیراعظم صاحب سالم بکرے، ہرن، بھنے بٹیر، مرغابی پلاو مچھلی سمیت 135 اقسام کے کھانوں پر ھاتھ صاف کر رہے تھے۔ابھی ٹڈی دل کے خطرات ہماری معیشت کے سر پر منڈلا رہے ہیں’ اس سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے ٹیمیں دن رات سرگرم عمل ہیں ‘ اقوام متحدہ کے ادارے”فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن ” کی رپورٹ کے مطابق اگر اس سے ہونے والے نقصان کو 25 فیصد پر روک لیا جائے تب بھی ہمیں 800 ارب روپے کے نقصان کا اندیشہ ہے اور اگر خدانخواستہ یہاں تک نا روکا گیا تو حالات کا رخ کیا ہوگا اس کا اندازہ نہیں۔ ہماری معیشت ہرگز ایسے کسی نقصان کی متحمل نہیں۔ اوپر سے اس دفعہ رہی سہی کسر نکالنے کے لیے محکمہ موسمیات کے مطابق موسم برسات میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں ‘ اس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے ‘ اس ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری شروع کرلینی چاہیے۔
ورنہ بقول ساغر صدیقی
یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشہ ہو