جھنگ(نامہ نگار) تھانہ کوتوالی۔سٹی۔سیٹلائیٹ ٹاون۔صدر۔گڑھ مہاراجہ ۔احمدپورسیال۔قادرپور۔اورتھانہ اٹھارہ ہزاری وغیرہ کے تفتیشی افسران کی مثلیں پرائیویٹ اشخاص لکھنے لگے
تھانہ اٹھارہ ہزاری میں تعینات تفتیشی افسران نے مثلیں لکھنے کے لیے پرائیویٹ افراد کی خدمات لے رکھی ہیں۔ مقدمات بڑے ہوں یا چھوٹے مثلیں پرائیویٹ افراد ہی لکھتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مثلیں لکھنے والے پرائیویٹ افراد لفظی ہیر پھیر کے ماہر ہیں۔مختلف سنگین نوعیت کے مقدمات میں یہ پرائیویٹ لکھاری ملزمان سے سازباز ہو کر اور رشوت وصول کرکے لفظی ہیر پھیر کے زریعے مقدمے کی نوعیت کو کمزور کر دیتے ہیں جس سے ملزمان اصل سزا سے بچ جاتے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ پرائیویٹ لکھاری مدعیان سے عام مقدمے کی مثل کے دو ہزار اور درمیانی دفعات کے مقدمے کے تین ہزار جبکہ سنگین نوعیت کے مقدمات کی مثل لکھنے کےلیے پانچ سے دس ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔شہریوں نے بتایا کہ یہ پرائیویٹ لکھاری مختلف تفتیشی افسران سے مثلیں لکھنے کا کام باقاعدہ ٹھیکے کے طور پر لیتے ہیں اور سائلین سے رقم وصول کرکے اپنی جیبیں بھرنے کیساتھ ساتھ تفتیشی افسران کی جیبیں بھرنے کا بھی کام کرتے ہیں۔ عوامی و سماجی حلقوں نے آر پی او فیصل آباد راجہ رفعت مختار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