ڈاکٹر عمران فاروق سے محمد انور تک
{~بکھری سوچیں~}
کالم نگار غلام شبیر منہاس
۔۔۔۔۔
یہ دنیا بلاشبہ ایک مشکل ترین جگہ بھی ھے اور ایک عبرتناک امتحان گاہ بھی۔۔یہاں ایسے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جس کو نہ آپکا دل تسلیم کرتا ھے اور نہ دماغ، مگر وہ ایک نہ جھٹلا سکنے والی حقیقت ہوتی ھے جس سے ھم نہ چاہتے ہوئے بھی جلد یا بدیر تسلیم کر ہی لیتے ہیں۔
ڈاکٹر عمران فاروق کا شمار ایم کیو ایم کے بانی ارکان میں ہوتا تھا۔ یہ ایک زہین ترین شخص تھا اور پارٹی میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔ اور پھر اسی ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010ء کے دن برطانیہ میں ھلاک کر دیا گیا۔ یہ ایسی ہی ایک خبر تھی جس پہ کوئی شخص بھی یقین کرنے کیلئے تیار نہیں تھا مگر اس حقیقت کو بھی بحرحال تسلیم کرنا پڑا۔ 5 دسمبر 2015ء کے دن پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے برطانیہ میں ہونے والے اس قتل کا مقدمہ درج کیا۔ جس کے بعد اسی پارٹی کے تین ارکان کو اس قتل کے شبہ میں گرفتار کرلیا گیا۔ ان میں خالد شمیم ، معظم علی اور محسن علی سید شامل تھے۔ یہ تینوں ایم کیو ایم کے متحرک کارکن تھے۔ یہاں ایک بار پھر دل اور دماغ نے اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ اپنی ہی پارٹی کا کارکن اپنے لیڈر کو کیونکر ھلاک کر سکتے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک نہ جھٹلا سکنے والی حقیقت تھی۔ ان تین گرفتار ملزمان پہ 2مئی 2018ء کے دن فردجرم عائد کی گئی اور اسلام آباد کی دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے 21 مئی 2020ء کے دن محفوظ کیا گیا فیصلہ تین دن پہلے سنادیا۔ یہ فیصلہ بھی اسی طرح تھا جس کو دل و دماغ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہ تھے مگر یہ فیصلہ بھی ایک اٹل اور نہ جھٹلا سکنے والی حقیقت تھا۔
عدالت نے گرفتار تینوں مجرموں ، خالد شمیم ، معظم علی اور محسن علی سید کو عمر قید کی سزا سنائی نیز دس دس لاکھ مقتول کے ورثا کو ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت نے اپنے 39 صفحات پہ مشتمل تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ ” یہ ثابت ھوگیا ھے کہ بانی ایم کیو ایم (الطاف حسین) نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا حکم دیا ۔قتل کا واحد مقصد بانی ایم کیو ایم کی ہدایت پر پارٹی میں سیاسی رکاوٹ کو دور کرنا تھا” عدالت نے مزید کہا کہ قتل کے اس مقدمہ میں سزائے موت بنتی ھے مگر چونکہ شواہد برطانیہ سے لیئے گئے ہیں اس لیئے ھم سزائے موت نہیں دے سکتے۔ عدالت نے اسی کیس میں چار ملزمان الطاف حسین، افتخار حسین ، کاشف کامران اور محمد انور کو اشتہاری قرار دیا۔
اشتہاری دیئے گئے ان چار ملزمان میں سے ایک نام محمد انور کا ھے ان کا شمار بھی بانیوں میں ہوتا ھے اور یہ ایک طویل عرصہ سے لندن میں مقیم ہیں۔ انھوں نے ایک دن پہلے ایک نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ھے کہ اس قتل سے میرا کوئی تعلق نہیں نہ ہی مجھے اس منصوبے میں شامل رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو زلیل کرکے پارٹی سے نکالا گیا۔ انھیں معطل کرنے کا مقصد ہی زلیل کرنا تھا۔قتل وغارت کے تمام کاموں میں ایم کیو ایم پاکستان ملوث رہی ھے جو آج معزز بن کے بیٹھی ھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ھم لوگ بھارت سے مستقل رقوم لیتے رھے ہیں۔اور یہ پارٹی پالیسی کا حصہ رھا ھے۔ ندیم نصرت نے مجھے 90 کی دہائی کی ابتداء میں لندن کے وسطی علاقہ میں بھارتی سفارتکار سے ملوایا تھا۔ میں نے پارٹی قیادت کے حکم پہ ملاقات کی اور بعد میں ہندوستان سے رقوم لے کر پارٹی قیادت تک پہنچاتا رھا۔ محمد انور نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق قتل سے لے کر بھارت سے رقوم لینے تک کراچی میں موجود ایم کیوایم کی ساری قیادت باخبر تھی۔
