خلیفہ ثالث سیدنا عثمان اور آجکل کے حکمران؟
{ منیارہ نور }
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی
دس ذوالحجہ ابراہیم علیہ السلام کی ادائوں کی یاد میں جانوروں کی قربانی،18 ذوالحجہ دوہرے داماد رسولۖ، خلیفہ ثالث، جامع القرآن، کاتب وحی، ناشر القرآن پیکر شرم و حیائ، شہید مظلوم حضرت سیدنا عثمان غنی کی شہادت کا دن، مطلب یہ کہ اسلامی سال کا آخری مہینہ ذوالحجہ ہوں یا پہلا مہینہ محرم، قربانیوں اور شہادتوں کی داستانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
جامعہ مسجد رابعہ شادمان ٹائون ساہیوال میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس خاکسا ر نے عرض کیا کہ وہ سیدنا عثمان غنی ہی تھے کہ جن کے بارے میں خاتم الانبیائۖ نے فرمایا تھا کہ ”ہر نبی کا کوئی نہ کوئی رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہے” ، حضرت عثمان غنی کا شمار عشرہ مبشرہ صحابہ میں ہوتا ہے، وہ عشرہ مبشرہ صحابہ کہ جنہیں خاتم الانبیائۖ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی تھی، خلیفہ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق کی شہادت کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی، جانشین رسول ۖ مقرر ہوئے۔
آپ کے دور خلافت میں ہزاروں میل رقبہ مملکت اسلامی کا حصہ بنا، سندھ سے لے کر جبرالٹر تک ، آپ کے عہد خلافت میں پرچم اسلام لہرایا گیا، اسلام قبول کرنے سے قبل ہی آپ کا شمار مکہ کے معروف تاجروں میں ہوتا تھا، مال و دولت آپ کے گھر کی باندی تھی… مگر اسلام قبول کرنے کے بعد سیدنا عثمان نے اپنا سارا مال و متاع اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دیا۔
پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات تو بہت کی جاتی ہے، لیکن خلفائے راشدین، سیدنا ابوبکر صدیق، خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروق، خلیفہ ثالث سیدنا عثمان غنی اور خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضی کی سیرت و کردار کو اپنانے والا کوئی ایک بھی نہیں، خلفائے راشدین نے حکمرانی کا جو ماڈل پیش کیا… چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اس سے اچھا تو درکنار، اس کے ہم پلہ ماڈل بھی کوئی دوسرا پیش نہیں کرسکا اور کربھی نہیں سکے گا، اس لئے کہ خلیفہ ثالث سمیت چاروں خلفائ خاتم الانبیائۖ کے تربیت یافتہ اور فیض یافتہ تھے، ان کا شمار ان صحابہ میں ہوتا ہے کہ جن کو اللہ نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنی رضامندی کا سرٹیفکیٹ عطا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔ ترجمہ” وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ ان سے راضی ہوگیا” آج ہم نام لیوا تو صحابہ کرام، خلفائے راشدین اور اہل بیت اطہار کے ہیں لیکن ہماری اجتماعی زندگیاں ہوں یا انفرادی، ہماری سیاست ہو یا اقتدار کے ایوان، غرضیکہ کسی فیلڈ میں صحابہ والا کوئی ایک عمل بھی موجود نہیں۔
