امام العاشقین سیدنا ابوبکرصدیق

{ منیارہ نور } کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

گزشتہ دنوں ایک ملعون نے خلیفہ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر کی شان میں گستاخی کرکے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ‘ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے’ آج کا مینارہ نور حضرت سیدنا صدیق اکبر کے مشکبار تذکرے سے اس لئے مزین کر رہا ہوں تاکہ اس کی برکت سے مجروح انسانی دلوں کو سکون مل سکے۔
ان دو کپڑوں کو دھو کر انہیں میں مجھے کفن دے دینا’ کیونکہ فوت شدہ کے مقابلے میں زندہ آدمی نئے کپڑوں کا زیادہ حقدار ہوتا ہے’ آپ کی لخت جگر ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ نے سرور دو عالمۖ کے خلیفہ اول اور اپنے سربلند بابا کو نمناک آنکھوں کے ساتھ دیکھا اور گردن جھکا دی۔
یہ الفاظ اس جلیل القدر شخصیت کے ہیں کہ جس سے اللہ کے محبوبۖ سے پوچھا تھا کہ ابوبکر! گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو’ تو سیدنا ابوبکر صدیق نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہۖ گھر والوں کیلئے اللہ اور اس کے رسولۖ ہی کافی ہیں۔
آقاۖ نے فرمایا تھا کہ جتنا مجھے سیدنا ابوبکرصدیق کے مال سے فائدہ پہنچا ہے اتنا کسی کے مال سے نہیں پہنچا… یہ سن کر حضرت امام صدیق رو پڑے اور عرض کیا کہ ”میں اور میرا مال کیا چیز ہے جو کچھ ہے سب آپ ہی کے طفیل ہے۔
حضرت سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا…تاریکیاں پانچ ہیں اور ان کے چراغ بھی پانچ ہیں’ حب دنیا تاریکی ہے اور اس کا چراغ تقویٰ ہے’ گناہ تاریکی ہے اور اس کا چراغ توبہ ہے’ قبر تاریکی ہے’ اس کا چراغ لاالہ الااللہ محمد الرسول اللہ ہے آخرت تاریکی ہے اور اس کا چراغ نیک عمل ہے’ پل صراط تاریکی ہے اور اس کا چراغ یقین ہے۔
حضرت سیدنا صدیق اکبر ایک اور موقع پر ارشاد فرماتے ہیں کہ آٹھ چیزیں آٹھ چیزوں کی زینت ہیں…پرہیز گاری زینت ہے فقر کی’ شکر زینت ہے دولت مندی کی’ صبر زینت ہے مصیبت کی’ تواضع اور عاجزی زینت ہے شرف و بزرگی کی’ حلم زینت ہے عالم کی’ فروتنی اور عاجزی زینت ہے طالب علم کی’ احسان نہ جتانا زینت ہے احسان کی’ اور خشوع و خضوع زینت ہے نماز کی۔
حضرت عمرو بن العاص فرماتے ہیں ” میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ۖ آپ ۖ کو تمام انسانوں میں سب سے زیادہ کون محبوب ہے ؟فرمایا عائشہ میں نے عرض کیا اور مردوں میں سے ؟ فرمایا ان کے والد ، میں نے عرض کیا پھر کون فرمایا عمر بن خطاب( بخاری و مسلم)
حضرت ابو بکر صدیق کے اس اعتماد اور محبت کی بنا پر حضور ۖنے فرمایا ” ابو بکر کی فضیلت نماز ، تلاوت اور روزوں کی کثرت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے دل میں قرار پانے والی ایک اعلیٰ چیز کی وجہ سے ہے جو کہ میری محبت ہے۔
9 ھ میں غزوہ تبوک کے موقع پر حضور نبی اکرم ۖنے مسلمانوں سے کہاکہ وہ راہ خدا میں اپنا اپنا مال لائیں تاکہ مسلمانوں اور مدینہ کے تحفظ اور دفاع کے انتظامات کئے جاسکیں۔اس وقت حضرت عمر فاروق مدینہ کے لوگوں میںزیادہ متمول نظر آتے تھے لہٰذا اس وقت حضرت عمر نے خیال کیا کہ وہ اس بار حضرت ابو بکر سے سبقت لے جائیں گے’ اس لئے حضرت عمر بڑی جلدی میں اپنے گھر گئے اور بہت سامال و متاع لے کر حضورنبی اکرم ۖ کی خدمت میں حاضر ہوگئے … اس قدر قربانی اور جانثاری دیکھ کر نبی رحمتۖنے بے حد خوش ہو کر استفسار فرمایا ”اے عمر کیا اپنے گھر والوں کے لئے بھی کچھ چھوڑ آئے ہو کہ نہیں ؟ اس پر حضرت عمرنے جواب دیا کہ” ہاں آدھا حصہ اپنے بال بچوں کے لئے چھوڑ آیا ہوں۔ ”اسی اثنا میں حضرت ابو بکر صدیق ایک کمبل اوڑھے بہت سا سامان لے کر حاضر خدمت ہوئے آپۖ نے ان سے بھی یہی سوال دہرایا ؟ حضرت ابو بکر صدیق جوسب کچھ بارگاہ نبوت ۖ میں پیش کر چکے تھے ، نے انکساری اور عقیدت سے جواب دیا ”میں اپنے اہل خانہ کے لئے اللہ اور اس کے رسول ۖ کی محبت چھوڑ کر آیا ہوں ”یہی فقر کی انتہاء ہے کہ نہ ظاہر میں محبوب کے سوا کسی شے کی طلب نہ باطن میں محبوب کے سوا کسی کی محبت حضرت ابو بکر صدیق کے اسی ایثار و قربانی پر اللہ تعالیٰ نے راضی ہو کر یہ آیات نازل کیں ۔