اب یہاں بھی دو باتیں ایسی ہیں جن کو دل و دماغ تسلیم کرنے سے انکاری ھے۔ بانی متحدہ کا ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کروانا اور بطور پارٹی پالیسی بھارت سے رقوم لینا۔ یہ بظاہر نہ ہضم ہونے والی باتیں ہیں مگر یہ بھی وہی تلخ حقائق ہیں جنکو ہمیں جلد یا بدیر تسلیم کرنا ھے۔
اب یہاں بے شمار سوالات سر اٹھاتے ہیں اور طویل عرصہ تک اٹھاتے رہیں گے۔مثال کے طور پہ سوال یہ بنتا ھے کہ وہ ووٹرز جو اتنا عرصہ ایک ایسی جماعت کو سپورٹ کرتے رھے ان حامیوں کے پاس ایک ایسی پارٹی جو نہ صرف ریاست دشمن قوتوں کا آلہ کار رہی ھو بلکہ اپنے لوگوں کو بھی چن چن کے مارتی رہی ھے اس کو ووٹ دینے کا کیا جواز تھا۔سوال یہ بھی پیدا ہوتا ھے کہ ھماری اقتدار میں آنے والی وہ سیاسی پارٹیاں جنھیں اپنی حکومت قائم کرنے کیلئے ایم کیو ایم کی چند سیٹوں کی ضرورت ہوتی تھی وہ بھی محض اقتدار حاصل کرنے کیلئے ایک ایسی سیاسی جماعت کی سرگرمیوں سے پہلوتہی کرتے رھے جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہی ھو۔ سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ھے کہ اس پارٹی کو حکومتی اتحاد میں شامل کرکے آج تک اھم ترین وزارتوں سے نوازا جاتا رھا ھے۔ ان لوگوں نے اپنے ان عہدوں کا ریاست مخالف کتنا فائدہ اٹھایا ہوگا۔ عشرت العباد کا گورنری کا لبادہ اوڑھ کے گورنر ھاوس میں طویل قیام اور بابر غوری کا ضد کرکے شپ اور بندرگاہوں کی وزارت لینا اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ اس دوران سمندری راستوں سے کراچی میں کیا کچھ نہیں آتا رھا۔ سوال یہاں یہ بھی ھے کہ وہ میڈیا جو بانی و قائد کی تقاریر کو چار چار گھنٹے بنا کسی وقفہ کے لایئو دکھاتا رھا اس کے پیچھے کون تھا۔ لوگ بانی کی بونگیوں سے اکتا جاتے تھے مگر کسی چینل کی یہ جرات نہ ہوتی کہ لایئو میں کمرشل بریک بھی لے۔ یہ سب کون کروا رھا تھا۔ آخری اور اھم ترین سوال ملکی سلامتی کے اداروں سے بھی بنتا ھے کہ آپ نے ایک ایسی پارٹی کو اتنی دیر فری ہینڈ کیونکر دیا جس کا قیام ہی سوالیہ نشان تھا۔ یہ لوگ 30 سال سے پاکستان میں بادشاہ گر بنے بیٹھے رھے۔ حکومتیں بناتے اور توڑتے رھے۔ یہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث رھے۔ انھوں نے کراچی جیسے شہر کو عملا مفلوج کرکے رکھ دیا۔ ان کے ٹارچر سیل اور عقوبت خانوں سے لے کر بوریوں میں بند لاشوں تک کو آپ نے کیوں نہ دیکھا۔ آپ کیلئے ایسی کونسی مجبوری تھی جو ریاست کی بقاء سے زیادہ اہم تھی۔ اس طرح کے انگنت سوالات اٹھتے رھیں گے۔ جن کا جواب وقت کے پاس امانت ھے۔ آج بھی وہی لوگ نہ صرف سرعام اپنی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ اسی طرح حکومتی اتحادوں کا حصہ بھی ہیں جن کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا رھا۔ اور ان کے صف اول کے قائدین حیدر امام رضوی، بابر غوری اور عشرت العباد جیسے لوگ آج کن ملکوں میں اور کن لوگوں کی آغوش میں روپوش ہیں اس پہ کسی کی نظر نہیں ھے۔ کل کسی نظریہ ضرورت کے تحت یہی لوگ دوبارہ سے سرگرم ھوجایئں گے۔ اور کسی بھی وقت کر پاکستانی سیاست کے دوبارہ سے مامے خان بن جایئں گے۔ باقی یہ بات طے ھے کہ دینا ایک مشکل ترین جگہ ھے۔ ڈاکٹر عمران فاروق اور شمائلہ عمران کی شادی پر کئی دن تک جس پارٹی نے جشن منایا تھا۔ آج اسی پارٹی نے نہ صرف عمران فاروق کو مار دیا بلکہ شمائلہ عمران انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی ھے اور کینسر کی اس مریضہ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ واقعی یہ دنیا جائے عبرت ھے۔ اور ھم سب ووٹرز کیلئے سوچنے کا مقام بھی








