::: قبور سے خوشبو کا مہک اٹھنا :::
محمد فیاض خان سواتی
ایک دوست نے پوچھا کہ یہ جو قبروں سے خوشبو پھیلنے کی خبریں آئے روز آتی رہتی ہیں آیا یہ درست ہیں ، صحابہ کرامؓ کے زمانہ میں نہیں تھیں اور پھر یہ صرف ہمارے پاکستان میں ہی کیوں آتی ہیں اور وہ بھی صرف دیوبندیوں کی قبروں سے ، دوسرے ممالک میں کبھی ایسی خبر نہیں سنی گئی ، اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ۔؟
عرض کیا کہ بزرگوں کی قبروں سے خوشبو کا پھوٹنا ضروری نہیں ہے ، یہ بسا اوقات عام لوگوں کی قبور سے بھی پھوٹ پڑتی ہے جو کہ نیک شگون ہے ، آج کل لوگ اس میں مبالغہ آرائی بھی بہت کرتے ہیں ، جو کہ درست نہیں ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی بعض قبور سے خوشبو کا پھوٹنا بعید نہیں ہے ، اگر خبر صحیح ہو تو اس کرامت کا انکار بھی نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ حضورؐ نے فرمایا
” قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔“
لامحالہ جنت کے باغ سے خوشبو ہی تو مہکے گی اور پھر آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ
” جب مومن کو قبر میں دفن کیا جاتا ہے تو اس کی قبر کشادہ ہو جاتی ہے اور اس میں جنت کی کھڑکی بھی کھول دی جاتی ہے ۔“
لہٰذا اس سے بھی خوشبو ہی اٹھے گی ، اگر کسی وقت عامۃ الناس میں اس کا اظہار بھی ہو جائے تو کوئی مستعبد نہیں ہے ، اس سلسلہ میں واقعات تو بہت سارے ہیں لیکن ذیل میں صرف ایک ہی حوالہ پیشِ خدمت ہے جو صحابہ کرامؓ کے زمانہ کا ہے ، ملکِ عرب کا ہے اور دیوبندیوں کا بھی نہیں ہے ، اسے امام بیہقیؒ نے اپنی معروف کتاب ” دلائل النبوۃ “ ج 3 ص 294 میں نقل کیا ہے ، جس کا خلاصہ اور مفہوم کچھ یوں ہے کہ
” غزوہ احد کے تقریباً 46 سال بعد جب شہداءِ احد کی قبور زمین دوز کنوؤں کے پانی کی زد میں آ گئی تھیں تو حضرت امیر معاویہؓ نے شہداءِ احد کی قبور کے پاس ان کنوؤں کو کھودنے کا ارادہ فرمایا تو اس کے لئے پہلے انہوں نے مدینہ منورہ میں بر سرِ عام اعلان کرایا کہ ان کے ورثاء آ جائیں ، لوگ اکٹھے ہوئے ، قبریں کھودی گئیں ، تو بعض شہداء کو وہیں قریب ہی دوسری جگہ منتقل کیا گیا ، ایک شہید کو اس کھدائی کے دوران گینتی پاؤں پر لگی تو اس سے خون بھی پھوٹ پڑا ، جب لوگ یہ قبریں اکھاڑ رہے تھے اور مٹی منتقل کر رہے تھے تو
” ففاح علیھم ریح المسک ۔“
ان پر کستوری کی خوشبو پھوٹ رہی تھی ۔“
نیز امام بخاریؒ کی قبر سمرقند کے قریب ہے ، ان کے تقریباً تمام ہی تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کی قبر کی مٹی سے کافی دن تک تیز خوشبو مہکتی رہی تھی ۔
اس لئے ایسے کسی صحیح واقعہ کا انکار نہیں کرنا چاہئے ، اللہ رب العزت بسا اوقات اپنے نیک بندوں کو یہ اعزاز نصیب فرماتا ہے ۔
دعا ہے کہ مولیٰ کریم تمام اہلِ اسلام کو سچائی سننے اور ماننے کی توفیق نصیب فرمائے ۔
آمین یا رب العالمین ۔












