لاہور، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بلیو اکانومی پالیسی جہاز رانی کے شعبے کو نئی زندگی دے گی، پاکستان غیرمعمولی بحری صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھائے گا، بلیو اکانومی سے قیمتی زرمبادلہ بچانے اور بادبانی سے منسلک افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ جہاز رانی کا شعبہ زندہ کرنے، قیمتی زرمبادلہ بچانے اور بادبانی سے منسلک افراد کیلئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کیلئے نئی اور متحرک ’’بلیو اکانومی پالیسی‘‘ کو حتمی شکل دینے پر میں وزارت بحری امور کومبارکباد پیش کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ ہم یقینی بنائیں گے کہ پاکستان اپنی غیر معمولی بحری صلاحیتوں سے بھر پوراستفادہ کرے۔
واضح رہے گزشتہ ایک اجلاس میں وزیراعظم عمران خان2020 کوبلیو اکانومی کا سال بھی قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے گوادر بندرگاہ سے جڑے ہوئے منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ تزویراتی اہمیت کے پیش نظر یہ بندرگاہ مستقبل میں ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہو گی۔
وزارت بحری امور کے تحت جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد ممکن بنانے کے لئے بین الوزارتی رابطے اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مستقل مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس کو ’’بلیو اکانومی‘‘ کے مجوزہ روڈ میپ پر عملدرآمد کے حوالہ سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر برائے بحری امور نے بتایا کہ ملک میں اس شعبہ کی بے پناہ صلاحیت کے باوجود ماضی میں اس شعبہ کو نظرانداز کیا گیا۔
بلیو اکانومی کی ملک میں بے پناہ صلاحیت کے پیش نظر موجودہ حکومت اس شعبہ کی ترقی کے لئے روڈمیپ وضع کر رہی ہے جس پر عملدرآمد کی بدولت نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ روزگار ، سیاحت، قابل تجدید توانائی کے بھی بھرپور مواقع پیدا ہوں گے۔ اس امر کے پیش نظر وزیراعظم نے 2020ء کو بلیو اکانومی کا سال قرار دیا ہے۔جامع شپنگ پالیسی 2019ء کی بدولت سرمایہ کاروں کو آسانی اور سہولیات کی فراہمی، 4.7 بلین روپے کے قرضے کی واپسی، 2 نئے آئل ٹینکرز کی فلیٹ میں شمولیت، وزیر اعظم کی کفایت شعاری مہم کے تحت گاڑیوں کی نیلامی، نئی بوٹ بیسن جیٹی کی فعالی، ڈراء بلک کارگو ٹرمینل کے لئے 11 کمپنیز کی شارٹ لسٹنگ، 2.2 بلین روپے کی ریکوری، پورٹ قاسم اتھارٹی کے منافع میں گزشتہ دو سال کے دوران ریکارڈ اضافہ، کوروناوائرس کی وبا کے باوجود 270 بحری جہازوں کی کارگو ہینڈلنگ، وزیراعظم کے گرین پاکستان وژن کی روشنی میں ایک ملین مینگروو پودوں کی جاری شجر کاری، پورٹ قاسم اتھارٹی کے ماسٹر پلان کے لئے تفصیلی سٹڈی کی تکمیل، نئے ٹرمینلز کے قیام، انفراسٹرکچر کی بحالی و مجوزہ منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر بندرگاہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا آغاز ہو چکا ہے












