”امام مظلوم مدینہ سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کی المناک شہادت اور خاندان بنی ہاشم کی وفاداریاں“

تحریر حسیب خان لنگاہ گڑھ مہاراجہ جھنگ
03006289429

18ذی الحج،یوم شہادت امیر المومنین،خلیفہ ثالث،چراغ بنی امیہ،امام صحابہؓ،امام مظلوم مدینہ،داماد رسالت مآبﷺ،ہم زلفِ مولا علیؓ،سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہہ

معاشرتی زندگی میں مضبوط تر تعلقات خاندانوں کے باہم نسبی روابط شمار کیے جاتے ہیں۔ایک خانوادے کادوسرے خانوادے کیساتھ رشتہ داری کا تعلق ہونا خویشگی کا پختہ مظاہرہ تصور کیا جاتا ہے۔قبیلہ کا آپس میں رشتہ لینا دینا باہم یگانگت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔نسبی مراسم کی تمہی قباٸل میں ہمیشہ جاری رہتے ہیں۔ان کے ذریعے قبیلہ قبیلے کے قریب تر رہتا ہہے اور ایک دوسرے کا کفو شمار کیا جاتا ہے۔یہ معاشرہ کے فطری اصول ہیں۔ہر باشعور انسان اور ذی تجربہ آدمی ان کو صحیح تصور کرتا ہے۔بنابریں اس مقام میں حضرت عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ اور حضرت علی ابن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم کے مبارک خاندان کے بعض نسبی رشتےدار نقل کیے جاتے ہیں۔اور اس مسٸلہ کی تمہید میں حضرت علی ؓ کا اپنا بیان نہج البلاغہ وغیرہ سے درج کیے جاتا ہے کہ جو حضرت امیر معاویہؓ کو خطاب کرتے ہوۓ فرمایا تھا اس میں مولا علیؓ نے ان ہر دو خاندانوں کے باہم رشتہ لینے و رشتہ دینے کا اقرار کیا ہے اور باہم ایک کفو ہونے کو تسلیم کیا ہے اگرچہ واقعہ میں فرق مراتب موجود ہے۔

مولا علیؓ نے فرمایا کہ
”یعنی آپ کی قوم پر ہمارے دیرینہ غلبہ نے ہم کو اس بات سے منع نہیں کیا کہ ہم آپ لوگوں کو اپنے (قبیلہ میں)ملاٸیں۔پس ہم نے (تم سے)نکاح کیے۔اور تمہارے ساتھ اپنے قبیلہ کے نکاح کر دیٸے۔جیسا کہ ”ہم کفو“و”ہم نسل“ لوگ باہم رشتے لیتے دیتے ہیں“۔ (نہج البلاغہ،طبع مصر،ج2،ص32،من کتاب لہٰ علیہ السلام الیٰ معاویہؓ و ہومن محاسن الکتب)

سیدنا عثمانؓ کا شجرہ نسب اس طرح ہے۔
ابو عبداللہ عثمانؓ بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔اور آپ کی والدہ کا نام ارویٰ بنت کریز ہے۔اور ارویٰ کی والدہ(یعنی حضرت عثمانؓ کی نانی)کا نام ام حکیم البیضا ٕ بنت عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف ہے۔

روابط نسبی:-
1-ام حکیم البیضا ٕ بنت عبد المطلب بن ہاشم(جو رسالت مآبﷺ کے والد شریف عبداللہ کی تو ام ہیں اور نبی کریمﷺ کی عمہ محترمہ پھوپھی ہیں۔اور حضرت علیؓ کی بھی عمہ محترمہ ہیں)حضرت عثمانؓ کی سگی نانی ہیں۔

2-یعنی عثمانؓ ام حکیم بیضا ٕ کے نواسے ہیں اور حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب عمتہ النبیﷺ کی بھانجی کے بیٹے ہیں۔اور حضرت صفیہؓ حضرت عثمانؓ کی ماں کی حقیقی خالہ ہیں۔

3-حضرت علیؓ کے والد ابوطالب حضرت عثمانؓ کی ماں کے ماموں ہیں اور حضرت عثمانؓ کی ماں انکی بھانجی ہیں۔
4-حضرت علیؓ،حضرت عثمانؓ کی ماں کے ماموں زاد بھاٸی ہیں۔اسی طرح حضرت جعفرؓ طیار،حضرت عقیلؓ بھی سیدنا عثمانؓ کی ماں کے ماموں زاد بھاٸی ہیں۔

