*ٹوبہ ٹیک سنگھ: جاو یہ باہر میڈیکل سٹور سے ایس 11 کا بلیڈ لے کر آو ہسپتال انتظامیہ و ایم ایس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت*
ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال میں تڑپتی انسانیت،کوئی پرسان حال نہیں۔۔۔۔
*مسیحا ہی قاتل بن جائیں تو شکوہ کسی غیر سے کیسا*
ٹوبہ ٹیک سنگھ۔صحت کے شعبہ کو انقلابی جدید بنانے کی دعویدار سابقہ حکومتیں عالمی این جی اوز اور اداروں سے کروڑوں ڈالر لینے کے باوجود صحت کے شعبہ میں عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں بری طرح ناکام رہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی روش نہ بدلی تو انسانیت کے جنازے نکلیں گے۔۔۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ۔بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھے نام نہاد عوامی لیڈر ہمیشہ عوام سے دھوکہ کرتے آئے ہیں۔سابق حکومت کا دعویٰ کہ صحت کے میدان میں عوام کو بڑا ریلیف دیا۔۔۔تو اس امر کی نفی
ٹوبہ میں روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ *جہاں آج بھی تڑپتی انسانیت بے یارومددگار* مریض ذلیل وخوار ہو رہے ہیں
ٹوبہ ٹیک سنگھ۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ایمر جنسی وارڈ میں جب بھی کوئی مریض جاتا ہے تو ڈاکٹرز پرچی بنا کر دے دیتے ہیں جب ہسپتال میں موجود فارمیسی پر پرچی پر لکھی میڈیسن لینے پہنچتے ہیں تو حکم مل جاتا ہے باہر سٹور پر سے لے کر آئیں۔۔۔۔ یہاں تک کے ہسپتال کی فارمیسی میں Soldering thread تک موجود نہ ہے۔ اور سٹاف سارا سارا دن موبائل فون پر مصروف رہتا ہے۔ ہیں جو کہ CCT کیمرے میں دیکھا جاسکتا ہے ۔۔۔۔ کوئی اپنی بے بسی بتائے تو کس کو بتائے. غریب مریض دھکے کھا رہے ہیں جیسے وہ انسان ہی نہیں ہیں۔ اور سستی سے سستی میڈیسن بھی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں موجود نہ ہے۔ ڈاکٹر حضرات پرائیویٹ میڈیکل سٹورز پر ریفر کردیتے ہیں تکلیف میں ہونے کے باوجود سب ڈاکٹروں کی منتیں کرنی پڑتی ہیں غریب عوام کے ٹیکس کے پیسہ پر ڈاکٹرز و سٹاف کی اکڑ سمجھ سے بالاتر ہے۔ عوام کا کہنا تھا کہ ایسے لگتا ہے ہم انسان نہیں حیوان ہیں۔ ان ڈاکٹرز کو ڈاکٹر کہنے میں بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ ڈاکٹر انسانیت کے دشمن نہیں ہوتے۔ ان کے ضمیر اور ایمان زندہ ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت سے شکوہ ہے کہ کیا نیا پاکستان ایسا ہو گا جہاں درندوں کا راج ہو گا؟
لوگوں کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان، وزیر اعظم عمران خان، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی و صوبائی وزرائے صحت، ڈپٹی کمشنر ٹوبہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں کہ غفلت کے مرتکب عناصر کے خلاف کاروائی کی جائے۔
*اب بارود کا خوف کہاں ہے باقی ۔ ۔ ۔*
*مسیحاؤں نے جو قاتل کا علم اٹھا رکھا ہے.*
رپورٹ۔ *سید خلیل الرحمن شاہ جرنلسٹ*












