شہیدِ مُصلائے رسول فاتح عرب عجم سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ
تحریر:-حسیب خان
خاکپاۓ درِ اصحاب و آلِ رسولﷺ
“یکم محرم الحرام،یوم شہادت امیر المومنین،خلیفتہ المسلمین،سسر امام الانبیا ٕ ﷺ،انتخابِ رب،دعاۓ پیمبرﷺ،امام العادلین،ناصر دین المبین،امام صحابہؓ،فاتح بیت المقدس و ایران،فاتح اعظم،فاروقِ اعظم،حضرت سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ۔“
سیدنا عمر ابن خطابؓ کا شرہ نسب،ابن نفیل ابن عبد العزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزاح ابن عدی بن کعب،کنیت ابو حفص تھی،آپؓ کی والدہ حنتمہ بنت ہاشم ابن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھیں۔
آپؓ کی اولاد پاک میں سے عبداللہ و عبدالرحمنٰ اور حفصہؓ تھے۔ان کی والدہ زینب بنت مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ ابن جح تھیں۔
زید اکبر جن کا کوٸی پس ماندہ نہیں اور رقیہ،ان کی والدہ ”ام کلثوم بنت علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم تھیں۔ام کلثوم کی والدہ سیدہ فاطمہ بنت رسولﷺ تھیں۔“
ان کے علاوہ آپؓ کے 5 بیٹے اور 2 بیٹیاں اور تھیں۔
سیدنا عمرؓ دعاۓ پیمبرﷺ کی عطا بن کے اسلام میں داخل ہوۓ۔ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے دعا مانگی کہ اے اللہ ان دو میں سے کسی ایک سے جوتیرے نزدیک زیادہ محبوب ہو،اسلام کو عزت دے،عمر ابن خطابؓ یا ابو جہل ابن ہشام سے۔“چنانچہ اللہ نے عمر ابن خطابؓ کو دین اسلام کیلیے پسند فرمایا۔
محمد بن عبید کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے کو اس حالت میں دیکھا تھا کہ عمرؓ کے اسلام لانے تک بیت اللہ میں نماز پڑھنے کی استطاعت نہ تھی،جب عمرؓ اسلام لاۓ تو انہوں نے لوگوں سے جنگ جی ،یہاں تک کہ انہوں کے ہمیں نماز کیلیے چھوڑ دیا۔
صلح بن کیسان سے مروی ہے کہ ابن شہاب نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا کہ اہل کتاب ہی سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے عمرؓ کوفاروق کہا۔مسلمانوں نے یہ لقب انہیں اہل کتاب کے قول سے اختیار کیا تھاہمیں یہ معلوم نہیں ہوا کہ رسولﷺ نے اس کا کچھ ذکر بھی کیا۔نہ ہمیں یہ معلوم ہو کہ ابن عمرؓ نے یہ کہا ”سواۓ اس کے کہ عمرؓ کے مناقب صالحہ میں ذکر کیا جاتا اور ان کی مدح و ثنا کی جاتی تھی۔راوی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ عبداللہ ابن عمرؓ کہا کرتے تھے کہ رسولﷺ نے فرمایا” اے اللہ عمرؓ سے اپنے دین کی تاٸید کر“
ایوب بن موسیٰ سے مروی ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا اللہ نے حق کو عمرؓ کے قلب و زبان پر کیا ہے اور وہ فاروق ہیں کہ اللہ نے ان کے ذریعے سے حق و باطل میں فرق کر دیا۔
ابی عمر بن ذکون سے مرقی ہے کہ میں نے عاٸشہؓ سے پوچا کہ عمرؓ کا نام فاروق کس نے رکھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبیﷺ نے۔
