منقبت مظلوم مدنیہ سید نا عثمان غنی
شاعر فائق تُرابی 
شام کے وقت سمندر اُسے تنہا رویا
ابر جس تشنہ دَہَن کو سرِ صحرا رویا
جس نے طیبہ کو لہو رنگ نہیں ہونے دیا
وہ جو بچھڑا تو خلافت کا مصلّا رویا
کس کے جانے پہ مدینہ کے کبوتر روئے
کس کی فرقت کا ہر اک پھول نے رونا رویا
ایسے لگتا تھا زمانے کا حلق سوکھ گیا
غمِ عثمان میں جب گنبدِ خضرا رویا
کون محبوب کے رونے کو گوارا کر لے
مکہ رویا ، جو محمد کا مدینہ رویا
امن کی راہ میں انسان کا سَر جاتا ہے
فاختہ روئی ، قلم رویا ، اُجالا رویا
جس کی دولت نے مرے دین کو پالا پوسا
اُس کی نصرت سے شیاطین کا ٹولا رویا
جس کو دو نور دیے نورِ مُبیں آقا نے
ایسا چمکا کہ اندھیرے میں اندھیرا رویا
آج کچھ رنگِ شفق تیز ہے فائق اتنا
ایسے لگتا ہے اُسے عرشِ معلیٰ رویا
فائق تُرابی (امیدوارِ شفاعت)












