استاد یا جنسی بھیڑئیے؟

( منیارہ نور ) کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

جب اساتذہ ہی اپنی شاگرد بچیوں کی عزتوں کے لٹیرے بن جائیں…ذرا سوچئے اس معاشرے میں لڑکیاں تعلیم کیسے حاصل کر پائیں گی؟ ”علم” کے بغیر ترقی نامکمل اور اگر حکومت تعلیم کو عام کرنا چاہتی ہے تو اس کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اساتذہ کی اخلاقی تربیت اور اسلامی کردار سازی پر توجہ دے…جس معاشرے کا استاد اخلاق باختہ ہو جائے وہ معاشرہ برباد ہو جایا کرتا ہے… پنجاب کے وزیر تعلیم مراد راس نے تجویز دی ہے کہ ”لڑکیوں کے کالجز اور یونیورسٹیوں کو بھی مرد اساتذہ یا مردوں کے عملے سے پاک کرنا لازم ہوچکا ہے… بلکہ میری تجویز تو اس سے بھی بڑھ کر ہے کہ… لڑکیوں کے سکولز’ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں منعقدہ تقریبات میں… جو وزیروں’ مشیروں’ تاجروں وغیرہ کو چیف گیسٹ کے طور پر بلایا جاتا ہے… اس پر بھی مکمل پابندی لگنی چاہیے… ایک صاف ستھرے اور پاکیزہ ماحول میں تعلیم حاصل کرنا بچیوں کا حق ہے… ہمارے معاشرے میں لنڈے کے لبرلز غیروں کی نقالی میں عورتوں کو ان کے اس جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں… المیہ ہے کہ لاہور کے بعض تعلیمی اداروں کی… بچیوں کو ان کے استادوں اور ان کے سکولوں کے دیگر مرد عملے نے نہ صرف یہ کہ جنسی طور پر ہراساں کیا … بلکہ ان بچیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا رہا… سنا ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی اس تشویش ناک سیکنڈل کا نوٹس لے لیا ہے… سوال یہ ہے کہ کیا ہوگا اس نوٹس لینے سے کیا مجرموں کو سزا مل سکے گی؟ کیا متاثرہ بچیوں کی عزتیں بحال ہوسکیں گی؟ کیا لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو مردوں سے آزاد کرایا جاسکے گا؟ فقیہہ امت حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی نور اللہ مرقدہ تو بچیوں کو مرد اساتذہ سے دینی تعلیم دلوانے کے حق میں نہ تھے… چہ جائیکہ عورتوں اور بچیوں کو مرد اساتذہ سے دنیاوی تعلیم دلوائی جائے؟ اگر سیاست دانوں’ حکمرانوں اور سول سوسائٹی میں صاحبان عقل و دانش موجود ہوں تو اب بھی وقت باقی ہے… قوم ۔۔۔کی بیٹیوں کی عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے … تعلیمی اداروں کو اسلامی ماحول میں ڈھالنے کے لئے ایک زبردست تحریک کی ضرورت ہے’ یہ لبرل لفنگا پن اور ٹی وی چینلز کا پھیلایا ہوا بے حیائی کا گند۔۔۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی قدروں کو تباہ کر چکا۔
کوئی رو رعایت نہیں ۔۔۔سکول’ کالج ہوں یا دینی مدارس’ طالبات کو مرد اساتذہ کی بجائے خواتین اساتذہ سے ہی تعلیم دلوانا لازم قرار دینا وقت کی آواز بن چکا ہے… میرے پاس بعض مدارس کی بھی خوفناک کہانیاں ہیں… سیدھی سی بات ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسولۖ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر انسان اپنے لڑکوں یا لڑکیوں کو ترقی کے خود ساختہ راستوں پر ڈالنے ۔۔۔کی کوشش کرے گا… تو اس کے نتائج بھی بھیانک ہی نکلیں گے… اللہ رحم’ اللہ رحم’ معاشرہ اس تیزی کے ساتھ اخلاقی پستی کی گہرائیوں میں جا گرے گا… یہ تو کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا… استاد کو روحانی باپ کہا جاتا ہے … جب روحانی باپ ہی اپنی طالبات کی عزتوں کا لٹیرا بن جائے تو وہ حوا زادیاں کدھر جائیں؟ کس کو داستان غم سنائیں؟’ میرے نزدیک ان ماں’ باپ کا بھی قصور ہے کہ جو انگلش میڈیم سکول میں اپنے بچوں کو داخل کروانے سے پہلے وہاں کے اساتذہ کے اخلاقی معیار کو جانچنے کی کوشش نہیں کرتے’ اور اپنا کل خزانہ یعنی ”معصوم بیٹیاں” ان سکول نما مذبحہ خانوں میں بھیج کر خود اترائے’ اترائے پھرتے ہیں کہ ہماری بچیاں فلاں سکول میں جانے کے بعد فر’فر انگلش بولنا شروع ہوچکی ہیں… بچیوں کی تعلیم میں سب سے بڑی رکاوٹ استاد بنتے جارہے ہیں… ٹیچر ہو’ پروفیسر ہو’ قاری ہو’ یا مولوی… ایک استاد کا دل جب تک خوف خدا کا مسکن نہیں بنے گا تب تک بچوں اور بچیوں کو تعلیمی اداروں میں ہراساں کیا جاتا رہے گا۔
میں ذاتی طور پر اس چیز کا حامی ہوں کہ اپنے بچوں کو انگلش ضرور پڑھائیں… مگر انگریز مت بنائیں’ اپنے بچوں کو قرآن کا حافظ’ قاری اور دین کا عالم ضرور بنائیں’ مگر ان کی عزت نفس کو بھی مجروح مت ہونے دیں… اس وقت معاشرے کو فقیہہ امت حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی نور اللہ مرقدہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے’ کاش کہ ان کا کوئی حقیقی جانشین ہوتا کہ جو لڑکیوں کی تعلیم اور تعلیمی اداروں کے حوالے سے ان کی دی ہوئی سنہری تعلیمات کو عام کرتا’ لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں اساتذہ یا دیگرز کی طرف سے ہراساں کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے… اگر اس ”وبائ” کا راستہ ابھی سے روکنے کی کوشش نہ کی گئی… تو اس معاشرے کی رہی’ سہی قدریں بھی برباد ہو جائیں گی’ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے روپ میں گھسے ہوئے… جنسی درندوں کو کڑی سے کڑی سزائیں دے کر نمونہ عبرت… بنانا ضروری ہے’ تعلیمی اداروں میں بچیوں کو ہراساں کئے جانے کے خلاف ہر ہوش مند… اور غیور انسان کو صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے… کراچی کے سرکاری تعلیمی اداروں میں کس قسم کی تعلیم دی جارہی ہے’ اس کا تذکرہ آئندہ کسی کالم میں کریں گے ان شاء اللہ