سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات اور اعزازات

تحریر، محمد توصیف خالد

بنو امیہ کے متمول خاندان کے چشم و چراغ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا شمار “السابقون الاولون” جیسی اولو العزم جماعت میں ہوتا ہے. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تحریک پر آپ رضی اللہ عنہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے. قبول اسلام کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کو طرح طرح کی تکالیف و مصائب کا سامنا کرنا پڑا، لیکن صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض تھا؛ کہ آپ رضی اللہ عنہ جبل استقامت بن کر کلمۃ اللہ پر ڈٹے رہے.

آپ رضی اللہ عنہ عہد جاہلیت میں بھی طبعا اخلاقی بیماریوں اور شرکیہ رسومات سے محترز رہے. آغوش نبوت سے تربیت پانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام اور اہل اسلام کے لیے علمی، عملی اور مالی گراں قدر خدمات سرانجام دی،جو تاریخ کے سنہری اوراق میں محفوظ ہوگئیں.

آپ رضی اللہ عنہ وسیع پیمانے پر تجارت کا کاروبار کرتے تھے- بلاد عرب میں آپ رضی اللہ عنہ کی تجارت اور سخاوت کا ڈنکا بجتا تھا- جود و سخا میں آپ رضی اللہ عنہ اپنی مثال آپ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے لیکر وفات تک ہر جمعہ کو ایک غلام خرید کر آزاد کرنے کا معمول تھا، ناغہ ہوجانے کی صورت میں قضا کیا کرتے تھے. مسلمان جب مدینہ ہجرت کرکے آئے تو مدینہ میں ایک میٹھے پانی کا کنواں تھا؛ _جو یہودی کی ملکیت تھا _آپ رضی اللہ عنہ نے پینتیس ہزار درہم کی بھاری قیمت سے خرید کر محض رضائے الہی کے حصول کے لیے وقف کردیا. جیش العسرت (غزوہ تبوک ) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ترغیب پر ساڑھے چار سو اونٹ اور پچاس عمدہ گھوڑے مع سازوسامان پیش کیے۔ مسجد نبوی کی بغل میں ازواج مطہرات کے لیے کچھ زمین آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے خرچ سے خریدی۔ خلافت صدیقی میں سخت قحط کے موقع پر ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے فقراء اور مساکین میں تقسیم فرمادیے۔

سیدنا عثمان بن عفان کا دور_ خلافت تاریخ کا ایک تابناک اور روشن پہلو ہے. آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی سلطنت کی حدود 44 لاکھ مربع میل تک جا پہنچی.ایران سے متصل افغانستان کی حدود ترکمانستان اور خراسان تک کا علاقہ اسلام کے زیر نگیں آیا. آپ رضی اللہ عنہ کے دور تک قرآن مجید مختلف قراتوں اور روایتوں میں پڑھا جاتا تھا ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے دور صدیقی میں حضرت زید بن ثابت کی زیر نگرانی جمع ہونے والے مصحف کو معتبر اور قابل عمل قرار دیا. اس نسخہ کی نقول تیار کرکے تمام صوبوں کے عاملوں تک پہنچادی گئی ؛ اس طرح تمام امت مسلمہ کو ایک مستند و معتبر قرآنی نسخہ پر جمع کرکے ناشر قرآن ہونے کا لقب پایا. آپ رضی اللہ عنہ احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقل کرنے میں حد درجہ احتیاط و ذمہ داری سے کام لیتے تھے. آپ رضی اللہ عنہ سے مرویات احادیث کی تعداد تقریبا 130 بتائی جاتی ہے.
29 ہجری کو آپ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کا کام کروایا ، مسجد کا طول ایک سو ساٹھ گز اور عرض ایک سو پچاس گز، رکھوایا، پتھر کے ستون بھی نصب کروائے، ساتھ ساتھ درودیوار بھی پختہ بنوادیں۔

آپ رضی اللہ عنہ نہایت بردبار، سلیم الطبع اور پیکر شرم و حیاء تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ قیام اللیل اور صائم الدھر تھے۔ آپ ہی وہ واحد شخص ہیں: جن کی عقد میں کسی نبی کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے آئیں۔ اسی لیے آپ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ صحابیوں میں ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کا جنت میں ایک خاص رفیق ہوگا اور میرے رفیق وہاں عثمان ہونگے۔”(ابن ماجہ) آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی خاطر دو ہجرتیں ( حبشہ اور مدینہ) کی، اسی بناء پر آپ کو ذو الہجرتین کا لقب بھی ملا۔
آپ رضی اللہ عنہ کے کل گیارہ بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں.
آپ رضی اللہ عنہ نے وصیت رسول کے موافق خلعت خلافت کو آخر دم تک سینے سے لگائے رکھا۔
بالآخر آفتاب نبوت کا یہ چمکتا دمکتا ستارہ 18 ذی الحجہ کو بارہ سال خلافت کے منصب جلیل پر متمکن رہ 82 سال کی عمر شہید ہوئے، جنت البقیع میں آپ رضی اللہ عنہ مدفون ہوئے۔
(رضی اللہ عنہ)