سیدنا عثمان غنی کی سخاوت کا منفرد واقعہ۔۔انتخاب۔۔سیدلطیف شاہ۔۔۔سٹار نیوز پر

خلیفۂِ بلا فصل جناب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا دورِ خلافت ہے۔مدینہ اور آس پاس کا علاقہ سخت قحط کا شکار ہے۔لوگ اناج کے ایک ایک دانے کو ترس رہے ہیں۔منہ مانگے دام پر بھی غلّہ دستیاب نہیں ہے۔ اتنے میں اطلاع پہنچتی ہے کہ ایک تاجر کا قافلہ جو کہ غلّے اور اناج سے لدے ہزار اونٹوں پر مشتمل ہے، مدینہ سے کچھ دوری پر ہے۔اطلاع ملتے ہی بیوپاری حضرات اس تاجر کے پاس پہنچتے ہیں اور غلّے کے پہنچنے سے پہلے ہی اسے خریدنے کیلیے بڑھ چڑھ کر بولی لگا رہے ہیں۔

بھاؤ تاؤ ہونے لگا، بولیوں پہ بولیاں دی جانے لگیں لیکن کوئی بھی آواز، کوئی بولی اس “تاجر” کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام نظر آنے لگی تو سب سے تجربہ کار بیوپاری نےآگے بڑھ کر تاجر کو مخاطب کیا اور کہا کہ وہ اپنے مال کا دام بتائے تاکہ خریداروں کو خریدنے میں آسانی ہو۔تاجر نے پوچھا کہ آپ مجھے زیادہ سے زیادہ کتنا منافع دے سکتے ہیں تو اس بیوپاری نے کہا کہ ایک پہ دوگنا،یعنی جتنے درہم کا مال ہے اس سے دوگنی قیمت پر۔۔۔تاجر نے کہا کہ نہیں کچھ اور بڑھاؤ کیونکہ مجھے تو اس سے زیادہ مل رہا ہے۔

اب اس بوڑھے بیوپاری نے اپنے ساتھ دوسرے بیوپاریوں سے مشورہ کے بعد ایک کے بدلے تین کا اعلان کیا۔یعنی ایک درہم کے بدلے تین۔۔لیکن مالک نے پھر بھی غلّہ انکے ہاتھ بیچنے سے انکار کر دیا کہ مجھے تو اس سے زیادہ دام مل رہے ہیں۔وہ بیوپاری سب حیران پریشان ہو کر ایک دوسرے کا مُنہ تکنے لگے، کہ مدینہ کے سب قابلِ ذکر بیوپاری اور تاجر تو یہاں موجود ہیں پھر کون سا ایسا امیر کبیر تاجر ہےجو اتنے مہنگے داموں یہ خریدنا چاہتا ہے۔یقیناً کوئی باہر کا تاجر یا بیوپاری ہی ہوگا۔کاروباری رقابت کی حس جاگتے ہی انہوں نے ایک بار پھر آپس میں صلاح مشورہ کیا کہ ایک آخری کوشش کے طور پر دام مزید بڑھادو اور ایک کے بدلے چار گنا کا دام فائنل کردو۔

لیکن اس غلّے کا مالک ابھی بھی اس بات پر مُصر ہے کہ مجھے تو اس سے کہیں زیادہ مل رہا ہے۔آخر میں ہار مانتے ہوئے ان تاجروں نے مالک سے سوال کیا کہ آپ کو کتنا مل رہا ہے تو اس نے بتایا کہ مجھے تو ایک کے بدلے دس مل رہے ہیں۔یہ سنتے ہی سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ وہ کونسا ایسا تاجر ہے جو اتنے مہنگے داموں یہ غلّہ خرید کررہا ہے۔پوچھنے پر جواب ملا کہ کل مدینہ کے فلاں میدان میں آکر خود دیکھ لینا۔

دوسرا دن ہوگیا اس بڑے تاجر کا غلّہ مدینہ پہنچ کر ایک میدان میں ڈھیر ہوگیا ہے۔اتنے میں مُنادی نے اعلان کیا کہ سارے مدینہ والے جسکو جتنی غلّے کی ضرورت ہے وہ آ کر فی سبیل اللہ لےسکتا ہے۔اعلان سنتے ہی کیا غریب کیا امیر سب ہی میدان کیطرف لپکے اور حسبِ ضرورت مفت غلّہ حاصل کیا۔اب ان تاجروں اور بیوپاریوں کوبھی سمجھ آگئی تھی کہ کون ایسا “بڑا” تاجر تھا جس نے ایک کے بدلے میں دس کا دام لگایا۔

ایک ہزار اونٹوں پر مشتمل غلّے کے اس قافلے کو اللہ کی راہ میں تقسیم کردینے والی شخصیت کو تاریخ آج بھی “سیدنا عثمان غنی” کے نامِ نامی سے جانتی ہے۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ❤❤❤
✍سید لطیف احمد شاہ