5-حضرت عثمانؓ،علیؓ وجعفرؓوعقیلؓ کی پھوپھی زاد بہن کے لڑکے ہیں۔

6-عثمانؓ،سیدنا حمزہ سید الشہداؓ و سیدنا عباسؓ بن عبدالمطلب کی خواہر زادی بھانجی کے بیٹے ہیں۔

7-حضرت حمزہؓ و عباسؓ حضرت عثمانؓ کی والدہ کے سگے ماموں ہیں جیسا کہ ابوطالب ماموں ہیں۔

خلاصہ یہ کہ حضرت عثمانؓ کی والدہ بنی ہاشم کی نواسی ہیں یعنی ان کے ننہال والے بنی ہاشم تھے اسی بنا پہ یہ رشتے عثمانؓ وعلیؓ کے درمیان قاٸم و داٸم ہیں۔

بہرحال بنی امیہ اور بنی ہاشم کی رشتہ داریاں ہیں جو کہ انکی محبت کا ثبوت ہیں۔مگر میرا مقصد یہاں صرف سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا تزکرہ کرنا ہے۔جو کہ اب کرنے لگا ہوں۔
سیدنا عثمانؓ کی شہادت سے قبل تمام مسلمان متحد تھے۔ان کے درمیان کوٸی رختہ اندازی نہ تھی۔کفر کی طاقتوں کو ختم کرنے میں ہمہ تن مصروف تھے۔واقعہ ہذا پیش آنے کیبعد مسلمانوں میں اختلافاے برپا ہو گٸے۔مسلمانوں کی متفقہ قوت جو اعدا ٕ اسلام کے مٹانے میں صرف ہوتی تھی وہ باہمی آویزش اور نزاع میں صرف ہونے لگی۔آپس میں جنگ و جدال کا دروازہ کھل گیا اور جو برکات نبوت مسلمانوں میں پہل موجود تھیں وہ اس واقعہ کیبعد بطریق سابق قاٸم نہ رہ سکیں۔اور رفتہ رفتہ ختم ہونے لگیں۔
سیدنا عثمانؓ کی خلافت کے آخری ایام میں بعض لوگوں کو سیدنا عثمان کے چند کارندوں سے بعض انتظامی معاملات میں کچھ شکایات پیدا ہوٸیں۔شرپسند افراد نے جن کا سرغنہ عبداللہ ابن سبا ایک یہودی نو مسلم تھا ، ان چیزوں کو ہوا دے کر اعتراضات اور مطاعن ک شکل دی۔پھر آہستہ آہستہ فسادیوں نے بغاوت کا رنگ اختیار کر لیا۔ان اشار کا اصل مقصد مرکز اسلام پر ضرب لگاکر اہل اسلام میں پھوٹ ڈالناتھا جو انہوں نے خلیفتہ اسلام کے قتل کے ذریعہ پورا کیا۔چنانچہ دارالحکومت مدینہ طیبہ پر انہوں نے چڑھاٸی کر دی۔بیت خلافت کا محاصرہ کر لیا۔کچھ مدت محاصرہ رکھا۔محاصرہ کے دوران18ذِوالحجہ سن35 ہجری کو خلیفہ ثالث حضرت عثمانؓ کو ظلماً شہید کر ڈالا۔

ہاشمی حضرات نے جو اس موقعہ پر عثمانؓ کیساتھ رفاقت کا ثبوت دیا۔اور انکی ہمدردی کی۔باغیوں نے مدینہ طیبہ کی ناکہ بندی کی اور عثمانؓ کے مکان کا محاصرہ کیا۔آپؓ کی آمدورفت رک گٸی۔گھر سے باہر مسجد نبوی تک جانا دشوار ہو گیا۔جس مسجد کی زمین اسی شہزادے نے خریدی اور مسجد کیلیے وقف کی۔باغیوں سے بچاٶ کرنے کے لیے دارِ عثمانیؓ کے دوازے پر جو حضرات نگرانی کر رہے تھے ان میں سیدین حسنین کریمینؓ اور عبداللہ ابن عباسؓ قابل ذکر ہیں۔ان شہزادوں نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کہ درِ عثمانی کی حفاظت کی۔اسی دوران آپؓ نے سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ کو امیر حج بنا کر بھیجا۔اس بات کی تاٸید ہمارے شیعہ دوستوں کی کتب تاریخ یعقوبی وغیرہ میں موجود ہے۔

