سوشل پالیسی کے بانی ” سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ”
تحریر ۔عابی مکھنوی
۔۔۔۔۔۔
ایک لیکچر کی تیاری کے سلسلے میں “” سوشل پالیسی “” سے متعلق تفصیلی معلومات کی تلاش کے لیے گُوگل بھائی کی سرچ بار پر “” سوشل پالیسی “” لکھ کر انٹر کا بٹن دبایا تو گُوگل کی طرف سے پیش کردہ پہلے لنک میں ہی کچھ ایسا دیکھنے کو مِلا کہ روح سرشار ہو گئی !!!
اکثر “” دیسی لبرل “” اور “” دیسی سُرخے “” بھائی ہمیں بنیادی انسانی حقوق کا درس دیتے نظر آتے ہیں !!
وہ کہتے ہیں کہ کارل مارکس اور اُس کے ہمنواؤں کا گہرا مطالعہ کرو !! کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ اِن صاحبان نے انسانیت کی گود کو “” امن و آشتی “” عطا فرمائی !! بھوکے اور بے کس لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری لائی !! تُم نِرے جذباتی اور سطحی شاعر ہو !! ایک طرف غریب اور محروم طبقات کی نمائندگی کا دعویٰ ہے اور ساتھ مذہب کا منجن بھی بیچے جا رہے ہو !!
میرا سادہ سا جواب ہوتا ہے !!
“” پیارے بھائی جوہڑ میں پانی گندا ہو تو اُس کی گہرائی چیک کرنا بے وقوفی ہے !! جتنا سطح سے نیچے جاؤ گے کثافت بڑھتی ہی چلی جائے گی ۔ ”
میں نے کبھی قرآن و حدیث کے حوالے نہیں دیے !! ہمیشہ عقلی استدلال کیا ہے ۔ جن کتابوں کو یار لوگ مانتے ہی نہیں اُن سے دلیل دینا یار لوگوں کی حقوق تلفی سمجھتا ہوں “”
گُوگل کی طرف سے پیش کردہ لنک “” وکی پیڈیا “” کاتھا ۔ وکی پیڈیا کا کوئی تعلق نہ مکہ سے ہے اور نہ ہی مدینہ سے !! وکی پیڈیا رائے ونڈ اور فیضان مدینہ سے بھی کنٹرول نہیں ہوتا !! وکی پیڈیا جماعت اسلامی کی ویب سائٹ بھی نہیں اور اب تک اِس کا کوئی تعلق منہاج القرآن یا ڈاکٹر اسرار صاحب کی تنظیم اسلامی سے بھی ثابت نہیں ہو سکا !!
“” سوشل پالیسی “”کے حوالے سے “” وکی پیڈیا “”پر موجود مختتصر معلومات کی سمری کچھ یوں ہے ۔
پہلے حصے میں “” سوشل پالیسی “” کی تعریف ہے جس کے مطابق “” سوشل پالیسی حکومتی اور سیاسی سطح پر تشکیل پانے والے قواعد کو کہتے ہیں ۔ یہ پالیسی ایسے رہنما اصولوں ، قانون سازی اور اقدامات سے تعلق رکھتی ہے جو انسانی بھلائی کی خاطر ہوں اور جس کے نتیجے میں فرد کا معیار زندگی بلند ہو “” مزید حوالوں سے بھی “” سوشل پالیسی “” کی تعریف وضاحت کے ساتھ کی گئی ہے ۔
دوسرے حصے میں “” سوشل پالیسی “” کی مختصر تاریخ ہے جس کا مفہوم کُچھ یُوں ہے !!
“” اولین شواہد جو ہمیں تاریخ میں دستیاب ہیں اُن کے مطابق ریاست کی سطح پر انسانی فلاح و بہبود کے لیے پہلی حکومتی مداخلت چھٹی صدی عیسوی میں اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر بِن خطاب (رض) کی طرف سے کی گئی ۔ اُنہوں نے زکوٰت اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی حکومتی آمدن کو پینشن ، کم آمدنی والوں کی مالی مدد ، بچوں کی بہبود اور معاشرے میں موجود غیر مُسلم شہریوں کے حق میں استعمال کیا “””
سوشل پالیسی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے “” وکی پیڈیا ویب سائٹ “” چھٹی صدی عیسوی سے براہ راست اٹھارویں صدی عیسوی میں چھلانگ لگاتی ہے اور خبر دیتی ہے کہ مغرب میں “” سوشل پالیسی “” کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے !!!
جان سے پیارے “” دیسی اور بدیسی لبرل بھائیو!! اور سُرخ بتی کے پیچھے بھاگتے “”سُرخ جاں نثارو !!! اِتنی سی وجہ ہے کہ میرا رِشتہ “” محمد عربی ﷺ “” سے کمزور نہیں پڑتا !! آکسفورڈ اور کیمبرج کی پیدائش کے چھ سو سال بعد آپ کے مفکرین جس کام کا آغاز کرتے ہیں !! میرے کریم نبی ﷺ کے گِرد چمکتے ستاروں (رض) میں سے ایک ستارہ(رض) جسے دُنیا عمر بِن خطاب (رض) کے نام سے جانتی ہے بارہ سو سال قبل ایسے نظام کو عرب تا غرب و شرق نافذ کر کے دِکھاتا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب تمھیں “” سُرخ آندھی “” کے نام سے پُکارا جاتا تھا !! اب وہ آندھی نہیں محض دُھول ہے !!
میں اکثر “” سُرخوں “” کو موضوع اس لیے نہیں بناتا کہ اِس سے اِسلام کا کوئی بڑا معرکہ برپا ہے ۔ جلی ہوئی رسی ہوا کا سامنا بھی نہیں کر سکتی !! یہ جو ہلکا پُھلکا لِکھتا ہوں صرف اِس لیے کہ تُم محروم اور محکوم طبقے کی ہمدردی کی آڑ میں پہلا نظریاتی حملہ دِینِ مُحمدی ﷺ پر کرتے ہو !! سادہ لوح مُسلم نوجوان تمھاری رنگین طلسماتی باتوں میں آکر دُنیا کے ساتھ دین سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں !! میری کوئی ایک پوسٹ بھی دِین اِسلام کے حوالے سے متذبذب کسی نوجوان ، بوڑھے ،بھائی بہن کے کام آ گئی تو سمجھوں گا کہ صِلہ مِل گیا !!!
باقی رہا ٹکراؤ تو چند ماہ قبل ہی کہا تھا کہ “” تُم رِنگ سے باہر ہو !!! اپنے ڈرائنگ رُوم میں بیٹھ کر ہلکی پُھلکی بُھوک میں ہلکے پُھلکے ٹک کے ہمراہ دودھ پتی کا کپ تھامے فلسفے سُلجھاؤ !! “”
ہم میدان میں تھے اور پندرھویں صدی آ لگی ہے آج بھی میدان میں ہیں !!! اور یہ میدان یُوں ہی شرق تا غرب اور شمال تا جنوب تا قیامت سجا رہے گا !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوشل پالیسی کے بانی ” سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ” تحریر ۔عابی مکھنوی
419












