آگ کا سمندر، کشمیر اور شہداء کشمیر

{◇منیارہ نور ◇}
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

13 جولائی1931 ء کے دن ڈوگرہ فوج نے… جن22 کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا تھا … وہ مسلمان سری نگر جیل کے باہر ڈوگرہ ظلم کے خلاف احتجاج کے لئے جمع ہوئے تھے … اس دوران ایک مسلمان نے اذان شروع کی تو بدمعاش ڈوگرہ فوجیوں نے اس ”موذن” پر فائرنگ شروع کر دی… وہ شہید ہوا تو دوسرا کشمیری جوان آگے بڑھا، اور اذان مکمل کرنے کی کوشش کی… یوں کشمیر کے غیور مسلمانوں نے اذان کی تکمیل تو کی… مگر 22 جوانوں کی قربانی دے کر… 13 جولائی1931 ء سے لے کر 13 جولائی2020 ء تک ، اک آگ کا سمندر ہے کہ جس میں کشمیری تیرنے کی کوشش کررہے ہیں … ڈوگرہ راج سے مودی راج تک… اک ”ظلم” کا ہمالیہ ہے کہ جسے کراس کرنے کیلئے کشمیریوں نے قربانیوں کی لاتعداد اور لازوال داستانیں رقم کر رکھی ہیں … سوال مگر یہ ہے کہ کیا آزاد کشمیر اور پاکستان کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ ہم 13 جولائی 1931 ء کے شہداء کی89 ویں برسی مناکر مطمئن ہو جائیں، مقبوضہ کشمیر میں ایک کروڑ سے زائد کشمیری مسلمانوں کا گھیرائو تو آج بھی آگ کے سمندر نے کر رکھا ہے … وہاں تو روز مسلمان بچے یتیم ہو رہے ہیں، بیویوں کے سہاگ اجڑ رہے ہیں ، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو کسی ”فلسفی” سے زیادہ مجاہد پاکستانی حکمران کی ضرورت ہے… کہ جو صرف لمبی لمبی تقریروں پر ہی اکتفا نہ کرے، اقوام متحدہ اور امریکہ کو ہی مدد کے لئے نہ پکارتا رہے… بلکہ ان کے زخموں کا مداوا کرنے کیلئے خود بھی کچھ کرے۔
کوئی مجھ سے نارا ض ہوتا ہے تو سو بار ہو جائے …مگر میں لکھتا رہوں گا… کہ آزاد کشمیر کے حکمران ہوں، پاکستان کے حکمران ہوں یا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے پردھان … انہیں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے جو جدوجہد کرنی چاہیے تھی انہوں نے نہیں کی، 13 جولائی1931 ء سے لے کر13جولائی 2020 تک… کہ ڈوگرہ فوج کے بعد بھارتی فو ج کے بہیمانہ مظالم کا سلسلہ نہیں رکا تو کشمیری مسلمانوں کی شہادتوں کا سلسلہ بھی جاری و ساری ہے … سن لیجئے ، کشمیر کی مظلوم مائوں، بہنوں، بیٹیوں کو جلسے جلوسوں، مظاہروں اور کانفرنسوں سے بڑھ کر اس عملی مدد کا بھی انتظار ہے کہ جس کے ذریعے…. وہ اپنے شہید پیاروں کے خون کا بھارتی فوج سے انتقام بھی لے سکیں۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے یوم شہداء کشمیر پر جو یہ کہا کہ ”یوم شہداء کشمیر، کشمیر کی آزادی کے لئے بہادر کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کی… یاد دلاتا ہے، شہداء کے لہو کا ایک ایک قطرہ فراموش نہ کیا جائے گا اور نہ ہی معاف کیا جائے گا” یہ بالکل درست کہا، یقینا بارڈر ایریا میں پاک فوج کے جوانوں کی شہادتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں … پوری قوم کو اپنی مسلح افواج کے جوانوں کی بہادری پر فخر ہے۔