سیدنا عمرؓ نےسیدنا صدیق اکبرؓ کی وفات اقد کے بعد منصب خلافت سنبھالا۔جب صدیق اکبرؓ کا آخری وقت قریب آیا تو جہاں آپ نے مختلف وصایا و نصاٸح اقارب و اجانب کو فرماۓ وہاں مسمانوں کے مسٸلہ خلفت کی طرف خصوصی توجہ دلاٸی۔اسلام اوع مسلمانوں کی خیر خواہی کرتے ہوۓ انہوں نے یہ تدبیر کی کہ اپنا قاٸم مقام عمرؓ بن خطاب تجویز فرما کرعثمانؓ کے ہاتھوں مسمانوں کے سامنے یہ تحریر پیش کی ہے اس تحریر میں سے جس کو چاہو اپنا خلیفہ بنا لو۔تمام لوگوں نے رضا مندی ظاہر کی اورخاص سیدنا علیؓ نے اعلان فرمایا کہ اگر عمرؓ کے علاوہ کسی کو امیر بنایا تو ہم بیعت نہیں کریں گے۔پھر علیؓ سمیت تمام صحابہؓ نے عمرؓ کی بیعت کی۔ (بحوالہ کتب طبقات ابن سعد،اسد الغابہ تذکرہ عمر ابن خطاب،ریاض النصرہ،تاریخ اخلفا ٕ،الصواعق المحرقہ)
خلافت سنبھالتے ہی سیدنا عمرؓ نے سلطنتِ اسلام کی ذمہ داریوں کو ازخود دیکھا۔اور تمام گورنرز کو سختی سے حکم دیا کہ سلطنت اسلامیہ میں موجود نہ صرف مسلمان بلکہ تمام مذاہب کو ان کے حقوق دیے جاٸیں گے۔
”خلافت سنبھالتے ہی آپؓ نے علیؓ کو کہا کہ آپؓ لوگوں میں تنازعات کے فیصلے کیجیے اور جنگی امور سے آپ علیحدگی اختیار کیجیے۔علیؓ و سطنت اسلامیہ کا قاضی مقرر کیا گیا۔سیدنا علیؓ عہد فاروقی میں مختلف امور میں فیصلے کیا کرتے تھے۔“ (بحوالہ کتاب سیرت عمرؓ بن خطاب الابن الجوزی،مطبع مصر،البدایہلابن کثیر،کتاب الآثار لامام ابی یوسف،المصنف لعبد الرزاق،کتاب السنن لسعید بن منصور الخراسانی المکی)
سیدنا عمرؓ نے خلافت سنبھالتے ہی جہاں دین اسلام 22لاکھ مربع میل تک پھیلا وہی آپؓ نے ڈاک کا نظام،نہری نظام،فوجوں کی تنخواہ مقرر کرنا،ڈاک کا نظام،ٹیکس کا اطلاق،مسجدوں میں امام کی تنخواہ،سال میں ایک دن اسلحہ کی نماٸش،باجماعت تراویح،عشور کا اجرا ٕ،نٸے شہروں اور صوبوں کا قیام،پولیس کا قیام،جیل کا نظام،بیت المال کا نظام،سنہ ہجری کا آغاز،لازمی تعلیم کاحکم،مسجدوں میں روشنی جیسے بے شمار کارنامے آپؓ کے سنہری دور میں ہی شروع ہوۓ۔
محرم کے توسط سے میں یہاں سیدنا عمرؓ کی خانوادہ نبوتﷺ سے عقیدت اور محبت کا تذکرہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
سیدنا عمرؓ کو رسول اللہﷺسے محبت تو بے پناہ تھی ہی اس کے ساتھ ہی آپؓ اہلبیت اطہار سے بھی بے انتہا محبت کرتے تھے۔اور رسالت مآبﷺ کی اولاد شریف کیساتھ ہمیشہ پورے احترام و تکریم،اعزاز و اکرام کا تعلق قاٸم رکھتے تھے۔فاروقی زندگی کے حالات اس پر شاہد و گواہ ہیں۔
چناچہ جس وقت حضرت فاطمہؓ کی خواستگای اور خطبہ کا مسٸلہ پیش آیا تو اس سعادتمندی کے حصول کیلیے علیؓ کو آمادہ کرنے میں عمرؓ اور صدیق اکبرؓ دونوں نے مکمل کوشش کی۔نکاحِ علیؓ و فاطمہؓ کے گواہ شیخینؓ تھے۔ جیسا کہ علیؓ خود فرماتے ہیں کہ جب میں گھر سے رسول خداﷺ کے گھر سے مسجد کی طرف جانے لگا تو راستے میں ابوبکرؓ و عمرؓ سے ملاقات ہوٸی اور وہ لوگ میرے ساتھ مسجد کی طرف چلے آۓ۔۔۔۔۔پھر مسجد نبوی میں نکاح منعقد ہوٸی۔ابو بکر و عمؓر پہلے ہی وجود تھے۔باقی مہاجرین و انصار کو بھی بلایا گیا۔پھر رسول خداﷺ نے خطبہ نکاح پڑھا اور فرمایا ”یعنی مجھے خدا نے حکم دیا کہ فاطمہ اور علی کا نکاح رو اور میں تم سب کو اس نکاح کا گواہ بناٶں۔“ (سنی کتب طبقات ابن سعد،ابن کثیر،ابن عساکر،رحما ٕ بینھم،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیعہ کتب المناقب خوارزمی،کشف الغمہ،بحار الانوار،)
