خواتین یونیورسٹی جھنگ کیمپس کو یونیورسٹی آف جھنگ میں ضم کرنے کا اقدام حکومت پنجاب کو مہنگا پڑے گا۔ جماعت اسلامی ضلع جھنگ
جھنگ( سٹار نیوز آن لائن )خواتین یونیورسٹی جھنگ کیمپس کو یونیورسٹی آف جھنگ میں ضم کرنے کا اقدام حکومت پنجاب کو مہنگا پڑے گا۔
یہ بات جماعت اسلامی جھنگ کے ذمہ داران جناب بہادر خان جھگڑ،فرید احمد مگھیانہ،ڈاکٹر عبدالجبار خان،محمد ابراربابر انصاری اورمخدوم جواد شاہ ایڈووکیٹ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہی۔انہوں نے کہا کہ خواتین یونیورسٹی کیمپس پندرہ سال سے کام کر رہا ہے۔سینکڑوں طالبات ہر سال یہاں سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتی ہیں۔اس وقت بھی بی ایس آنرز اور ایم فل کے ایک درجن سے زائد مضامین پڑھائے جا رہے ہیں۔1400طالبات زیر تعلیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پندرہ سال بعد خواتین یونیورسٹی کی اپنی عمارت ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈ سے تعمیر ہوئی ہے جس پر قبضہ کرنے کے لئے پنجاب حکومت نے اس کو اپنے کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے جبکہ یہ معاملہ ہائی کورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔پنجاب حکومت اور تمام متعلقہ اداروں کو نوٹس بھی جاری ہو چکے ہیں۔اس کے باوجود پنجاب حکومت ہر قیمت پر خواتین یونیورسٹی کیمپس جھنگ کا یونیورسٹی آف جھنگ میں انضمام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پنجاب حکومت کا یہ اقدام مخلوط تعلیمی نظام اور مخلوط معاشرہ قائم کرنے کے عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب حکومت کو انتباہ کرتے ہیں کہ جھنگ کے عوام اس اقدام کو ہر گز قبول نہیں کریں گے۔ہم جھنگ کے اراکین پنجاب اسمبلی جن میں کئی وزیر اور مشیر بھی شامل ہیں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کایہ غیر منصفانہ فیصلہ آپ کے گلے کا طوق بن جائے گا اور جب آپ اپنے حلقوں میں آئیں گے تو قدم قدم پر آپ کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ہم اس بات کا بھی اعلان کرتے ہیں کہ جھنگ کی تمام دینی،سیاسی۔سماجی اور تجارتی تنظیموں کے مشترکہ اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں اس انضمام کو رکوانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔
رپورٹ سیکرٹری نشرواشاعت
جماعت اسلامی ضلع جھنگ