ترجمہ : اور آگ سے بچے گا وہ بہت متقی جو اپنا مال خرچ کرتا ہے اور کسی کا اس پر احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے گا مگر رب اعلیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور وہ عنقریب راضی ہو جائے گا۔”
حضور اکرم ۖ نے حضرت ابو بکر صدیق کی مالی قربانیوں کو سراہتے ہوئے فرمایا ” ہم پر کسی کا احسان نہیں جس کا بدلہ ہم نے نہ دے دیا ہو مگر ابو بکر صدیق کہ ان کا جو احسان ہمارے ذمہ ہے اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دے گا اور کبھی کسی کے مال نے وہ نفع مجھ نہیں دیا جو ابو بکر صدیق کے مال نے دیا”’حضر ت ابو بکر اس ارشاد مبارک کو سن کر رو دیئے اور کہا ،”یارسول اللہۖ کیا میرا مال آپۖ کا مال نہیں۔”
ایک اور موقع پر حضور علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ”جن لوگوں کا میرے اوپر محبت اور مال میں سب سے زیادہ احسان ہے ان میں ابو بکر ہیں اور اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا ، لیکن اسلامی اخوت و محبت کا رشتہ کافی ہے ۔”
رسول اکرمۖ نے حضرت ابوبکرصدیق کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔
اے ابوبکر بارگاہ الٰہی سے تم کو سب سے بڑی خوشنودی عطا ہوئی… د ریافت کیا سب سے بڑی خوشنودی کیا ہے؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کے لئے تجلی عام فرمائے گااور تمہارے لئے تجلی خاص۔
حضرت عمر بن یاسر فرماتے ہیں ‘ نبی اکرمۖ نے فرمایا ”میرے پاس ابھی حضرت جبرائیل امین علیہ السلام تشریف لائے تو میں نے کہا جبرائیل علیہ السلام مجھے عمر بن خطاب کے فضائل بیان کرو ‘ انہوں نے کہا یارسول اللہۖ اگر میں آپۖ کو اتنا عرصہ عمر فاروق کے فضائل بیان کروں جتنا عرصہ حضرت نوح نے اپنی قوم میں قیام فرمایا یعنی ساڑھے نو سو سال تو عمر کے فضائل ختم نہیں ہوں گے ۔
ایک بار رسول اللہۖ نے فرمایا میں جب معراج پر گیا تو آسمانوں کی سیر کے دوران مجھے ہر آسمان پر اپنا نام محمد رسول اللہۖ اور اس کے بعد ابوبکر صدیق لکھا ہوا دکھائی دیا۔
ایک اور بیان میں موجود ہے کہ ایک بار رسول اکرمۖ نے بتایا کہ دنیا میں تین سو ساٹھ اچھے خصائل ہیں اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے حوالے سے دریافت فرمایا”یا حبیب اللہ ۖ کیا ان خصائل میں سے کوئی مجھ میں بھی ہے؟” تو حضور ۖ نے فرمایا ”ابوبکر یہ تمام اچھے خصائل تجھ میں ہی تو ہیں۔”
یہ حضورۖ کا حضرت ابوبکر صدیق پر اعتماد ہی تھا کہ آپۖ نے اپنے آخری ایام میں حضرت ابوبکر صدیق کو نماز کی امامت کا حکم دے کر امت کو ایک واضح اشارہ دے دیا کہ آپۖ کے ظاہری وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کو خلیفہ منتخب کیا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق اپنی جانثاریوں ‘ قربانیوں ‘ فہم و فراست ‘ ایمانداری کے باعث اللہ کے رسول ۖ کے دست راست اور معتمد ساتھی تھے۔ اس حوالے سے دوسرا کوئی بھی صحابی ان کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا… اس کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق ہی اسلام کے سب سے بڑے محسن اور نبوت کے اسرار کے محرم راز تھے’ اپنے بعد اپنی امت کی رہنمائی کے لئے حضور ۖ کو حضرت ابوبکر صدیق سے بہتر کوئی انسان نظر نہ آیا۔