سیدنا عمرؓ سیدہ فاطمہؓ کا بےحد احترام کیا کرتے تھے۔چناچہ حاکم نیشا پوری نے مستدرک میں درج کیا ہے کہ ” عمرؓ ابن خطاب سیدہ فاطمہؓ کے پاس آۓ اور یہ ذکر کیا کہ آپؓ رسولﷺ کو سب سے زیادہ پیاری ہیں اور اللہ کی قسم میرے نزدیک بھی نبی کریمﷺ کے بعد آپؓ تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہیں۔“ (الستدرک للحاکم،کنزالعمال)
رسالت مآبﷺ کی وفات اقدس کے بعد سیدہ طفاطمہؓ بہت محزون و مغموم رہا کرتی تھیں۔قریباً چھ ماہ بعد 11ہجری میں ان کی وفات ہوٸی۔سیدہ فاطمہؓ کی عیادت کے دوران سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ روز سیدہ کی عیادت کو جایا کرتے۔
سیدہ فاطمہؓ کی وفات اقدس پہ جنازہ پہ سیدنا ابو بکرؓ و عمرؓ شامل ہوۓ اور بہت مغموم ہوۓ۔یہ مسٸلہ امام زین العابدینؓ اور امام باقرؒ سے مختلف کتابوں میں مروی ہے۔
” جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سے اور وہ اپنے والد زین العابدینؓ سے نقل کرتے ہیں کہ مغرب و عشا ٕ کے درمیان فاطمتہ الزاہرہؓ کی وفات ہوٸی۔ان کی وفات پر ابو بکر،عمر،عثمان،زبیر،عبدالرحمن بن عوف یہ سب حضرات تشریف لاۓ۔جب نماز جنازہ کا وقت آیا تو علیؓ نے ابوبکرؓ کو کہا کہ آپ جنازہ پڑھاٸیں۔ابوبکرؓ نے جواب دیا اے ابوالحسن آپ کی موجودگی میں؟انہوں نے جواب دیا کہ ہاں۔آپ پیش قدمی فرماٸیں آپ خلیفتہ الرسولﷺ ہیں ۔اللہ کی قسم آپ کے بغہی کوٸی دوسرا شخص فاطمہؓ کا جنازہ نہیں پڑھاۓ گا۔تب ابوبکرؓ نے جنازہ پڑھاٸی اور رات و دفن کی گٸیں۔“
بہرحال سیدنا عمرؓ کے بارے اگر لکھنا شروع کروں تو وقت ختم ہو جاۓ مگر آپؓ کے مناقب ختم نہ ہوں۔آپؓ کا دور خلافت ایک سنہری دور تھا۔اسلام دنیا کے کونے کونے میں پھیلتا جا رہا تھا۔ایک مورخ کہتا ہے کہ اگر عمرؓ 10سال اور زندہ رہ جاتے تو اسلام پوری دنیا میں پھیل جاتا۔مگر اسلام کا تیزی سے یوں پھیلنا شاید منافقین و کفار کو منظور نہیں تھا۔انہوں نے ایک پلان بنایا اور ایک مجوسی و نسل ابو لولو فیروز نامی بدبخت کو تیار کیا کہ وہ اساام کی اس عظیم شخصیت کو شہید کرے تاکہ اسلام کو دبا دیا جاۓ۔باآخر اس بدبخت لعنتی نے 27 ذوالحجہ کو فجر کی نماز کے وقت مصلی رسولﷺ پہ عمرؓ و تیز دھار خنجر سے وار کیا۔آپؓ 3 دن بیمار رہےاور یکم محرم کو شہادت ہوٸی۔مگر اسلام دشمنوں کو کیا پتا کہ سالت مآپﷺ جو اسلام تمام صحابہؓ کے دلوں میں بھر کر گۓ ہیں وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا ،اسلام پھیلنے کیلیے آیا تھا نہ کہ دبنے کیلیے۔سیدبا عمؓر کو سیدہ عاٸشہؓ کی اجازت کے بعد روضہ رسولﷺ میں دفن کر دیا گیا۔
آج کےدور کے ہر حکمران کو خلفا ۓ راشدین ؓ کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہیے کہ کس طرح انہوں نے حکومت کی۔اللہ کریم سے دعا ہے مولا کریم ہمیں خلفا ۓ راشدینؓ کی زندگی پہ مکمل عمل کرنے کی توفیق دے اور ان کا احترام ہمارے دلوں میں سدا سلامت رہے۔آمین