محاصرہ کے دوران باغیوں کی مدافعت کیلیے بار بار کوشش ہوتی رہی۔صحابہؓ نے متعدد بار اپنی اپنی جگہ اس شرارت کودور کرنے کی سعی کی۔علیؓ اور حسنین کریمینؓ نے اس مسٸلہ کو حل کرنے کی بے حد کوشش کی مگر عثمانؓ نے کسی فرد کو اس سلسلہ میں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔
”عبداللہ ابن رباح سیدنا حسنؓ کی کوشش کا ذکر کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ میری حسنؓ سے ملاقات ہوٸی۔محاصرہ کے دوران وہ عثمانؓ کے پاس پہنچے۔ہم لوگ بھی دونوں حضرات کی گفتگو سن رہے تھے۔حسنؓ نے عٹمانؓ کو کہا کہ اے امیر المومنین آپ جو حکم مجھے دیں وہ بجا لاٶں گا۔عثمان ؓ نے فرمایا کہ اے بھتیجے اپنی جگہ تشریف رکھیے یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم تقدیر پورا فرما دیں۔مجھے دنیا کی کوٸی حاجت نہیں یا فرمایا مجھے جنگ وجدال کی کوٸی حاجت نہیں۔“ (المصنف بعبدالرزاق)

محاصرہ کے دوران سیدنا عثمانؓ سے مدافعت کے مضمون کو شیعہ سنی دونوں مسالک کے علما ٕ مجتہدین نے اپنے طرز بیان کی شکل میں لکھا ہے۔جیسا کہ ابن ابی الحدید شیعی نے شرح نہجہ البلااغہ میں بیان کیا کہ حسن بن علی و عبداللہ ابن زبیر،محمد ابن طلحہ و مروان و سعید نے منع کیا اور ان کیساتھ انصار کے بیٹوں کی بھی ایک جماعت تھی۔عثمانؓ نے سب کو اس کام سے روک دیا اور کہا کہ تم میری نصرت و امداد کرنے سے آزاد ہو۔لیکن ان سب حضرات نے عثمانؓ کی بات ماننے سے انکار کیا اور انکے مکان سے واپس نہ گٸے۔یعنی حفاظت کرتے رہے۔

اسی عبارت کو شیعی فاضل ابن میثم بحرانی نے بھی شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا۔اس کے علاوہ سنی کتب البایہ ابن کثیر،الکامل ابن اثیر،کتاب التمہید،کتاب النساب وغیرہ میں یہی واقعہ ملتا ہے۔

محاصرہ کےدوران حفاظتی انتظامات کرتے ہوۓ سیدنا حسنؓ زخمی بھی ہوۓ۔جیسا کہ انساب الاشراف میں درج ہے کہ جبلوگوں نے عثانؓ پرتیر اندازی کی حتیٰ کہ حسنؓ زخمی ہوگٸی۔اور علیؓ کے غلام قنبرؓ کے سر پہ زخم آیا۔

سیدنا عثمانؓ کا 40دن پانی بند کر دیا گیا۔سیدنا علیؓ کو جب پتا چلا تو آپؓ نے پانی کی تین مشکیں عثمانؓ کی طرف بھجواٸیں۔مگر پانی کا پہنچانا بہت مشکل تھا۔اس وجہ سے بنی ہوشم و بنی امیہ کے کٸی خدام زخمی ہوۓ۔سنی کتب تاریخ الامم و الموک للطبری،تاریخ ابن کثیر اور شیعہ کتب ناسخ التواریخ،حاشیہ منتہی الآمال،فواٸ الرضویہ،انساب الاشراف،جیسی جید کتب میں پانی پہنچانے اور بند کرنے کی تاٸید موجود ہے۔

اللہ تعالی کی تقدیر ہر چیز پہ غالب آتی ہے۔اس کی حکمت و قدرت سے شہادت عثمانیؓ واقع ہوٸی۔اس کے بعد بھی باغی مفسدین کی نارِعداوت نہ بجھی۔عثمانؓ مظلوم کا کفن و جنازہ پُرامن طریق سے ہو جانا ان کیلیے ناگوار تھا۔ان حالات میں صحابہؓ نے بڑی ہمے سے آخری احکام جنازہ،کفن و دفن کو نہایت مستعدی سے سرانجام دیا۔

مورخین نے آخری وقت کی بھی بہت سی روایات جمع کی ہیں جس میں سیدنا علیؓ اور حسنؓ و دیگر بنی ہوشم کے معززین نے کس طرح حق رفاقت ادا کیا۔