لیکن امن کی امان ملے… تو کچھ عرض کروں … اور وہ یہ کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمان پتھرائی ہوئی نظروں سے جو پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں… اس میں یہاں کے حکمرانوں سے زیادہ ان کی نظریں ”افواج” کی طرف لگی ہوئی ہیں… کشمیر مائیں اپنی افواج کے قدموں کی آہٹوں کی طرف کان لگائے بیٹھی ہیں … مجھے معاف کیجئے گا… میں جھوٹ نہیں لکھ سکتا، مظلوم کشمیریوں کو طفل تسلیوں کی نہیں بلکہ ”مجاہدین” کی ضرورت ہے، کشمیری مائیں اپنے بچوں کی خون آلود لاشیں دیکھ کر بھی اتنی پریشان نہیں ، جتنی انہیں سرحد پار والوں کی سرد مہری پریشان کر دیتی ہے… اگر مقبوضہ کشمیر میں ”داخل” ہونے میں کوئی بین الاقوامی رکاوٹ ہے تو آزاد کشمیر اور پاکستان کو انڈین فلموں اور انڈین کلچر سے پاک کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ آزاد کشمیر اور پاکستان کی نوجوان نسل کو بھارت کا ذہنی غلام بنانے کیلئے سینکڑوں این جی اوز اور میڈیا میں گھسی ہوئی سینکڑوں بدروحیں رات دن مصروف عمل ہیں … کشمیر، لتا منگیشتر اور امیتابھ بچن کے غلاموں سے کبھی آزاد نہیں ہوگا…. کشمیر کی آزادی کے لئے13جولائی 1931 ء کے ان 22 شہیدوں کی جرات و غیرت کی ضرورت ہے کہ جوگولیوں سے چھلنی تو ہوتے رہے… مگر اذان کی تکمیل سے منہ موڑنا گوارا نہ کیا، 10 جولائی کو اس خاکسار نے آزاد کشمیر کے ضلع باغ کی مرکزی مسجد ریڑہ میں جمعتہ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہی عرض کیا تھا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے قومی اتفاق رائے اور جہاد کی ضرورت ہے… کل تک جو کالے دل والے ، کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیا کرتے تھے اب وہ کدھر ہیں؟ کشمیری تو گزشتہ گیارہ ماہ سے ہندو لاک ڈائون کا عذاب بھگت رہے ہیں اور کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قراردینے والے اسلام آباد میں مندر بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہوچکے ہیں … ریڑہ کے کشمیری مسلمان مرکزی مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں پہنچے ہوئے تھے … وہ سب کے سب اسلام اور وطن کی محبتوں سے سرشار تھے … اس خاکسار نے عرض کیا کہ خواجہ آصف یا نوید قمر اگر اپنے گھروں کو بھی مندروں میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیں … تب بھی اللہ کے دین اسلام کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، اللہ اور اس کے رسولۖ کی خوشخبری ان لوگوں کیلئے ہے… کہ جنہوں نے دنیا میں مساجد کی تعمیر میں حصہ لیا … گوردوارے اور مندروں کی تعمیر اور حمایت کرنے والوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
قاری محمد اشرف علی خان جامعہ عربیہ تعلیم القرآن ریڑہ کے مہتم ہیں… انہوں نے ریڑہ کے تاریخی مدرسے کا اس ناچیز کو دورہ بھی کروایا، جامعہ عربیہ تعلیم القرآن کے اساتذہ کرام اور مفتیان عظام کو بھی اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے… کہ جنہوں نے محبتیں نچھاور کرنے میں کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیا۔
سچی بات ہے کہ قاری اشرف علی خان جیسے علماء نے اپنے اکابرین کی زیر سرپرستی ان پہاڑوں پر جو دینی اور تعلیمی خدمات سرانجام دیں… انہی کی بدولت آج خطہ کشمیر پہلے سے بھی بڑھ کر حسین و جمیل ہے ، اللہ ہم سب کو اپنے دین کی خدمت اور کشمیر کی آزادی کے لئے قبول فرمائے۔ (آمین)