اقتدار کے ایوانوں کے راستوں سے ہم نے ”تقویٰ و طہارت” اور ”خوف خدا کو” دھکے دے کر دور کر دیا، چنانچہ اب جو جتنا بڑا گناہ گار، معصیت کار ،لٹیرا، وعدوں کو توڑنے والا، جھوٹا، دروغ گو ہوگا وہ بڑے سے بڑے منصب پر فائز ہوگا، منہ پھٹ، بدتمیز اور مخالف کی پگڑیاں اچھالنے والے ”وزارتوں” کے اہل قرار پانے لگے، آج پاکستان”ترقی” سے اس لئے محروم چلا آرہا ہے کیونکہ اس پر حکومتیں کرنے والے تقویٰ کی دولت سے محروم چلے آرہے ہیں، دنیا میں دو ہی راستے ہیں ایک شیطان کا راستہ یعنی کفر اور ایک رب رحمان کا راستہ، یعنی دین اسلام، کفریہ ممالک کے حکمران تو اپنے کفر و شرک پر پکے ہوں اور مسلمان ملکوں کے حکمران، آدھے تیتر، آدھے بٹیر بلکہ اس سے بڑھ کر عیسائیوں کو کہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، ہندوئوں، یہودیوں اور قادیانیوں کو کہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، مسلمان اکثریت سے ووٹ لے کر ایوان اقتدار میں پہنچنے والے جب بھی بات کریں تو ”اقلیت” ہی کے حق کی کریں، مسلمان اکثریت کو تو اسلام پسندی کے طعنے دیتے ہوئے نہ تھکیں اور خود کبھی ہولی، کبھی دیوالی اور کبھی ایسٹر کی مبارکبادیں دینے گرجوں اور مندروں تک جاپہنچیں، سن لیجئے کہ خدا اور مخلوق خدا کو دھوکا دینے والے ملک اجاڑ تو سکتے ہیں … مگر ملک میں کبھی ترقی اور خوشحالی کا باعث نہیں بن سکتے، جمہوریت کے دعویدار جن حکمرانوں سے ”اکثریتی آبادی” خوش نہ ہو، وہ ”اقلیتوں” کے پائوں بھی دھوکر پیتے رہیں … تب بھی ملک ترقی نہیں کرسکے گا، نام ریاست مدینہ کا اور سرکار کی اجازت سے لاہور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں کنجروں کا ڈانس، آخر یہ سب کیا ہے؟ وہ کون ہے کہ جو اس ملک میں بار بار اسلامی شعائر کی توہین کروا رہا ہے؟ وہ کون ہے کہ جو پاکستان میں بسنے والی اکثریت یعنی مسلمانوں کے حقوق پر دن دیہاڑے ڈاکے ڈال رہا ہے؟
میں ان نامراد ڈانسروں کے نام لکھ کر کالم کو پلید نہیں کرنا چاہتا، لیکن حکمرانوں سے ضرور کہنا چاہتا ہوں، جو حکمران مساجد کے تقدس کو پامال کرنے والوں کو سزائوں سے ”بچاتے” ہیں … وہ ان کے ساتھ ساتھ خود بھی رب کی گرفت میں آکر کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہوجایا کرتے ہیں، مجھے یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے بعد ، اسلام کی مقدس شخصیات اور شعائر اسلام کی توہین کے حوالے سے موجود دور پہلوں کو بھی مات دیتا ہوا نظر آرہا ہے، سیدنا عثمان غنی نے بیرونی امداد کے ذریعے ریاست مدینہ کو مضبوط نہیں کیا تھا بلکہ وہ تو خود غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی ضرورتیں اپنے مال سے پوری فرمایا کرتے تھے، ہمارے حکمرانوں کو امریکہ سے ایوارڈ مل جائے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے، حضرت سیدنا عثمان تو وہ تھے کہ جنہیں آقا و مولیٰ ۖ نے ”غنی” کا لقب عطا فرمایا تھا، یہودی مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو قیمتاً بھی پانی نہیں دیتے تھے … حضرت سیدنا عثمان غنی نے یہودی مالک سے پانی کاکنواں منہ بولی قیمت دے کر خریدا … اور پھر اسے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ کافروں کے لئے بھی وقف کر دیا، یہ یہود و نصاریٰ کیا جانیں ”انسانیت” کس چڑیا کا نام ہے، خدمت انسانیت کمال بخشا حضرت عثمان اور دیگر صحابہ نے۔
وما توفیقی الا باللہ