”مروان،زید بن ثابت،طلحہ،علی ابن ابی طالب،حسن بن علی،کعب بن مالک،اور بھی جو لوگ عثمانؓ کے ساتھیوں میں سے تھے۔عثمانؓ کے مکان پہ پہنچے اور کچھ لڑکے اور عورتیں بھی جنازہ میں آ ملے۔عثمانؓ کوگھر سے باہر لاۓ ۔مروان بن حکم نے نماز جنازہ پڑھاٸی۔اس کے بعد یہ تمام احباب جنازہ کو بقیع کے مقام میں لاۓ جو حش کوکب کے قریب تھا۔وہاں دفن کیا۔

سنی کتب کتاب التہید،البدایہ ابن کثیر،تاریخ ابن خلدون،الکامل ابن کثیر،اور شیعہ دوستوں کی کتب شرح نہج البلاغہ لابن ابی الحدید الشیعی و دیگر جید کتب میں یہ واقع نقل ہے۔

یہ تھے چند اہم نکات جو عثمانؓ کی شہادت کے بارے پیش کیے۔سیدنا عثمانؓ کی خلافت دین اسلام کے کمال کارناموں سے بھری پڑی ہےعثمانؓ کی زندگی ہمیشہ اسلام کی راہ میں خرچ کرتے گزری۔اور محبت آل رسولﷺ ان میں کوٹ کوٹ کے بھری تھی سیدنا علیؓ کے نکاح اور شادی میں عثمانؓ کیطرف سے مخلصانہ اعانت اور امداد،عثمانؓ کا علیؓ کے نکاح کا گواہ ہونا،شیعہ سنی دونوں مسالک کی کتب کے جھروکوں میں نظر آٸیں گی۔عثمانؓ کے بغیر کسی بھی پیغمبر کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے کسی امتی کے گھر نہیں،یہ مقام صرف میرے عثمانؓ کا ہے۔علیؓ کی جانب سے عثمانؓ کے متعلق سابق الخیرات اور غیر معزبہونے اور جنتی ہونے کی گواہی،عثمانی خلافت میں علیؓ کا قرآن سنانا،علیؓ کا قرات عثمانیؓ کی سماعت،عثمانؓ کا علیؓ کو سواری عنایت فرمانا،عثمانؓ کا علیؓ کو دعوت طعام دینا،ہاشمیوں کا عثمانؓ کے حق میں بیانات، شیعہ سنی کتب میں سنہری حروف میں آج بھی درج ہے۔

عثمانیؓ خلافت میں بنوہاشم حضرات کے عہدے اور مناصب،عثمانؓ کا ہاشمی حضرات کی عظمت کو ملحوظ رکھنا،عباسؓ کا احترام،عباسؓ کی کرنے ہ عثمانؓ کا قصوروار کو سزا دینا،حضرت عباسؓ کا جنازہ عثمانؓ نے پڑھایا،علیؓ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ کا جنازہ عثمانؓ کے بیٹے ابان بن عثمانؓ نے پڑھایا،عبداللہ ابن جعفرؓ کا جنازہ بھی ابان بن عثمانؓ نے پڑھایا،

خلافت عثمانیؓ میں ہاشمی حضرات کا جہاد میں شریک ہونا،خراسان،طبرستان وغیرہ میں حسنین کریمین کی بہادری،عثمانیؓ خلافت میں نبی کریمﷺ کے رشتہ داروں کے مالی حقوق،علیؓ کیلیے خلافت عثمانیؓ میں عطیات،مالی حقوق کی اداٸیگی کا مسٸلہ شیعہ کتب سے پہے شہر بانو کا واقعہ،یہ سب واقعات بنی ہاشم و بنی امیہ کی آپس میں محبت کا ثبوت ہے جو شیعہ سنی دونوں مسالک کی کتب میں ملتا ہے۔

مجھے فخر ہے کہ میں اصحاب و آل رسولﷺ سے محبت رکھنے والا ہوں۔الحمداللہ تمام مسالک سب کا احترام واجب سمجھتا ہوں۔مولا کریم سے دعا ہے اللہ پاک ہم سب کو اصحاب و آلِ رسولﷺ سے سچی محبت نصیب فرماۓ،اور ہمارے حکمرانوں کو ان کے نقش و قدم پہ چلنے کی توفیق دے۔مالک کاٸنات تمام مسالک شیعہ سنی،اہلحدیث و دیگر کو امن و محبت سے رہنے اور ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کرنے کی توفیق دے۔آمین

سلام امام مظلومؓ
سلام سیدنا عثمانؓ
اتحادِ امت پاٸندہ باد

والسلام حسیب خان
خاکپاۓ درِ اصحاب و آلِ رسولﷺ
گڑھ مہاراجہ جھنگ